115

فنانس ترمیمی بل کی منظوری

قومی اسمبلی میں ضمنی بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیاگیا ہے‘ فنانس ترمیمی بل کیلئے پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل کی تمام ترامیم مسترد کردی گئی ہیں‘ ایوان بالا کی جانب سے پیش کی گئی 27میں سے ایک سفارش کو منظور کیاگیا ہے‘ حکومت نے خود نان فائلرز کے حوالے سے اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے‘ اس اقدام کے نتیجے میں نان فائلرز پر جائیداد اور گاڑی خریدنے کی پابندی ہوگی‘ تاہم اس مرتبہ کچھ رعایتیں دیدی گئی ہیں‘ اس سب کیساتھ ترمیمی بل منظور ہونے پرکھانے پینے کی 1800اشیاء سمیت مجموعی طور پر 5ہزار 900لگژری اشیاء اضافی ڈیوٹی عائد ہونے سے مہنگی ہو گئی ہیں‘ اس طرح تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیب 6سے بڑھا کر 8کردیئے گئے ہیں‘ وزیرخزانہ وارننگ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ امیر لوگ ٹیکس نیٹ میں آجائیں ورنہ سخت ایکشن ہوگا‘دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے کریک ڈاؤن کاآغاز کرتے ہوئے 169نان فائلرز کو نوٹس بھجوا دیئے ہیں‘ اس ضمن میں بینکوں سے تفصیلات بھی طلب کرلی گئی ہیں‘ عین اسی روز جب قومی اسمبلی ضمنی بجٹ کی منظوری دے رہی تھی نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 16پیسے اضافہ کردیا۔

یہ اضافہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیاگیا ہے‘ وطن عزیز میں معیشت کی بدحالی سے انکار نہیں کیاجاسکتا ملک چلانے کیلئے بعض فیصلے ضروری ہوتے ہیں تاہم ہر فیصلے میں عوام پر سارا بوجھ ڈالنا ضروری نہیں ہوتا‘ بجلی‘ گیس‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘ اس پر مارکیٹ میں حقیقی کیساتھ مصنوعی گرانی نے طوفان مچا رکھا ہے‘ ملک میں مارکیٹ کنٹرول کیلئے رائج مجسٹریسی نظام کی بحالی مشترکہ مفادات کونسل کے ایجنڈے پر آنہیں رہی‘ اضلاع کی سطح پر انتظامیہ عوامی شکایات پر چند روزہ آپریشن کرتی ہے جس کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے‘ پشاور میں اب بھی ایک کریک ڈاؤن کی تیاری کی جارہی ہے تاہم کسی بھی محکمے کیلئے تنہا محدود وسائل اور مین پاور کیساتھ صورتحال کو مستقل طور پر قابو پانا ممکن نہیں‘ یہ سارا کام اعلیٰ سطح پر موثر حکمت عملی کا متقاضی ہے‘ معیشت کی بحالی ہو یا پھر عوام کیلئے ریلیف‘ اگر صرف ماضی کی غلطیوں اور اعداد وشمار پیش کرنے پر اکتفا کیاجاتا رہا تو عام شہری ریلیف کا منتظر ہی رہے گا جس کیلئے وہ حکومت سے بڑی توقع وابستہ کئے ہوئے ہے۔

پیسکو چیف کی وارننگ

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سربراہ محمد امجد خان نے اپنے ماتحت دفاتر کو صارفین کے خراب میٹر فی الفور تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے‘ جس کی عدم تعمیل پر سخت کاروائی کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے‘ چیف ایگزیکٹو نے بعض ڈویژنوں کی ریکوری پوزیشن اور لاسز پر عدم اطمینان کااظہار کیا‘ ملک میں بجلی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا احساس عام صارف کو بھی ہے‘ اس صارف کو بجلی کی کمی کے باعث لوڈشیڈنگ کیساتھ ترسیل کے نظام میں خرابی اور لائن لاسز پر اضافی لوڈشیڈنگ پر تشویش رہتی ہے‘ یہ شہری ذمہ دار محکمے کو اپنے نظم وضبط میں بہتری کا ہی کہتا ہے‘ چیف ایگزیکٹو پیسکو اگر اپنی ہدایات پر پوری طرح عمل میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو صارفین کی بہت ساری شکایات کا ازالہ ہوگا‘ بہتر ہوگا کہ پیسکو حکام کو اپنا کام کرنے میں تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ہر قسم پریشر سے گریز کیاجائے۔