90

نہ جانے کون سی مجبوریاں

تقریباً ایک عشرہ پہلے میں نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں تھی‘ نیپال پہاڑوں کا شہر ہے اور دنیا کے بلند ترین پہاڑ اسکی شان کو بڑھانے کیلئے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں‘ پہاڑوں کی چوٹیاں اپنے آپ کو فتح کروانے کیلئے مہم جوؤں کو بلاتی رہتی ہیں کسی کو وہ واپس جانے دیتی ہیں اور کسی کو اپنی آغوش میں سلا لیتی ہیں‘میں نے اپنے نیپال کے سفرنامے میں انکے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے لیکن آج تو صرف میں اپنے کلاس روم کے ایک سیشن کی بات کرونگی‘میں ایشیا پیسفک انسٹیٹیوٹ آف براڈ کاسٹنگ (AIBD) کی جانب سے ایک ورکشاپ میں بحیثیت طالب علم شریک تھی‘ میرے ساتھ انڈیا‘ تھائی لینڈ‘ چین‘ کوریا اور پاکستان سے آئی ہوئی خواتین بھی تھیں‘آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن کی پروڈیوسرز بھی ریڈیو پاکستان کی پروڈیوسرز سے مل کر حیرت اور خوشی محسوس کررہی تھیں‘بعد میں ہم نے پاکستان ٹیلی ویژن سمیت ہر ادارے کو اپنا موضوع بنایا اور خوب خوب معلومات حاصل کیں اس طرح کی ورکشاپس تمام ممالک کیلئے ایک طرح سے سفارت کاری کا کام دیتی ہیں‘ دوسروں کے رہن سہن‘ طور طریقے‘ گفتگو کے طریقے تمام ہی اپنے ملک کی نمائندگی کرتے رہتے ہیں‘سری لنکا اور ملائیشیاکے دو بہترین سکالر ہمارے اساتذہ تھے‘ ورکشاپ کے ایک ایسے ہی سیشن میں اس دن کا موضوع تھا کہ ’’مرد باس کا ماتحت خواتین کیساتھ سلوک‘‘ اور اس موضوع کو لیکر خواتین نے اپنے اپنے افسران کے خلاف خوب زہر اگلا‘ بیسویں صدی کے اس آخری عشرے تک ابھی ہیراسمنٹ کے قوانین دنیا بھر میں کہیں بھی موجود نہیں تھے اور نہ اس حوالے سے کبھی بات ہوئی تھی جو دفاتر یا کام کی جگہ ہر مرد عورتوں کو کسی بھی طور تنگ کرتے ہیں لیکن خواتین کی اس ورکشاپ میں ایسی یا اس حوالے سے کئی باتیں بھی سامنے آئیں‘ میری ملازمت کی نوعیت ایسی ہی تھی کہ آدمیوں کیساتھ ہی واسطہ رہتا تھا اور تمام افسران‘ ماتحت ملازمین زیادہ تر مرد ہی تھے‘لیکن کچھ روایات کے لحاظ سے بھی ہمارے مرد خواتین کا احترام کرتے ہیں اورکچھ یہ بھی کہ میری اپنی بھی ایک حیثیت تھی‘ مجھے جبر کا سامنا تو بہت کرنا پڑا لیکن کسی اور طریقے سے‘ کبھی فضول بات سننے کو نہیں ملی کیونکہ اس میں بے شمار مثبت باتیں بھی تھیں‘ ماں جب اپنے بیٹوں کی تربیت کرتی ہے ۔

تو اس کو عورتوں کی عزت کرنا‘ ماں بہنوں کیساتھ بات کرنے کا سلیقہ سکھانا اور اسکو ایک ایسی سوچ کیساتھ پروان چڑھانا کہ عورت قابل عزت اور قابل احترام ہے شامل ہوتا ہے‘ لیکن بدقسمتی سے کسی ملت اور مذہب میں کچھ بھی کوشش کرلی جائے مخالف جنس کی کچھ نہ کچھ کشمکش چلتی ہی رہتی ہے اور ان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ دفاتر میں مرد حضرات بہت قابل احترام ہوتے ہیں‘10 فیصد تک آدمیوں سے خواتین کو شکایات ہوسکتی ہیں لیکن 90 فیصد وہ آدمی ہوتے ہیں جن کی شرافت اور احترام کے بل بوتے پر عورت اپنی نوکری جاری رکھے رہتی ہے ان تمام شکایات کیساتھ جو اس کو 10 فیصد کیساتھ ہوتی ہیں‘ ورکشاپ تو دھواں دار تھی‘ بہت باتیں ہوئیں‘ بہت سی پریشانیاں‘ خوف‘ حیرانیاں اور اس کیساتھ حل بھی تجویز ہوئے اور یہ سیشن اسلئے خوشگوار رہا کہ وہاں کوئی مرد اپنا دفاع کرنے کیلئے موجود نہ تھا۔ ایک واحد استاد تھا جسکا تعلق ملائیشیا سے تھا یعنی مسلمان ملک اور وہ اس سیشن میں لاتعلق بیٹھا رہا‘ شاید یہ موضوع اتنا منفی اور اتنا مثبت تھا کہ اس نے غیر جانبدار رہنا مناسب سمجھا‘اپنے ملک کی عزت بہت پیاری ہوتی ہے میں ایسی کوئی منفی بات ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے پاکستان کو زیر بحث لایا جاتا لیکن مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ ہمارے ہاں بھی ہماری وہ نوجوان بچیاں جو ایسے پیشے اپنانے کی جرات کرتی ہیں جن میں مردوں کیساتھ کام کرنا ہوتا ہے تو ان کو باوجود پردے کے‘ باوجود پورے لباس کے بھی مسائل کا سامنا کرنے اور ان مسائل سے لڑنے کیلئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑ جاتے ہیں مرد حضرات کتنے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے تنگ کرتے ہیں‘ آپ یقین کریں کہ کیسی کیسی ضرورت مند خواتین ان منفی رویوں کی خاطر گھروں میں قید ہوجاتی ہیں اور جو ہمت کرکے کام جاری رکھتی ہیں وہ اپنے اردگرد بسنے والے معاشرے میں نگاہوں کا مرکز رہتی ہیں‘اول تو گھر والے ایسی باتوں کے متحمل نہیں ہوسکتے اور کوشش کرتے ہیں کہ انکی بہنیں گھروں کے اندر رہیں ورنہ استاد‘ سلائی کڑھائی‘ لیکچرر‘ ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کریں‘ ایئر ہوسٹس‘ نرس‘ دفتر کی کلرک کی حیثیت میں وہ اپنی عورت کو اندررکھنے پر ترجیح دیتے ہیں۔

دفاتر میں بھی ایک مسلسل تصادم کی کیفیات چلتی رہتی ہیں جو کام کرنے اور اچھے نتائج دکھانے کو متاثر کرتی ہیں‘ ہر وقت ایک ٹینشن تخلیق ہوتی ہے جو پورے دفتر یا پوری کام کی جگہ کے لوگوں کیلئے ناقابل بیان ہوتی ہے‘کئی عورتیں اپنے سینئرز خواتین کو آکر یہ دکھڑے سناتی ہیں لیکن کئی احتیاطیں اختیار کرنے کے بعد بھی یہ مسائل سر اٹھائے کھڑے رہتے ہیں‘ مغرب کی عورت کو شاید آپ سب بہت آزاد اور بے باک سمجھتے ہوں لیکن یہ عورت بھی مرد کے جبر اور استحصال کا شکار رہتی ہے اور یہ بھی معاشرتی طور پر اتنی پابند ہے کہ بے شمار باتوں کو اپنے آپ سے چھپاتی رہتی ہے۔ آج کئی حوالوں سے معاشرہ کچھ تبدیل ہوگیا ہے‘اب ہماری نوجوان لڑکیوں میں عجیب طرح سے جرات اور بے باکی آتی جارہی ہے پھر خواتین میں اعلیٰ تعلیم کا شوق اور اس کا حاصل معاشرے کی تبدیلی کا باعث بنا ہے۔ اب خواتین اور بہت کم عمر خواتین بہت اچھے شعبوں میں کام کرتی ہیں‘بلکہ اب تو وہ پردہ ‘وہ لباس جس کا سامنا ہم نے کیا ہے اور اب تک کرتے ہیں خال خال ہی نظر آتا ہے پھر بھی مرد بہت محتاط ہوگئے ہیں۔ وہ خاتون سے بات کرتے ہوئے احترام کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ کچھ سوشل میڈیا نے خواتین اور مردوں کو بھی اتنا آگے کردیا ہے کہ وہ اب عورت اور مرد کے تعلق کو بہت ساری حیثیتوں میں ماننے کے ماخذ نکالنے لگے ہیں اور ذہنی طور پر عورت کو اپنے ہم پلہ تصور کرنے لگے ہیں اور ہماری خواتین کے لئے بے شمار وہ شعبے جن پر صرف مرد حضرات کی اجارہ داری تھی کھل چکے ہیں اور وہ شعبے جن پر صرف خواتین کی اجارہ داری تھی مردوں کے لئے عام ہوچکے ہیں۔ زمانہ کافی حد تک بدل چکا ہے اب شاید عورت کو اپنی حفاظت کرنا آگئی ہے لیکن اب بھی مجھے یقین ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسی خواتین موجود ہیں جن کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا اس سلسلے میں میری اپنے بھائیوں اور بیٹوں اور بزرگوں سے درخواست ہے کہ ان کا خیال رکھا کریں‘نہ جانے کون سی مجبوریاں ان کو دروازے سے باہر آنے پر مجبور کرتی ہیں۔