143

خیبرپختونخوا کی معیشت

مالی سال2018-19ء کے پہلے4ماہ کیلئے خیبرپختونخوا کا بجٹ پیش کردیاگیا ہے بجٹ کا حجم 1کھرب98ارب90 کروڑ روپے ہے صوبائی حکومت نے بھی اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں وفاق کی طرح 10فیصد اضافہ کیا ہے اسی طرح ہاؤس رینٹ میں50فیصد اضافے کیساتھ کم از کم پنشن10ہزار روپے مقرر کردی گئی ہے قابل اطمینان ہے کہ ترقیاتی پروگرام کیلئے طے ہونیوالی حکمت عملی میں جاری منصوبوں کو ترجیح قرار دیدیا گیا ہے اسی طرح بیرونی امداد سے چلنے والے منصوبوں کیلئے ترجیحی بنیادوں پر رقوم فراہم کی جائینگی بلین ٹری سونامی کیلئے فنڈز بھی مختص ہوئے ہیں جبکہ بیرون ملک علاج‘دوروں اور نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے صوبائی کابینہ سے بجٹ کی منظوری کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیر خزانہ عبدالرؤف خٹک نے کہاکہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں آئندہ چارماہ کیلئے53.1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں خیبرپختونخوا اپنے مخصوص جغرافیے اور خطے کی صورتحال کے باعث تعمیر و ترقی خصوصاً انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے کنکریٹ اقدامات کا متقاضی چلا آرہا ہے معیشت کو استحکام دینے کیلئے پن بجلی منافع کے بقایا جات سمیت صوبے کے دیگر واجبات کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔

ضروری تو یہ بھی ہے کہ صوبے کی صنعت کو مختلف مراعات اور سہولیات پر مشتمل پیکج دیا جائے فاٹاکے خیبرپختونخوا میں انضمام کیساتھ وسائل کی فراہمی بھی ناگزیر ہے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی اور امن وامان کی صورتحال کے تناظر میں اکانومی کو پہنچنے والے نقصانات تلافی کے متقاضی ہیں این ایف سی ایوارڈ اور مشترکہ مفادات کونسل میں بہت سارے ایسے امور یکسو ہوناہیں کہ جن سے اس صوبے کی اکانومی میں بہتری آسکتی ہے ان سب باتوں پر حسب ضرورت توجہ مرکوز نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خود صوبہ اربوں روپے کا مقروض ہوگیاایسے ہی ضرورت تکنیکی مہارت کے حامل فنانشل ڈسپلن کی تھی جس کی ایک جھلک4ماہ کے بجٹ میں بیرون ملک علاج‘ ورکشاپس اور سیمیناروں میں شرکت‘ اعلیٰ ہوٹلوں میں نشست وبرخاست پر مشتمل ورکشاپس پر پابندی کی صورت نظر آرہی ہے تاہم ابھی بہت کچھ مزید کرنے کی گنجائش باقی ہے اقتصادی امور میں بہتری کیلئے صوبے اور وفاق کے ذمہ دار دفاتر کے درمیان قریبی رابطہ بھی ناگزیر ہے اس سب کیساتھ جاری منصوبوں کی مقررہ تخمینہ لاگت کے اندر تکمیل بھی ناگزیر ہے جس کیلئے کڑی نگرانی کا انتظام کرنا ہوگا۔

تعلیم کا معیار؟

فروغ تعلیم اولین ترجیح قرار پانے اور اربوں روپے کے بجٹ مختص ہونے کے باوجود پشاور بورڈ کے میٹرک نتائج میں کسی سرکاری سکول کا کوئی طالب علم ٹاپ 20میں بھی نہ آسکا یہی وہ فاصلہ ہے جوحکومتی اعلانات اور انکے عملی نتائج کے درمیان ہے یہ فاصلہ ایجوکیشن کے ساتھ دوسرے شعبوں میں بھی نمایاں دیکھا جاسکتا ہے جبکہ دوسری جانب پرائیویٹ اداروں کے بچوں کے حاصل کردہ نمبر ماضی کے ریکارڈ توڑتے نظرآتے ہیں اور نمبروں کا سکور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے65.80 فیصد کے نتیجے میں52 ہزار طلبہ فیل ہوئے کیا یہ وقت کی ضرورت نہیں کہ ذمہ دار حکام اورماہرین تعلیم پر مشتمل خصوصی کمیٹی ان نتائج کے تناظر میں پوری صورتحال کاجائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے اس میں خامیوں اور سقم کی نشاندہی کی جائے تاکہ مستقبل میں اربوں روپے کے ضیاع کو روکنے کیساتھ تعلیم کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔