85

سی این جی کی قیمت

ایک اچھے شہری کی طرح ہماری کوشش رہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں عوام کی توقعات کو حوصلہ دینے کی کوشش کریں چھوٹی چھوٹی باتوں کے پیچھے قومی مفاد کی تلاش کریں قربانی کے جذبے کو اجاگر کریں اور عوام میں پیدا ہونیوالی مایوسی کو امید میں بدلنے کے حیلے ڈھونڈیں مگر اب سی این جی میں22روپے فی کلو اضافے کے بعد تو سچی بات ہے کہ ہماری ہمت بھی جواب دے گئی ہے اگر اب بھی وزیرخزانہ یا کوئی اور وزیر یہ کہے کہ سی این جی کی قیمتوں میں اضافے سے غریب آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑیگا تو پھر اپنا یا اسکا سر پھوڑنا جائز ہو جائیگا‘ حکومت پہلے ہی ضمنی بجٹ اور اسکے علاوہ بھی اتنے ٹیکس لگاچکی ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں بچی جس کی قیمت نہ بڑھی ہو‘ بجلی کی قیمت میں اضافہ تو ضمنی الیکشن تک موخر کردیا گیا تھا مگر ایل پی جی اور گھریلو استعمال میں آنیوالی گیس کی قیمتوں میں143 فیصد تک اضافہ کیاگیا‘غریب کے گھر کا چولہا بھی ہزاروں روپے ماہوار میں گرم ہونے لگا تھا اور یہ بھی شاید اکتوبر تک ہی عیاشی میسر ہو سردیوں میں تو گیس ویسے ہی ناپید ہو جاتی ہے‘اب سی این جی کو پٹرول سے مہنگا کرنے کا مطلب ہے کہ روزمرہ ضرورت بالخصوص کچن آئٹم کی قیمتوں اور کرایوں میں فوری اضافہ ہو جائے اگر سی این جی کے نرخ 22 فیصد بڑھے ہیں توتاجر قیمتوں میں30فیصد اضافہ کردینگے‘کرائے اس سے بھی بڑھ جائینگے جہاں تک سی این جی کا تعلق ہے تو یہ صرف گاڑیوں کو چلانے کا ایندھن ہی نہیں ہے بلکہ ماحول دوست فیول ہونے کی وجہ سے دنیا کی ترجیح بھی ہے قارئین کو یاد ہوگا کہ جب دوعشرے قبل سی این جی کو متعارف کرایا گیا اسکا مقصد ماحول کو آلودگی سے بچانا بتایا گیا تھا۔

حکومت ترغیب اور لالچ دیکر لوگوں کو سی این جی سٹیشن قائم کرنے کو راغب کرتی تھی گاڑیوں کیلئے سی این جی کٹ کی درآمد ڈیوٹی فری تھی حکومتوں کی کوشش ہوتی تھی کہ سی این جی کی قیمت پٹرول سے آدھی رہے تاکہ زیادہ سے زیادہ گاڑیوں میںیہی استعمال ہوغالباً ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کیلئے کام کرنیوالی عالمی ایجنسیاں سی این جی کا استعمال بڑھانے کیلئے ریاستوں کو امداد بھی دیتی تھیں پھر یہ ہوا کہ پاکستان میں پٹرول سے چلنے والی کاروں کیساتھ پبلک ٹرانسپورٹ‘ ویگنیں اور بسیں بھی اسی سستے ایندھن پر منتقل ہونے لگیں‘ غیر مصدقہ ورکشاپوں سے غیرمحفوظ سلنڈر فٹ کروانے کی وجہ سے کئی حادثات بھی ہوئے مگر بچت کیلئے ٹرانسپورٹرز نے یہ مہلک مشق جاری رکھی مگر دس سال قبل جب گیس مہنگی اور کم ہونے لگی سی این جی کا ہفتے میں چار دن ناغہ اور دن میں 12 گھنٹے بندش ہونے لگی سٹیشنز پر میلوں لمبی قطاریں شروع ہوئیں تو زیادہ گاڑیاں دوبارہ پٹرول پر شفٹ ہونے لگیں مگر سی این جی بہرحال پٹرول سے سستی ہی تھی اور ٹرانسپورٹ گاڑیاں زیادہ تر اسی پر چلتی رہیں اب تو حکومت نے کمال کی بھی حدکردی گرین انوائرمنٹ کی اب زیادہ ضرورت ہے ایک طرف حکومت اربوں درخت لگانے کا اعلان کر رہی ہے پانی بچانے اور محفوظ کرنے کیلئے تحریک چلا رہی ہے مگر دوسری طرف ماحول دوست ایندھن عوام کی پہنچ سے دور کردیا ہے حکومتی اقدامات سے ہر مزدور کو فرق پڑا ہے حتیٰ کہ قلم کے مزدور یعنی صحافیوں پر بھی بے روزگاری کے دروازے کھل گئے ہیں بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز ڈاؤن سائزنگ کر رہے ہیں ۔

اخبارات کے صفحات کم کر رہے ہیں تجارتی اداروں میں ملازمین کی چھانٹی ہو رہی ہے اوپر سے موٹر سائیکل سواروں پر ہزاروں روپے جرمانے کئے جارہے ہیں غریب کی زندگی عذاب بنتی جارہی ہے ملک اقتصادی طورپر مشکل حالات سے دوچار ہی سہی قوم سے قربانی کا مطالبہ بھی جائز مان لیتے ہیں مگر اس طرح زبردستی نچوڑنے سے توغریب ہی نہیں رہے گا جو حکومت عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے تک آگئی ہو اس سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے کہا جاتا تھا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینگے مگر فی الحال تو بے روزگاری بڑھ رہی ہے سرکاری ادارے بند ہو رہے ہیں ریڈیو جیسے قومی ادارے اور یوٹیلٹی سٹور جیسے عوامی ادارے بوجھ لگنے لگے ہیں ان کو بند کرنے کے منصوبے ہیں اب ان حالات میں حکومت کو کیسے امید افزاء کہا اورلکھا جائے۔