534

پشاور دھماکہ ٗ خیبر پختونخوا میں انتظامی تبدیلیوں کا فیصلہ

پشاور۔خیبر پختونخوا حکومت نے اے این پی کے جلسے میں ہونے والے خود کش بم دھماکے اور اے این پی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر بشیر احمد بلورکے صاحبزادے ہارون بلور سمیت 20 سے زائد افراد کی شہادت کا نوٹس لیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اورآئی جی پی کو تبدیل کر نے کا فیصلہ کیا ہے اس سے قبل کمشنر پشاور شہاب علی شاہ اور سیکر ٹری داخلہ اکرام اللہ خان کو بھی تبدیل کر نے کی ہدایت کی گئی تھی اورایک ہفتے قبل چیف سیکر ٹری کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ کمشنر پشاور کی خدمات وفاقی حکومت کے سپرد کی جائیں اور سیکر ٹری داخلہ کو او ایس ڈی بنا یا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کے تبادلے کے لئے وفاق کو سمری ارسال کردی گئی ۔ اس سلسلے میں نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمدخان نے و فاقی حکومت اور چیف الیکشن کمیشن سے رابطہ کرنے کے بعد سمری وفاق کو ارسال کردی ہے۔

نگران حکومت کی جانب سے چیف سیکر ٹری اورآئی جی پی پر بھی پیشہ ورانہ امور میں دلچسپی نہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے ، سمری میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شب پشاور میں اے این پی کے جلسے پر خود کشی بم حملے اور اس میں ہارون بشیر بلور سمیت دیگر بے گناہ افراد کی شہادت اور تین درجن افراد کے زخمی ہونے کے افسوسناک واقعے کے بعد صوبائی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں وزیر اعلیٰ خود موجود تھے خط میں کہا گیا کے چیف سیکرٹری کو آج تک جتنے بھی اہم معاملات اور ٹاسک حوالے کئے گئے ہیں لیکن انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔

اس لئے فوری طور پر انہیں تبدیل کرکے ان کی جگہ گریڈ 22 کے پی اے ایس آفیسر سیکر ٹری اکنامک افےئر ڈویژن اسلام آباد احمد حنیف اورکزئی کی خدمات صوبے کے حوالے کی جائیں تاکہ انہیں چیف سیکرٹری لگا یا جا سکے خط میں آئی جی پی محمد طاہرکی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی جی پی اپنا ٹاسک پورا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اس لئے انہیں بھی تبدیل کرکے ان کی جگہ پی ایس پی گریڈ 21 کے آفیسر اور ایڈیشنل آئی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم کی خدمات خیبر پختونخوا کے حوالے کی جائیں تاکہ انہیں صوبے کا نیا آئی جی پی لگایا جا سکے۔