85

مشکوک احتساب

انکار اس حقیقت سے نہیں کہ شہباز شریف نیب کو ایک سے بڑھ کر ایک اور کئی ایک بدعنوانی کے مقدمات میں مطلوب ہیں‘ اور ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے جو کہ ایک جاری عمل ہے لیکن اعتراض ہے تو اس بات پر کہ نیب نے شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا گیا ہے لیکن آشیانہ ہاؤسنگ نامی دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا‘ اس عمل کوسیاسی انتقام‘ بدنیتی اور دھوکہ دہی سے تعبیر کیا جا رہا ہے‘باالفاظ دیگر نواز لیگ سمیت حزب اختلاف کا مؤقف یہ ہے کہ اگر شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں گرفتار کیا جاتا تو وہ جائز تھا تو کیا نیب سے تکنیکی غلطی سرزد ہوئی ہے یا پھر جان بوجھ کر ایک ایسی غلطی کی گئی ہے‘ جس سے نیب کا کردار مشکوک ہو جائے اور اس کا فائدہ شریف خاندان کو حالیہ اور مستقبل میں بننے والے کیسز میں بھی ہو! ان دنوں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کی مہم آخری مراحل میں ہے اور ایک ہفتے بعد ضمنی انتخابات کا انعقاد ہونیوالا ہے‘ حکومت مخالف ایک پارٹی کے سربراہ کوجو قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر بھی ہیں‘ ایک کیس میں بلا کر دوسرے کیس میں گرفتار کرنے سے ملک میں بھی سیاسی بھونچال پیدا ہونا فطری امر ہے جبکہ اس اقدام کے ملک کے باہر بھی کوئی خوشگوار اثرات مرتب نہیں ہوں گے اور یہ تصور پختہ ہوگا کہ شہبازشریف کی گرفتاری انتخابی عمل میں انکی پارٹی کو دیوار سے لگانے اور ووٹروں کا ذہن تبدیل کرنے کیلئے عمل میں لائی گئی ہے حالانکہ یہ الزام اور تاثر سنتے ہی بے اختیار ہنسی آتی ہے کہ سیاسی جماعتیں آج بھی اگر کسی کو بے وقوف سمجھتی ہیں‘ تو وہ عوام ہیں‘ کہ جنہیں ووٹ دینے کا شعور نہیں‘اگر پنجاب کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کا ایک قطرہ اور گھر بھی نہیں ملا‘ تو کیا اس سے زیادہ کوئی بات ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے!

صاف پانی کمپنی اور آشیانہ اقبال ہاؤسنگ میں شہبازشریف کو باضابطہ ملزم قرار نہیں جبکہ ان سے تفتیش جاری ہے اور وہ نیب کے طلب کرنے پر ہر بار رضاکارانہ طور پر شامل تفتیش بھی ہو رہے تھے‘ اسلئے ایسا کوئی امکان نہیں تھا کہ وہ شامل تفتیش نہیں ہونگے اسلئے انہیں دوران تفتیش حراست میں لینا لیگی نکتہ نظر سے کسی خاص مقصد کا حصول ہی نظر آتا ہے چونکہ اس وقت ضمنی انتخابات کی مہم جاری ہے جن میں لیگی امیدوار تحریک انصاف کے امیدواروں کے مدمقابل ہیں‘ اسلئے سیاسی حلقے یہ رائے قائم کرنے میں حق بجانب ہیں کہ شہبازشریف کی گرفتاری نواز لیگ کی انتخابی مہم کو متاثر کرنے کیلئے عمل میں لائی گئی ہے‘احتساب کے عمل پر کسی کو اعتراض نہیں اور کرپشن فری معاشرہ دیکھنا ہر پاکستانی کی خواہش ہے مگر انصاف کے تقاضوں کی عملداری میں احتساب کا عمل بے لاگ اور بلاامتیاز ہونا چاہئے اور اس سے کسی کیلئے سہولت اور کسی کیلئے یکطرفہ کڑی سزاؤں کا تاثر پیدا نہیں ہونا چاہئے تب ہی عوام کا احتساب کے عمل پر اعتماد قائم ہوگا۔ بصورت دیگر سیاسی انتقامی کاروائیوں کی کہانیوں سے پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ قبل ازیں ایسا تاثر عام انتخابات کی مہم کے دوران اسوقت پیدا ہوا جب نوازشریف کی نااہلی اور پھر انکی اور انکی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کی سزاؤں سے بھی پیدا ہوا تھا اور بعض سیاسی حلقوں کے مطابق ایسی کاروائیوں سے نوازلیگ کی انتخابی مہم متاثر بھی ہوئی۔ اگر اب شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے بھی ایسا تاثر پیدا ہوتاہے تو نیب خود کو انتقامی سیاسی کاروائیوں کے الزامات سے نہیں بچا پائیگا‘ شہباز شریف کی گرفتاری کو حکومتی ایماء پر ہونیوالی کاروائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے جو احتساب کے ادارے کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ یہ ادارہ پہلے ہی اپنی کارکردگی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کی تنقید کی زد میں ہے‘کسی جمہوری حکومت کیلئے ایسے الزامات سے دامن بچانا آسان نہیں ہوتا اور نہ ہی نیک نامی ہوتی ہے بلکہ اس سے حزب اختلاف متحد ہو کر اصلاحاتی عمل کیلئے خطرہ بن جاتی ہے۔ حزب اختلاف کی صفوں میں پہلے ہی حالیہ عام انتخابات کے نتائج کی وجہ سے اضطراب پایا جاتا ہے جو حکومت مخالف تحریک کے دھارے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

شہبازشریف کی گرفتاری کے تناظر میں نوازشریف اور حمزہ شہباز جوابی اقدامات اور پارٹی کارکنوں کے سڑکوں پر لانے کا عندیہ دے چکے ہیں‘ احتساب عدالت لاہور کے باہر محدود تعداد میں لیگی کارکنوں کی ہنگامہ آرائی ممکنہ حکومت مخالف تحریک کی جانب واضح اشارہ بھی ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین مزید بڑی گرفتاریوں کا عندیہ دیکر پہلے سے گرم سیاسی ماحول کو مزید گرما رہے ہیں‘آنیوالے دنوں میں منتشر اپوزیشن لامحالہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیگی اور حکومت مخالف منظم تحریک شروع کرنے کی فضا ہموار ہوگی۔ حکومت اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں منی بجٹ اور گیس‘بجلی‘ پٹرولیم نرخوں میں کئے گئے اضافہ کے فیصلوں کے باعث پہلے ہی آزمائش سے گزر رہی ہے جسے ملکی سلامتی کے حوالے سے سراٹھانیوالے خطرات سے بھی عہدہ براء ہونا ہے‘اگراس فضا میں نیب کاروائیوں کی بنیاد پر حکومت مخالف تحریک کی لہر بھی اٹھ کھڑی ہوئی تو نئے پاکستان کے ایجنڈے کو عملی قالب میں ڈھالنامشکل ہی نہیں ناممکن ہو سکتا ہے۔