355

سی پیک کا ازسرنو جائزہ

وزیراعظم عمران خان نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا ازسرنو جائزہ لینے کا اعلان کردیا‘عمران خان اس منصوبے میں بلوچستان کو اس کا جائز حق دینے کا بھی کہتے ہیں‘پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق وزیراعظم کو بلوچستان کے دورے میں سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی اور پاک افغان سرحد پر باڑ میں پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی گئی‘وطن عزیز کی معیشت اس وقت بدترین دور سے گزر رہی ہے‘ اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ کرپشن‘ نااہلیت اور بدانتظامی کے نتیجے میں اداروں کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہے اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ دور حکومت سے اب تک سیاسی تناؤبھی شدت پرہے اس شدت میں بھی بہت سارے معاملات بری طرح متاثر چلے آرہے ہیں‘ اس سارے منظرنامے میں ملک پر قرضوں کا والیوم28 ہزار ارب روپے ہے‘ گردشی قرضوں کی بڑھتی شرح اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے‘ یوٹیلٹی بل غریب اور متوسط طبقے کے لئے اذیت ناک صورت اختیار کرچکے ہیں‘تجارتی خسارہ بڑھ رہاہے‘ مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘گیس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی جاری لہر کو مزیدشدت دے رہا ہے اس ساری صورتحال میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اکانومی کے استحکام کے حوالے سے امید کی ایک کرن ہے‘ ۔

اس منصوبے میں خیبرپختونخوا کے تحفظات و خدشات بھی تھے جن پر سابق دور میں کئی رابطے ہوئے‘ بلوچستان کو بھی اس کا جائز شیئر دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے‘سی پیک پر صوبوں کے تحفظات دور کرنا اور وسیع تر قومی مفاد میں ان کا ازسرنو جائزہ قابل اطمینان ہے‘ وطن عزیز کی معیشت کیلئے اہمیت کے حامل اس پراجیکٹ پر ڈائیلاگ کیساتھ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکز اور صوبوں کے سٹیک ہولڈرز محکموں کو اپنا ہوم ورک اور جاری کام بروقت مکمل کرنے کاپابند بنایاجائے تاکہ منصوبے کے ثمرات جلد از جلد مل سکیں‘ ہوشیار اس بات سے بھی رہنا چاہئے کہ بھارت شروع دن سے سی پیک کے بارے میں بے بنیاد تحفظات اور خدشات اٹھاتا رہا ہے‘سی پیک قومی اہمیت کا حامل ایسا پراجیکٹ ہے جس پر مرکز اور صوبوں کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی ہو‘سیاسی مخالفت کے باوجود اس پراجیکٹ سے متعلق کوئی ابہام نہ ہو‘ صوبوں کو اس حوالے سے اپنے حصے کے انفراسٹرکچر کا کام جلد سے جلد مکمل کرنے کا پابند بھی بنایاجائے۔

ریونیو اہداف میں ناکامی

صوبائی محکمے محصولات کی مد میں اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہے ہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے 2018-19 کے صوبائی بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے بعض نئے شعبوں کو سیلزٹیکس کے دائرے میں شامل کئے جانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے‘ ٹیکس کسی بھی سیکٹر میں عائد ہو اس کابوجھ شہریوں پر ہی منتقل ہوتاہے‘ مرکز اور صوبوں کے اداروں میں یہ طریقہ چلنے لگا ہے کہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے‘بجلی اور گیس کے لائن لاسز ہوں یا ریونیو اہداف میں ناکامی‘پیسے شہریوں سے پورے کئے جائیں‘ اب بھی جبکہ لوگ ریلیف کے منتظر ہیں انہیں ایک ارب پانچ کروڑ کے نئے ٹیکسوں کا بوجھ دینے کی بجائے اداروں میں محصولات سے متعلق اہداف کا حصول یقینی بنایاجائے‘ اس مقصد کیلئے سزا وجزا کا موثر انتظام بھی ضروری ہے۔