86

پشاور خودکش دھماکہ

پشاور شہر کے گنجان آباد علاقے یکہ توت میں ہونیوالے خودکش دھماکہ میں تادم تحریر شہید ہونیوالوں کی تعداد20بتائی جارہی ہے جن میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78کے امیدوار ہارون بلور بھی شامل ہیں‘ وطن عزیز کی سیاست میں اہم مقام کے حامل بلور خاندان کے چشم وچراغ اور سابق صوبائی وزیر بشیر بلور کے صاحبزادے ہارون بلور کارنر میٹنگ سے خطاب کرنے آئے تو خودکش حملہ آور نے گلے ملتے ہی دھماکہ کردیا‘ پولیس کے مطابق دھماکے میں غیر ملکی ساختہ 8کلو ٹی این ٹی بارودی مواد استعمال کیاگیا‘ ہارون بلور 2002ء میں پشاور کے ٹاؤن ناظم منتخب ہوئے جبکہ بعد میں اپنے والد کی شہادت کے بعد محکمہ بلدیات کیلئے مشیر کے طورپر بھی کام کیا‘ پولیس کے مطابق ہارون بلور کی سکیورٹی کیلئے دو اہلکار تعینات تھے جبکہ ان کے والد پہلے دھماکے میں شہید ہوچکے ہیں دھماکہ میں شہید ہونے والوں کی تدفین کے موقع پر پشاور کی فضاء سوگوار رہی جبکہ وزیر اعلیٰ نے شہداء اور زخمیوں کیلئے24گھنٹے میں معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے‘ دریں اثناء نگران حکومت نے صوبائی دارالحکومت میں دھماکہ کے ساتھ ہی ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

اجلاس کی صدارت نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) دوست محمد خان نے کی اور غفلت کے مرتکب حکام کا فوری تعین کرنے کا حکم دیا‘ ایک ایسے وقت میں جب ملک عام انتخابات کے اہم مراحل سے گزر رہا ہے‘ صوبائی دارالحکومت میں ہونیوالے خودکش دھماکہ کیساتھ ایک بارپھر پشاور کی فضاء سوگوار اور خوف کا شکار ہو گئی ہے‘ایسے میں امن وامان کے حوالے سے انتہائی مشکلات سے گزرنے والے صوبائی دارالحکومت میں عام انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں‘ اے این پی کے رہنما غضنفر بلور کہتے ہیں کہ ہارون بلور سے سکیورٹی واپس لی گئی جسکے باعث وہ دہشت گردی کا نشانہ بنے‘ سکیورٹی انتظامات پر نظر ثانی اور الیکشن کے حوالے سے دیگر اقدامات اپنی جگہ‘ ضرورت پولیس سٹیشن کی سطح پر سیاسی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان باہمی رابطے کی ہے‘یہ کارکن موقع پر موجود رہتے ہوئے پولیس کو تعاون فراہم کرسکتے ہیں‘کسی بھی شہر میں سکیورٹی انتظامات میں کمیونٹی کی شرکت سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان تکرار روکنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے‘ یہ تکرار پشاور میں ناکوں اور دوسرے مقامات پر اکثر دیکھی جا سکتی ہے۔

ادھورے منصوبے؟

خیبرپختونخوا کے وسیع وعریض جغرافیے اور بڑی آبادی کیلئے واحد برن سنٹر نے آپریشن شروع نہیں کیا‘اپنی نوعیت کا واحد کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ بھی مکمل ہو کر سروسز فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوسکا‘ اسی طرح بعض دیگر ایسے تعمیراتی کام بھی مکمل ہونا ہیں کہ جن کی تکمیل خدمات سے جڑی ہے‘ برن سنٹر اور کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ ایسے پراجیکٹ ہیں جن کی ضرورت کا صحیح اندازہ بیماریوں اور حادثات کا شکار ہونے والوں ہی کو ہوسکتا ہے‘ صوبائی دارالحکومت کے گنجان علاقے نشتر آباد میں ایک بڑی عمارت سروسز فراہم کرنے کے قابل بنائے جانے کی ضرورت اپنی جگہ ہے‘ ذمہ دار محکموں کو کسی ڈیڈلائن کا انتظار کئے بغیر خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا تاکہ قومی سرمائے کا ضیاع روکا جاسکے اور شہریوں کو خدمات مل سکیں۔