113

سی پیک :مخالفتیں اورحمایت!

چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ اپنے آغاز سے مخالفت اور تنقید کی زد میں رہا تاہم گزشتہ چند برس خصوصی اہمیت کے حامل ہیں جب مغربی ذرائع ابلاغ اور اس کیساتھ کئی بھارتی اور چند پاکستانی تجزیہ کاروں نے ’سی پیک‘ کے خلاف تنقید کی مہم میں مصروف نظر آتے ہیں‘ کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے کے تحت غیرضروری سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں‘ جن سے صرف چین کو سہولت فراہم ہوگی جبکہ پاکستان کو اس کا بہت ہی تھوڑا فائدہ پہنچے گا‘ یہ منصوبہ پاکستان پر بیرونی قرضے کا ایک بوجھ پیدا کردے گا وغیرہ وغیرہ‘ اس مہم میں اُس وقت تیزی آئی جب امریکی سیکرٹری دفاع جیمز میٹس نے اس منصوبے کے بارے میں کہا تھا کہ سی پیک روٹ ’متنازع زمین‘ سے گزرے گا اور جب سابق امریکی سیکرٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے چین کے ’’بیلٹ اور روڈ منصوبے‘‘ کے مالیاتی تفصیلات پر سوال اٹھایا‘ ’سی پیک‘ کو لے کر امریکی مخالفت جولائی میں اُس وقت ثابت ہوگئی جب موجودہ امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ’’پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے مالیاتی پروگرام کو چینی ’بانڈ ہولڈرز‘ اور بینک کی ادائیگیوں کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہئے‘ ۔

امریکی مؤقف کا مطلب وسیع پیمانے میں چین کے ساتھ سٹریٹجک محاذ آرائی (تجارت کا پھیلاؤ‘ ٹیکنالوجی‘ جنوبی چینی سمندر) کے ایک حصے اور اس کے ساتھ پاکستان کو افغانستان پر امریکی مطالبات پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے دباؤ کے ایک اضافی نکتے کے طور پر اخذ کیا گیا‘ حالیہ عام انتخابات سے قبل‘ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ’سی پیک‘ کے چند منصوبوں پر نظرثانی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ معاشرتی مقاصد کو ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا‘ چین کو فطری طور پر یہ فکر لاحق ہوگئی کہ کہیں ایک طرف سے نئی حکومت کی جانب سے نظرثانی کی خواہش اور دوسری طرف سے مغربی میڈیا کے حملوں کی وجہ سی پیک منصوبہ جو کہ صدر ’زی جن پنگ‘ کے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ حکمت عملی کا حصہ ہے پٹری سے نہ اُترجائے‘ چینی وزیرِ خارجہ کے حالیہ دورے اور نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ بات چیت کے ایجنڈے میں ’سی پیک‘ سرِفہرست معاملہ تھا‘ ’سی پیک‘ پر پاکستان کے مؤقف کے حوالے سے ہر قسم کے شک و شبہات وزیر اعظم‘ وزیرِ خارجہ اور چیف آف آرمی سٹاف کی جانب سے چینی وزیرِ خارجہ کو نجی و عوامی سطح پر کروائی گئی یقین دہانی کے ساتھ ہی دفن ہوگئے مگر مغربی ذرائع ابلاغ نے اپنی مہم جوں کی توں جاری رکھی ہوئی ہے‘ ’فنانشل ٹائمز‘ نے ’پاکستان دی تھنکس اٹس رول ان زی بیلٹ اینڈ روڈ پلان‘ کے عنوان کیساتھ ایک مضمون شائع کیا‘ یہ مضمون چینی وزیرِ خارجہ کے دورے کے ایک دن بعد شائع ہوا تھا۔

مضمون میں پاکستان کے تجارتی مشیر کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا کہ چند سی پیک معاہدوں کے ’نقصانات‘ کے بارے میں خدشہ لاحق ہے اور پاکستان اُن پر ’دوبارہ گفت و شنید‘ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے‘ وزارتِ تجارت نے فوری طور پر اس بات کی سخت الفاظ میں تردید جاری کی اور کہا کہ ’سی پیک‘ کی مستقبل کی سمت پر پاکستان اور چین کے درمیان ’مکمل اتفاقِ رائے‘ پایا جاتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی حکومت سی پیک کیلئے پرعزم ہے‘ حتٰی کہ اس کے بعد بھی وال سٹریٹ جرنل نے ایک مضمون شائع کیا‘ جس میں دعوی کیا گیا کہ پاکستان ’سی پیک‘ کے مقاصد میں تبدیلی کیلئے چین پر ’زور‘ دے رہا ہے ’تاکہ غربت میں کمی لانے کیلئے منصوبے اور صنعتیں تعمیر کی جاسکیں‘‘ حالانکہ سی پیک میں شامل منصوبے پاکستان مسلم لیگ (نواز) کیساتھ طے ہوئے تھے مگر چین نے مسلسل اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ معاشرتی انفرا اسٹرکچرز اور غربت میں کمی لانے کے منصوبوں کیلئے نئی حکومت کی ترجیحات کو شامل کرنے کو تیار ہے‘ یہاں تک کہ اس مقصد اور دیگر ایڈجسٹمنٹس کیلئے ایک دن قبل پاکستان کی وزارت برائے منصوبہ بندی اور چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے سربراہ کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوچکا ہے‘ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جو واضح طور پر وال سٹریٹ جنرل کے تعاون سے پیش کی گئی ہے‘ اس میں پاکستان اور ’سی پیک‘ کو چین اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک مقابلے کے مرکزی نکتے کے طور پر دکھایا گیا ہے‘ پہلی وجہ امریکہ کو افغانستان میں سیاسی بحالی کو ممکن بنانے کیلئے چین کی حمایت درکار ہے‘ امریکہ اور چین دونوں ہی ایک سمت میں پاک افغان تعلقات بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں‘ چین افغان طالبان کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھتا ہے‘ وہ بھی امریکی کی طرح افغانستان میں ابھرتی دہشت گردی کو ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے اور یہ سیاسی بحالی میں ایران‘ پاکستان حتیٰ کہ روس کی جانب سے ہونے سے والی کسی قسم کے خلل انگیزی کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔

دوسری وجہ‘ افغانستان تک ’سی پیک‘ کی وسعت سے یہ وسطی ایشیاء‘ چین اور اس سے بھی آگے تک ’جڑ‘ جائے گا اور ترقی اور استحکام پیدا کرنے میں مدد فراہم ہوگی‘ مزید براں‘ اگرچہ بھارت (بالآخر) سی پیک میں شامل ہوجاتا ہے‘ تو اسے افغانستان اور وسطی ایشیاء تک رسائی مل جائیگی‘ بلاشبہ امریکہ افغانستان کے معاملے پر اپنی مرضی چلانے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالے گا‘ امریکہ پاکستان کو جھکنے کیلئے تو زور ڈال سکتا ہے مگر کمر توڑنے کیلئے نہیں کیونکہ ایک حتمی تجزیئے کے مطابق‘ ایک ’ناکام‘ نیوکلیئر پاکستان‘ امریکہ یا چین کے وسیع تناظر میں کسی صورت اچھا نہیں‘ چین نے پاکستان کے اقتصادی استحکام کی ذمہ داری قبول کی ہے تو امریکہ کیلئے یہ کوئی بُرا سودا نہیں‘ بلاشبہ اوباما انتظامیہ نے ’سی پیک‘ کی حمایت کا اظہار کیا تھا‘ آگے چل کر ’سی پیک‘ کی بڑی مخالفت شاید بھارتی حکومت کی طرف سے ابھر کر سامنے آئیگی جو کشمیر کی جدوجہدِ آزادی کیلئے پاکستانی حمایت کو باز رکھنے کیلئے بلوچستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور گلگت بلتستان میں حالات بگاڑنے کو معقول حکمت عملی کے طور پر دیکھتی ہے مگر پورے ایشیاء کے مرکزی علاقوں کے آپس میں سٹریٹجک لحاظ سے صف بند ہونے والی شاندار تبدیلیوں اور پورے خطے میں معاشی اعتبار سے حالات کی بہتری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بھارت شاید اپنے پیر پر خود کلہاڑی مار رہا ہے‘ (مضمون نگار اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں‘ بشکریہ: ڈان‘ تحریر: منیر اکرم‘ ترجمہ: اَبوالحسن اِمام)