152

گیس کی قیمتیں‘ ڈومورکا مطالبہ

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے تعینات کردہ 4 سرکاری بینکوں اور 4ریگولیٹری اتھارٹیز کے چیئرمینوں کو ہٹا دیا گیاہے‘ کابینہ نے گوادر ریفائنری معاہدہ منظور کرنے کیساتھ سرکاری املاک کے تحفظ کیلئے کمیٹی بھی قائم کردی‘ عین اسی روز گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا‘یہ اضافہ 10سے 143فیصد تک ہوا ہے‘گھریلو صارفین کیلئے سلیب 3 سے بڑھا کر 7کردیئے گئے‘ سی این جی سیکٹر کیلئے گیس 40فیصد مہنگی کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب ایل پی جی کی درآمد پر عائد 5فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے‘ اس سب کیساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے غریب متاثر ہی نہیں ہوگا‘ اعداد وشمار کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین پر 94ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا‘دریں اثناء خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں کے مقامی بینکوں سے قرضوں کا والیوم 13کھرب روپے سے بھی تجاوز کرگیا ہے‘زرمبادلہ کے ذخائر مزید کمی کیساتھ 8ارب 40کروڑ ڈالر رہ گئے ہیں‘ وطن عزیز کی معیشت سے متعلق تشویشناک منظرنامے میں آئی ایم ایف کی جانب سے مزید سخت فیصلے کرنے کی تجویز دیدی گئی ہے۔

جن میں محصولات بڑھانے کا بھی کہاگیا ہے‘ ڈومور کے مطالبے میں نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا بھی کہا گیا ہے جبکہ آئی ایم ایف ملک میں ٹیکس کیلئے مقررہ اہداف کو بھی ناکافی قرار دیتاہے‘ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ٹیکس کی شرح بڑھے یا کوئی ڈیوٹی عائد ہو‘ سی این جی مہنگی ہو یا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ‘ بوجھ ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے پرہی بڑھتا ہے‘کوئی کارخانہ بجلی اور گیس مہنگی ہونے پر اپنی مصنوعات کے نرخ بڑھانے سے کبھی گریز نہیں کرتا‘ٹیکس کی ہر شرح کئی کئی گنا اضافوں کیساتھ صارفین کو منتقل کردی جاتی ہے‘ ماضی کی بھرتیاں منسوخ کرنا ‘کرپشن کا حساب لینا‘منصوبوں کا آڈٹ کرنا اور گزشتہ ادوار کی غلطیوں سے متعلق نشاندہی کرنا سب اپنی جگہ‘مستقل کیلئے منصوبہ بندی‘کمیٹیاں اور ٹاسک فورسز تشکیل دینا بھی اپنی جگہ درست سہی‘ عوام کی ریلیف کیلئے اقدامات کا ہنوز انتظار کیاجارہا ہے‘ جن کیلئے عام شہریوں نے بہت بڑی توقعات وابستہ کررکھی ہیں‘ حکومت کو دیگر تمام امور کیساتھ اس عام شہری پر گرانی کا بوجھ کم کرنے اور اسے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خصوصی عملی اقدامات یقینی بنانے چاہئیں۔

طلبہ کااحتجاج

پشاور یونیورسٹی میں گزشتہ روز احتجاجی طلباء پر لاٹھی چارج میں 6طالب علم زخمی ہوئے ہیں‘ طلباء فیسوں میں اضافے پر دھرنا دیئے ہوئے تھے‘ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے پیچھے سیاسی جماعتیں ہیں‘ خیبرپختونخوا حکومت واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کا کہہ رہی ہے‘ یونیورسٹیوں کا قیام اور ان میں سہولیات کی فراہمی سٹوڈنٹس ہی کیلئے ہوتی ہے‘ اس میں اگر کسی بھی معاملے پر کوئی اختلافی صورت پیدا ہوتی ہے تو اس کا بہتر طریقہ بات چیت ہے‘ جس میں ایک دوسرے کے موقف کو سنا جائے‘ صوبائی حکومت کے ترجمان کی جانب سے حکومت کی طرف سے کردار ادا کرنے کی پیشکش قابل اطمینان ہے اس پر فوری عمل ہونا چاہئے تاکہ یونیورسٹی میں آئندہ کوئی ناخوشگوار صورتحال نہ پیدا ہونے پائے‘ بات چیت کھلے دل سے ہو جس میں ایک دوسرے کو سنا جائے۔