119

تجاوزات :پشاورکی فریاد

وفاقی حکومت کی دیکھا دیکھی‘ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں بھی تجاوزات کیخلاف کاروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ چونکہ سب کچھ دیکھا دیکھی ہو رہا ہے اسلئے ماضی میں کی جانیوالی ایسی ہی ادھوری کوششوں کو جس انداز میں مکمل کرنیکا دعویٰ کیا گیا‘ آج بھی اسی صورت کی جانیوالی نمائشی مہمات سے زیادہ مختلف نتائج برآمد ہونے کی توقع نہیں! گنجان آباد اندرون پشاور شہر کی بات کریں تو یہاں تجاوزات کیخلاف توکاروائیاں سارا سال ہی جاری رہتی ہیں لیکن تجاوزات قائم کرنے والوں کو مجرم نہیں سمجھا جاتا‘ تجاوزات کی تعمیر‘ توڑ پھوڑاور دوبارہ تعمیر جیسے نظاروں سے لطف اندوز ہونے والے اہل پشاور کے لئے اب ایسی کسی بھی خبر میں خبریت باقی نہیں رہی کہ ’ٹاؤن ون یا ضلعی حکومت نے کمر کس لی ہے‘ اب کسی کو معاف نہیں کیا جائیگا اور پشاور کو تجاوزات سے پاک کرکے دم لیا جائے گا وغیرہ !‘ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ سال 2013ء سے 2018ء تک مکمل ہونے والے خیبرپختونخوا حکومت کے سیاسی دور میں اندرون شہر کے جن بازاروں سے تجاوزات ختم کی گئیں‘ وہ سب کے سب دوبارہ تجاوزات کی زد میں اسلئے بھی آئے کیونکہ ایک تو تجاوزات قائم کرنیوالوں کی پشت پناہی کرنے والوں میں خود بلدیاتی نمائندے اور ضلعی حکومتوں کے اہلکار ملوث ہیں اور دوسرا تحریک انصاف کے مخالفین کو اس بات کی امید ہی نہیں تھی کہ حالیہ عام انتخابات میں ’بلے‘ کی یوں ’بلے بلے‘ ہو جائے گی جو بات تاجروں سمیت تجاوزات کے ذمہ داروں کو سمجھ لینی چاہئے وہ یہ ہے کہ عام آدمی صرف بازاروں ہی میں نہیں بلکہ قبرستانوں میں بھی تجاوزات سے عاجز آ چکا ہے‘‘ اور اندرون شہر کے انتخابی نتائج اس بات کے گواہ ہیں ‘اگر حالیہ انتخاب میں اہل پشاور کی اکثریت نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے تو اس میں تجاوزات کیخلاف کامیاب مہمات ایک بڑا محرک تھا‘ جسکی صوبے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی پشاور پر انتہاء کا ظلم تو یہ ہوا ہے کہ 1275 مربع کلومیٹر کے دیہی وشہری علاقوں کو بانوے یونین کونسلوں کا مجموعہ بنا دیا گیا۔

جس سے اندرون شہر کا علاقہ خاطرخواہ تعمیروترقی سے محروم ہو گیا ! اندرون پشاور اور بیرون پشاور کی کہانی اور دکھ الگ الگ ہیں۔ اندرون شہر کی کل آبادی 10 لاکھ سے زیادہ جبکہ بیرون شہر کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ ہے اور بیضوی شکل میں پھیلے اندرون پشاور میں سکڑ کر رہنے والوں کی مشکلات میں سرفہرست تجاوزات ہیں۔ عجب ہے کہ رہائشی و تجارتی علاقوں کی تمیز ختم ہو چکی ہے‘ ایسے گلی محلوں میں بھی کثیرالمنزلہ عمارتیں راتوں رات کھڑی کر دی گئی ہیں جہاں فائربریگیڈ توکیا مخالف سمت سے آنیوالے دو موٹرسائیکل سوار بھی نہیں گزر سکتے! مسلم مینابازار‘ کوچی بازار‘ گنج‘ کریم پورہ‘ شادی پیر‘ جھنڈا بازار وغیرہ عجیب و غریب مناظر پیش کرتے ہیں‘ جہاں ہر دکاندار اپنی اپنی حد سے تجاوز کئے دکھائی دیتا ہے اور ایک سے زیادہ حکومتی ادارے پشاور کی شہری زندگی کا حسن ماند کرنیوالی ان بے قاعدگیوں پر آنکھیں موندے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں! سات اکتوبر بروز اتوار ٹاؤن ون کے اہلکاروں نے پوری دھوم دھام سے تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کیا‘ جبکہ پشاور کے بازاروں میں اکثر دکانیں بند ہوتی ہیں بہرحال چارسدہ روڈ اور سردار کالونی میں درجنوں دکانوں کے متجاوز حصے اور عارضی تعمیر ہونیوالی دکانیں مسمار کی گئیں‘ اِس موقع پر حسب سابق ضلعی حکومتی اہلکاروں کے ہمراہ پولیس کا مسلح دستہ بھی موجود تھا جن کے سامنے کسی کو مزاحمت کی جرأت نہیں ہوئی تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے جانے کے بعد تجاوزات دوبارہ قائم نہیں ہوں گی؟

کون نہیں جانتا کہ پشاور کے اثاثوں حتیٰ کہ نکاسی آب کے نالے نالیوں پر بھی تجاوزات قائم ہیں۔ بازاروں میں فٹ پاتھ پہلے ہی دکانداروں کے قبضے میں ہیں جنہیں معاوضے کے عوض کرائے پر دیدیا جاتا ہے‘ نتیجہ یہ ہے کہ پشاور ہر گزرتے دن غریب لیکن اسکے فیصلہ ساز اور تاجر امیر ہوتے چلے جا رہے ہیں! سب سے بڑی بے قاعدگی اور تجاوز تو خود ضلعی فیصلہ ساز ہیں!جنہیں پشاور کی سسکیاں اور التجائیں سنائی نہیں دے رہیں اور اگر وہ سن سکتے تو نکاسی آب کے مرکزی نالے پر قائم تجاوزات کا نوٹس لے چکے ہوتے قصہ خوانی بازار کی پشت سے گزرنے والے نالے پر دکانیں تعمیر کرنیوالوں نے نالے کے اندر ستون کھڑے کئے‘ یہاں اور سبزی منڈی و ملحقہ بازاروں سے ہو کر گزرنے والے نالے کی شاخیں کوڑا کرکٹ کی وجہ سے اپنی ساٹھ فیصد صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں‘ صفائی کے مقرر کئے گئے اہلکار بے بس ہیں کہ وہ کس طرح بناء آلات اور حفاظتی انتظامات تجاوزات کے نیچے گھس کر اس آبی گزرگاہ کی صفائی کریں!؟