75

بال کی کھال

نہ جانے بعض لوگ ہر شے میں بال کی کھال نکالنے کے کیوں عادی ہوتے ہیں ؟قانونی موشگافیوں سے ان لوگوں کو جیل جانے سے بچانے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے کہ جنہوں نے غیرقانونی اور ناجائز طریقوں سے دھن اکٹھا کیا ہوتا ہے ؟ بڑی سیدھی اور سادہ سی بات ہے اوراسے جاننے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی قطعاً ضرورت نہیں کتابوں میں لکھا ہے اور بزرگوں سے ہم نے سنا ہے کہ جس کسی کے پاس بھی دولت کے انبار دیکھو تو سمجھ لو کہ اس نے کسی نہ کسی جگہ ڈنڈی ماری ہے ؟ کسی نہ کسی ترقیاتی منصوبے میں کمیشن کھائی ہے یا رشوت بٹوری ہے یا تو اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کی ہے یا پھر بلیک مارکیٹنگ سے اپنی تجوریاں بھری ہیں یا تو کسی مجبور بے کس اور لاچار کی اراضیات پر قبضہ کیا ہے اور یا پھر اگروہ کسی پیشے سے منسلک ہے تو اس نے اپنا ہنر عوام پر بڑا مہنگا بیچا ہے یا تواس نے ٹیکس کی وہ رقم مختلف حیلوں اور حربوں سے بچائی ہے جو اسے سرکاری خزانے میں جمع کرانی چاہئے تھی یا پھروہ سمگلنگ کا کاروبار کرتا ہے اور یامنشیات کی فروخت کا وغیرہ‘یہ محلات نما گھر یہ لمبی اور چوڑی گاڑیاں ‘ یہ کئی کئی منزلہ پلازے یہ وسیع و کشادہ فارم ہاؤسز یہ یوں ہی تو نہیں حاصل ہو جاتے اس ملک کے صدور ‘ وزرائے اعظم گورنر اور وزرائے اعلیٰ اور اعلی بیورو کریٹس کے پاس وسیع انتظامی اورمالی اختیارات ہوتے ہیں کیا وجہ ہے کہ کوئی ذوالفقار علی بھٹو ‘ غلام اسحاق خان ‘ ملک معراج خالد ‘ سردار عبدالرب نشتر ‘ خان عبدالقیوم خان ‘ ڈاکٹر خان صاحب ‘ مفتی محمود‘ محمد خان جونیجو‘ چوہدری محمد علی ‘ لیاقت علی خان وغیرہ کے بارے میں کیوں نہیں کہتا کہ انکے پاس اندرون ملک یابیرون ملک کھربوں کی جائیداد ہے یا بیرون ممالک میں بینکوں میں انہوں نے اربوں ڈالر انویسٹ کر رکھے ہیں ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں نہ فالتو پیسہ بنایا اور نہ اس میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ان رہنماؤں میں دیگر کئی اور خامیاں ضرور ہوں گی لیکن وہ کم از کم مالی طور پر بددیانت نہ تھے بد قسمتی سے اس ملک کا قانون ہی ایسا ہے کہ جسکے تحت قانونی موشگافیوں کے ذریعے اکثر ملزموں کو جیل کی سلاخوں سے باہر نکال لیا جاتا ہے نہ جانے آئین بنانے والوں نے بڑے بڑے لوگوں کو بعض امور میں استثنیٰ کیوں فراہم کیا ہے ؟ جس ملک کا قانون اس کلیے کو اپنا محور بنا لے کہ بے شک دس میں سے نو گناہگار چھوٹ جائیں توکوئی مضائقہ نہیں ۔

لیکن ایک بے گناہ کو سزا نہ ہو وہاں ظاہر ہے کہ فائدہ تو مجرموں کو ہی ملے گا اگر استغاثے کے وکیل سے کسی مقدمے کی پیروی کے دوران رتی بھر بھی کوئی غلطی ہو جائے یا اس میں کوئی سقم رہ جائے تو صفائی کے وکلاء اس سے فائدہ اٹھاکر اس کو کیش اس طرح کرتے ہیں کہ و ہ جج کو مجبور کردیتے ہیں کہ شک کا فائدہ انکے موکل کو ملے‘ بعض لوگ کہتے ہیں کہ 25 جولائی2018ء کو عوامی عدالت لگے گی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا خدا کرے کہ 25 جولائی کے دن عوام میں اتنا شعور ضرور پیدا ہو جائے کہ وہ گھوڑے اور گدھے میں تمیز کر سکیں وہ اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ ڈالیں اور برادری وغیر ہ کو بھول کر اس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں کہ جس نے یا جسکی پارٹی نے ماضی میں اسے نہیں لوٹا۔
انہیں شاعر مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر اپنے پیش نظر رکھنا ہو گا۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اگر اسی پرانی قماش کے لوگ ایک مرتبہ پھر ا ن پر حاکم بن گئے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ۔