65

چینی کا طوطی اور ٹرمپ ٹاور

ان دنوں توچاردانگ عالم میں بقول کسے چین کا طوطی بول رہا ہے اور صاحبو ایک نہیں چین کے تو سینکڑوں طوطی بول رہے ہیں‘ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اتنے طوطی بول رہے ہیں... میرا طوطوں کے بارے میں علم قدرے محدود ہے لیکن پلیز کوئی صاحب طوطا علم مجھے آگاہ کردے کہ کیا یہ والے طوطے جو توتے ہوتے ہیں میاں مٹھو ہوتے ہیں تو کیا انکی صنف مخالف طوطی کہلاتی ہے یا پھر یہ طوطی جو بولتا ہے کوئی اور طوطی ہے... یعنی بقول سلیم کوثر میں طوطا ہوں کسی اور کا... میری طوطی کوئی اور ہے... بہرحال چین چھاگیا ہے صاحبو... واحد ملک ہے جس کا امریکہ صاحب بہادر مقروض ہے اور چین پچھلے قرض کا تقاضا نہیں کرتا امریکہ کے عام لوگوں کیلئے روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء مسلسل سپلائی کررہا ہے... نہ کرے تو ان اشیاء کی قیمتیں تین گنا زیادہ ہو جائیں اور امریکی بغاوت کردیں .. چنانچہ زلف دراز اور زبان دراز‘ کراؤن پرنس سلمان کا فیورٹ آقا یعنی ٹرمپ ٹاور...معاف کیجئے گا ڈونلڈ ٹرمپ بھی چینی صدر کے سامنے دم نہیں مارتا بلکہ یا ہویاں نہیں مارتا کہ اسکا مقروض ہے اور ہاں میں جو روانی میں ٹرمپ ٹاور کہہ گیا تو اسکے ساتھ بھی ایک لذیذ حکمت جڑی ہوئی ہے میں پچھلے دس بارہ برسوں میں متعدد بار امریکہ گیا اور میں حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ ائرپورٹ پر امیگریشن افسر نے ہمیشہ دوچارمنٹ میں مجھے فارغ کردیا... پاسپورٹ پر چھ ماہ قیام کا ٹھپہ لگادیا اور کہا سرمجھے امید ہے کہ آپ اپنے قیام سے لطف اندوز ہونگے اور حلفیہ بیان یہ دیتا ہوں کہ کبھی میری شلوار میرا مطلب ہے پتلون نہیں اتروائی گئی یہ رتبہ بلند جسے مل گیا سو مل گیا... تو ہمارے سابق وزیراعظم اباسی صاحب کو مل گیا ایک تو میرے ہجے بہت کمزور ہیں۔

اباسی نہیں عباسی صاحب... اور پھر سبحان اللہ انکے وزیر بے تدبیر کیسی کیسی شاندار توجیہیں پیش کر رہے ہیں کہ وزیراعظم تو ایک پرائیویٹ سلسلے میں امریکہ گئے تھے اور انہوں نے امریکی قوانین کی پاسداری کی نہایت درخشاں مثال قائم کی اور کپڑے اتاردیئے... ایسا درویش وزیراعظم آسانی سے کہاں دستیاب ہوتا ہے... مخالفین یونہی غوغا کرتے ہیں یعنی جب وہ ذاتی حیثیت میں امریکہ گئے تو ایک عام شخص کے طورپر گئے وزارت عظمیٰ کا چوغا امانتاً صدر ممنون حسین کے سپرد کرگئے کہ واپس آؤنگا تو پھر پہن لونگا... بہرحال میں بات ٹرمپ ٹاور کے حوالے سے کر رہا تھا... میں حسب عادت ہر صبح نیویارک میں جوگرچڑھا کر اپنے بیٹے سلجوق کے فلیٹ سے نکل کر سیر کیلئے نکل جاتا... سیر کے اختتام پر کسی مناسب ریستوران میں ناشتہ بھی کرلیتا اور یوں گھر واپسی پر میری بہو میرا والہانہ استقبال اسلئے کرتی کہ شکر ہے سسر صاحب ناشتہ کرآئے ہیں ورنہ میں ان بابا جی کیلئے کہاں پنیر کا آملیٹ وغیرہ تیار کرتی...تو ایک روز میں سنٹرل پارک میں سیر کرکے گھر کیلئے لوٹنے لگا تو محسوس ہوا کہ کچھ بوجھ سا بڑھ گیا ہے... فراغت کا تقاضا کرتا ہے اور فی الفور فراغت کا طلبگار ہے...سنٹرل پارک میں کوئی ایسا مقام نہ ملا جہاں میں کھلے عام پاکستانی کی مانند اس آبی فرض سے سے سبکدوش ہوسکتا...ادھر ادھر سے پوچھا تو بھی کسی مقام کی نشاندہی نہ ہوسکی تب میں نے’’ پلے بوائے‘‘ کے دفتر کے باہر کھڑے ایک نہایت فربہ کالے شاہ کالے دلدار سے پوچھا کہ...

معاف کیجئے ادھر کہیں کوئی ٹائلٹ ریسٹ روم وغیرہ ہے تو وہ کچھ بڑبڑایا... کہ... ففتھ ایونیو پرٹمپ ٹمپ ٹاور... یعنی ففتھ ایونیو پر ٹرمپ ٹاور ہے وہاں چلے جاؤ اور یاد رہے ان زمانوں میں آقا ٹرمپ کو گمان بھی نہ تھا کہ کبھی وہ وائٹ ہاؤس میں گھس جائیگا . . . ففتھ ایونیو پر واقع ٹرمپ ٹاور کی عمارت آسمان سے باتیں کرتی تھی... میں نے غور سے نہیں سنا کہ کیا باتیں کرتی تھی‘ میں اسکے اندر داخل ہوا تو اسکا اندرون بے حد ٹھرکیلا اور واہیات تھا... جیسے نودولتیوں کے عالی شان گھر ہوتے ہیں یا سعودیوں کے سنہری محل ہوتے ہیں یارائے ونڈ کے قصر ہوتے ہیں‘ امارت کا ٹھرکیلا پن‘ ذوق جمال سے عاری... بہرطور میں اس سویر ٹرمپ صاحب کا شکر گزار ہوا‘ ان کے ٹاور کے ایک غسل خانے میں قدم رنجہ فرما کر اپنے آپکو دل کھول کر فارغ کیا‘ اب سوچتا ہوں تو اپنی قسمت پر نازاں ہوتا ہوں کہ کہاں میں اور کہاں یہ مقام ... میں وہ ہوں جس نے کبھی حالیہ صدر امریکہ کے تعمیر کردہ غسل خانے میں فراغت حاصل کی تھی‘ امریکہ کے سپرسٹورز اور شاپنگ مال میں‘ گلیوں بازاروں میں تقریباً ہرشے’’ میڈان چائنا‘‘ ہے لطف تب آیا جب میں نے لیڈی لبرٹی یعنی مجسمہ آزادی کی زیارت کرنے کے بعد سونیئر کے طوپر ایک سٹال سے مجسمہ آزادی کی ایک بالشت بھر نقل خریدی اور اسکے پیندے میں بھی’’ میڈ ان چائنا‘‘ لکھا تھا... انہی دنوں امریکی اخباروں میں ایک کارٹون شائع ہوا کہ ایک صاحب ابراہم لنکن کے جہازی سائز کے مجسمے کو ایک کونے سے پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو ایک مسلح گارڈ پوچھتا ہے کہ یہ تم کیا کر رہے ہو! تو یہ صاحب کہتے ہیں کہ میں لنکن کے مجسمے کے نیچے جھانکنے کی کوشش کر رہاہوں کہ کہیں اس کے پیندے میں بھی’’ میڈان چائنا‘‘ تو نہیں لکھا ہوا‘ امریکہ پر کیا موقوف دنیا بھر میں یہ چین ہی ہے جو چین کی نیند سوتاہے کہ اسکی مصنوعات بیدار ہیں اور ہر سوراج کرتی ہیں اور تو اور آپ حج کیلئے جائیں یا عمرہ ادا کرنے جائیں واپسی پر مصلےٰ چین کا‘ تسبیح چین کی یہاں تک کہ مقدس رومال اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے ماڈل بھی چین کے...

البتہ قربانی کے بکرے میرا گمان ہے کہ ابھی تک آس پاس کے ملکوں کے ہیں‘ کوئی دن جاتا ہے کہ انکی جگہ ایسے بکرے آجائینگے جو باں باں کی بجائے چاں چاں کر رہے ہونگے... چلئے دور کیوں جانا اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیر لیتے ہیں‘ لاہور کی شاہ عالمی مارکیٹ میں چینی خواتین خوانچے لگائے بیٹھی ہیں... یہاں تک کہ برانڈرتھ روڈ پر بھی چینی حضرات کانزول ہوچکا ہے اظہار الحق نے مستقبل کے پاکستان کا جو چینی نقشہ کھینچا ہے اسکی ابتدا ہو چکی ہے اگلے روز کارریڈیو کے بٹن دبائے تو وہاں اردو میں ایک چینی چینل کی چوں چوں ہو رہی تھی‘ چینی تاریخ اور زبان کی فضلیت بیان ہو رہی تھی میرے ایک دوست جو بیورو کریسی میں بہت اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور اکثر کوریا اور چین وغیرہ سرکاری طورپر جاتے رہتے ہیں انہوں نے ایک خفیہ بات کی تو آپ سے کیا پردہ‘ کہنے لگے تارڑ صاحب ایک زمانہ آنے کو ہے جب آپ امریکیوں کو یاد کرینگے امریکی جہاں جاتے ہیں کبھی نہ کبھی واپس چلے جاتے ہیں چینی جہاں جاتے ہیں وہاں سے واپس نہیں آتے... نہ سنکیانگ سے‘ نہ تبت سے‘ واپس نہیں جاتے... میں ان دنوں کی جانب لوٹتا ہوں جب چین کا طوطی منقار زیر پر تھا... بولتا ہی نہ تھا... بولتا توامریکہ اور مغرب اسکی گیچی گھونٹ دیتے‘ کسی کو کچھ پتہ نہ تھا کہ چین کہاں ہے کیا ہے‘ کیوں ہے اور ایک لانگ مارچ کے بعد ماؤزے تنگ نام کے ایک شخص نے پورے چین کو فتح کرکے چیانگ کائی شیک کو شکست دی ہے اور وہ فرار ہو کر فارموسا چلا گیا ہے وہاں امریکیوں کی ہلاشیری سے تائیوان نام کا ایک الگ چین قائم کرلیا ہے... ان زمانوں میں ایک امریکی صحافی ریڈگرسنو کی کتاب’’ ریڈ سٹاراوورچائنا‘‘ شائع ہوئی جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا... میرے پاس اسکا پہلا ایڈیشن آج بھی کہیں موجود ہے...