57

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

اورہم نے پانی سے زندگی تخلیق کی ہے(القرآن)آج پاکستان کا اہم ترین مسئلہ پانی ہے‘ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے سارے دانشمند اچانک نیند سے بیدار ہوگئے ہیں‘ انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ ملک کا پانی قدرتی اور انسانی کارکردگیوں سے خشک ہو رہا ہے‘ بارش کی کمی ہے‘دریا سکڑ رہے ہیں‘ زیرزمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے جس کا نتیجہ خشک سالی Drought یا قحط ہے۔

ان حالات کے پیش نظر عمران خان نے فوری طورپر ڈیم بنانے کی تجویز قوم کے سامنے پیش کی ہے اور بطور خاص تارکین وطن سے التجا کی ہے کہ وہ ڈیم بنانے میں پاکستان کی مدد کریں‘ یہ بات نظر انداز نہ کریں کہ ڈیم کی تعمیر کیلئے پہلا قدم چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے اٹھایا ہے اور ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ جمع کرنے کی ابتداء کی ہے‘ وہ فنڈاب سپریم کورٹ اور وزیراعظم کا مشترکہ فنڈ کہلاتا ہے۔ اس فنڈ میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک ارب 85 کروڑ کی خطیر رقم کاچیک چیف جسٹس کی خدمت میں پیش کیا‘ اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے خطیر رقم اکٹھی کی جا رہی ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو عمران خان پر بھروسہ ہے۔ یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ عمران خان کے ناقدین بھی میدان میں کود پڑے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناقدین حضرات نہ صرف عمران خان کے دشمن ہیں بلکہ یہ پاکستان سے بھی دشمنی کر رہے ہیں وطن دشمنی کی ایک عیاں مثال یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن نے صدر مملکت کی حلف برداری کی پروقار تقریب میں شرکت نہیں کی۔

ہر ایک کشتہ ناحق کی خامشی پہ سلام
ہر ایک دیدۂ پرنم کی آب و تاب کی خیر

اب وہ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ’’وہ وعدے کہاں گئے جو عمران خان نے کئے تھے۔کہاں گئے وہ وعدے کہ وہ 50 لاکھ مکان تعمیر کریں گے۔ کہاں گئے وہ وعدے کہ وہ بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ چندوں پر ڈیم نہیں بن سکتے۔حسن نثار صاحب نے کیا خوب کہا ہے’’ اتنا وقت نہ دیں جتنا آپ نے نواز شریف کو دیا ہے۔ صرف اتنے مہینے دیں یا اتنے ہفتے دیں پھر سوالات کریں اب حالت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام چشم بینا رکھتے ہیں اور مخالفین نابینا ہیں۔

میں نے کہا کہ میری آنکھ دیکھ سکتی ہے
تو مجھ پہ ٹوٹ پڑا سارا شہر نابینا

ہم سوچ رہے ہیں کہ مخالفین نے عمران خان کو جادوگر سمجھ رکھاہے؟ اور سمجھ رہے ہیں کہ وہ جادو کی چھڑی لہرا کر کہیں گے۔ ’’بنا دو25لاکھ مکان‘‘ایسے کام جادو کی چھڑی سے مکمل نہیں ہوتے۔ کیا یہ خوش آئند اقدام نہیں کہ عمران خان پرائم منسٹر ہاؤس میں نہیں رہے اور گورنر ہاؤسز آہستہ آہستہ عوام کی ملکیت بن رہے ہیں‘ کیا یہ خوش آئند بات نہیں کہ وزیراعظم صاحب کی ایک سو سے زیادہ کاریں نیلام ہو گئی ہیں‘کیا یہ خوش آئند نہیں کہ پاکستان پانی کے ذخیرے جمع کرنے میں سرگرداں ہے‘کیا یہ کافی نہیں کہ پاکستان لوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کیلئے کوشاں ہے‘ایسے تاریک وقت میں بھی پاکستان کا مستقبل تابناک نظر آرہا ہے۔ دنیا کے سربراہان پاکستان کی طرف گہری نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے نمائندے پاکستان بھجوا رہے ہیں‘ آپ نے دیکھا ہوگا کہ امریکہ کے فارن سیکرٹری کے دورے نے امریکہ کی آنکھیں کھول دی ہیں۔پانی جو زندگی ہے اس کے تحفظ کیلئے مثبت اقدامات کئے جا رہے ہیں‘پانی کیلئے دنیا کے مختلف ممالک نے اقدامات کر رکھے ہیں‘ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے جبل الطارق (جبرالٹر) کے ٹور کے دوران پانی کے وہ ذخیرے دیکھے جو کمال مہارت سے بنانے گئے تھے‘آپ جانتے ہیں کہ جبل الطارق ایک چٹان ہے جو کہ سپین اور مراکو کے درمیان میڈی ٹرینن میں ایستادہ ہے۔ جبرالٹر میں بارش کاپانی ذخیرہ کرکے استعمال میں لایاجاتا ہے۔

پاکستان کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کے تحفظ کیلئے قوانین مرتب کرنے ہوں گے اور ساتھ ساتھ عوام میں پانی کے تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے‘ہم سب جانتے ہیں کہ ٹینکر مافیا ملٹی ملین ڈالر کا کاروبار کر رہا ہے‘ پاکستان کے گزشتہ حکمران kick back کے پروردہ تھے‘اس کلچر کو فوری طورپر ختم کرنیکی ضرورت ہے اور پھر ہمارے ملک کی کمزوری کہ ہم چور کو چور کی سزا نہیں دیتے۔ اس لئے ہمارے ملک میں پانی کی چوری‘ گیس کی چوری‘بجلی کی چوری اور انکم ٹیکس کی چوری عام ہے‘ہمیں پانی کے ضیاع کی روک تھام کرنا ہے‘ہمیں کارخانوں‘ فیکٹریوں مساجد میں پانی کو کنٹرول کرنا ہے‘ ہم بصد احترام اپوزیشن کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ تنقید کیساتھ پاکستان کا ہاتھ بھی بٹائیں۔
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعایاد نہیں