88

بلدیاتی اداروں کی تاریخ اورمستقبل

پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے سربراہان نے ممکنہ معطلی سے بچاؤ کیلئے ہاتھ پاؤں مارناشروع کردیئے ہیں اگرچہ ابھی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور صرف کے پی طرز کے ویلج کونسل اور نیبرہڈ کونسلز کے نظام کو مزید اصلاح کے بعد پنجاب میں بھی نافذ کرنے کی بات کی ہے مگر میئرز اور چیئرمین اس خوف میں مبتلا ہیں کہ انکی چھٹی نہ کرادی جائے حالانکہ تحریک انصاف کی حکومت بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ اختیارات دینے کی بات کرتی ہے اور عوام کے مسائل ان کے ذریعے ہی حل کرانا چاہتی ہے ‘مگر ایک کڑی شرط یہ ضرور تجویز میں ہے کہ ضلع کونسل اور سٹی کونسل کے چیئرمین بالواسطہ طریقہ کی بجائے براہ راست ووٹ کے ذریعے منتخب ہونگے اور موجودہ ضلعی وشہری بلدیاتی سربراہان جس طرح سے منتخب ہوئے ہیں یہ سب کو معلوم ہے کئی شہروں میں تو جب مطلوبہ میئر یا چیئرمین کے جیت کی گنتی پوری نہ ہوئی متعلقہ کونسل کا نوٹیفیکیشن ہی نہیں ہونے دیا گیا اب ان کیلئے براہ راست انتخاب ایک مشکل مرحلہ ہے اسلئے اس کو بچانے کیلئے سب اکٹھے ہو رہے ہیں‘ پاکستان میں بلدیاتی نظام کی بھی پل پل بدلتی کہانی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی حکومتوں کے دور میں ان اداروں کو تقویت‘اختیارات اور عزت ملی جبکہ جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ بلدیاتی اداروں کو اپنا حریف سمجھا اور ان کو زیادہ عرصہ معطل ہی رکھا اگر مجبوری میں بحال کرنے ہی پڑے تو اختیارات بہت کم کردیئے‘پہلے فوجی حکمران جنرل ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام رائج کیا اس میں بی ڈی ممبر کو ترقیاتی اختیارات کیساتھ ایک منفرد اختیار یہ دیا گیا کہ صدارتی انتخاب میں یہی بی ڈی ممبر ووٹر تھے‘ صدر ایوب نے عام شہریوں کی بجائے ملک بھر کے80 ہزار بی ڈی ممبرز سے ووٹ لینا آسان سمجھا اور ان ہی کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناح سے جیت گئے تھے۔

انکے بعد سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوگیا جسکے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی اس میں بلدیاتی اداروں کی بجائے پیپلز پارٹی کی وارڈ کمیٹی کو وارڈ کا انچارج بنادیاگیا انکے ذریعے ہی ترقیاتی کام بھی ہوئے اور راشن ڈپو بھی ان ہی کو دیئے گئے مگر اس نظام نے پارٹی کو مقبول کرنے کی بجائے بدنام کردیا اور نچلی سطح پر کرپشن شروع ہوئی‘ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھالا تو وہ عام انتخابات سے خائف رہے مگرجمہوریت کاتاثردینے کیلئے بلدیاتی ادارے بحال کئے ان کو وسیع اختیارات دیئے اور ترقیاتی کاموں کا جال پھیلا دیا1979 میں شروع اس بلدیاتی نظام نے نہ صرف عوام کو سہولیات دیں بلکہ انکے ذریعے نئی سیاسی کھیپ تیار ہوئی جو 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے قومی سیاست میں آئی‘ اسکے بعد جمہوری حکومتوں میں مسلم لیگ نے بلدیاتی نظام کو چلنے دیا مگر پیپلز پارٹی نے پھر یہ نظام معطل کردیا‘1999 میں جنرل پرویز مشرف برسراقتدار آئے انہوں نے قومی ادارہ برائے بحالی قائم کیا جس نے ایک بلدیاتی نظام بنایا اس میں چیئرمین کو ناظم کا نام دیاگیا اور اسکو وسیع اختیارات دے کر ضلعی انتظامیہ اورپولیس کو بھی ناظم کے ماتحت کردیاگیا‘ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کرکے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر بنادیاگیا یہ پاکستان کا طاقتور ترین بلدیاتی نظام تھا جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار میں تو اسکو تحفظ دیئے رکھا مگر انکے بعد پارلیمنٹ ممبران اور بیورو کریسی نے بغاوت کردی اور2007 کے بعد بلدیاتی ادارے ختم کر دیئے گئے۔

مگر چونکہ آئین میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت موجودرہی بالآخر2015 میں مجبوری کی حالت میں الیکشن کروائے گئے مگر بلدیاتی اداروں کو کوئی قابل ذکر اختیارنہیں دیا گیاموجودہ چےئرمین اور مےئر پہلے اس بات پرجمع ہوتے تھے کہ اختیارات مانگے جائیں مگر اب حکومت نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ ان اداروں کو اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ اختیارات دے گی تو اب اس معاملے پر جمع ہو رہے ہیں کہ ہمیں عرصہ پورا کرنے دیا جائے حالانکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کو ان بلدیاتی اداروں سے کوئی سیاسی فائدہ بھی ہو سکا اسکی وجہ بھی انکی بے اختیاری اور بے عملی ہی تھی‘ یہ حقیقت ہے کہ ملک بھر میں صرف کے پی میں ہی کسی حد تک بلدیاتی ادارے فعال ہوئے اور انکے ذریعے کام بھی ہوئے اب اسی کو مزید بہتری کیساتھ پنجاب اور بلوچستان میں بھی لانے کی تجویز ہے اس پر بلدیاتی نمائندوں کو خوش ہونا چاہئے مگر جو سیاسی پارٹی ان کو عضو معطل بنا کر رکھے ہوئے تھی اب وہی ان کو اکسا رہی ہے کہ احتجاج کریں مگر اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا‘ اب دعا ہے کہ حکومت کو یہ نیک کام کرنے کی مہلت مل جائے ورنہ جس طرح سابق حکمرانوں اور عوام کے خلاف نیب اور مہنگائی کے محاذ کھل گئے ہیں دعا ہی کی جا سکتی ہے۔