131

2ڈیم بنانے پر اتفاق

چیف جسٹس آف پاکستان نے گزشتہ روز ایک کیس کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں بتایا ہے کہ وطن عزیز میں2ڈیم بنانے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے ان آبی ذخائر کیلئے فنڈز کی فراہمی سے متعلق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرضہ معافی کیس میں وصول ہونیوالی رقم استعمال میں لائی جائیگی قرضہ معافی کیس میں بعض کمپنیوں نے75فیصد رقم واپس کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے اس مد میں مجموعی طورپر54ارب روپے کی ریکوری متوقع ہے عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ نادہندگان کے کیسوں میں دوسرا آپشن کیس بینکنگ کورٹ جانے کا ہے جو صرف3روز میں فیصلہ کرے گی اس ضمن میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بینکنگ کورٹس جانے والے کیسوں میں متعلقہ افراد کی جائیدادیں کیس سے منسلک کردی جائینگی اور کورٹ کے فیصلے تک معاف کرائی گئی رقم عدالت میں جمع کروانا ہوگی اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے آبی ذخائر پر مطلوبہ توجہ مرکوز نہیں کی کسی ڈیم کو سیاسی اختلاف کے باعث فائل میں بند کردیاگیا تو کسی اور کیلئے سرجوڑ کر فیصلے کرنیکا وقت ہی نہیں نکالاگیا بات یہاں تک پہنچی کہ عالمی ادارے قلت آب سے متعلق وارننگ جاری کرنے لگے ۔

دوسری جانب کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی اور اندرون ملک تجارتی خسارے اور دیگر بدانتظامی کی شکار معیشت میں اربوں روپے کے قرضے ہڑپ کرلئے گئے بینکوں اور حکومتی اداروں کا سارا زور تعلیم اور دوسری ضروریات کیلئے دوچار لاکھ روپے قرضہ لینے والوں سے ریکوری پر رہاکیونکہ یہ سادہ لوح شہری قرض ہڑپ کرنے کا طریقہ نہ جانتے تھے خواتین کے چند ہزار روپے کے عوض بینکوں میں پڑے زیورات تو باقاعدگی کیساتھ نیلام ہوتے رہے تاہم اربوں روپے دبا کر شاندار گاڑیوں میں گھومنے والوں کو کسی نے نہ پوچھا اس ساری صورتحال میں آبی ذخائر سمیت انتہائی اہمیت کے حامل معاملات بھی نظرانداز ہوگئے غریب ہر مشکل کاشکار ہوتارہا اور نوازا ہوا طبقہ اپنے اثاثے بڑھاتا رہا وقت آگیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کیساتھ مستقبل کی حکمت عملی طے کریں بصورت دیگر ہماری اکانومی بری طرح متاثر ہوگی اور قلت آب کیساتھ جڑے مسائل مزید شدت اختیار کرتے جائینگے۔
مہاجرین کے قیام میں توسیع

وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت مزید تین ماہ بڑھا دی ہے اس مدت میں مزید توسیع کا معاملہ اگلی حکومت پر چھوڑ دیا گیا ہے کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں مدت قیام میں توسیع کی سہولت صرف رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو حاصل ہوگی توسیع کا فیصلہ درست یا غلط ہے اس بحث میں پڑے بغیر اس سے جڑے دیگر دیگر معاملات توجہ کے متقاضی ضرور ہیں ان میں سے ایک خیبرپختونخوا کے انفراسٹرکچر پر مہاجرین کے باعث مرتب ہونیوالا بوجھ ہے صوبے میں خدمات کے ادارے پہلے ہی آبادی کے دباؤ اور وسائل کی کمی کے باعث مشکلات کاشکار ہیں افغان مہاجرین کو مدت قیام میں توسیع دینے کیساتھ ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی فنڈز جاری کئے جائیں یہاں کے تمام سٹیک ہولڈر اداروں سے مہاجرین کے قیام سے متعلق مشکلات کا پوچھا جائے اور انکے حل کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔