74

خارجہ پالیسی کی ترجیحات

ہمارے مشرقی پڑوسی کا چالاکی ‘مکروفریب‘شعبدہ بازی ‘دروغ بیانی‘ موقعہ پرستی میں کوئی ثانی نہیں بغل میں چھری منہ میں رام رام کا محاورہ یوں ہی اردو ادب میں نہیں آیا‘اس کے پیچھے ایک لمبی تاریخ ہے ‘ ہندو فلسفی چانکیہ کی تحریریں ذرا غور سے پڑھئے اسکے خیالات اور تجاویز میں کہ جو وہ ہندو حکمرانوں کو پیش کرتا ہے اور معروف مغربی فلسفی میکاولی کے افکار میں کافی مماثلت ہے ‘ ذرا تاریخ کے اوراق کھولئے1947ء سے لیکر1960ء کی دہائی کے تقریباً تقریباً وسط تک یعنی کم وبیش ڈیڑھ دہائی تک پنڈت جواہرلال نہرو ہندوستان کا وزیراعظم رہا وہ اس عرصے میں یوں تو سویت یونین کی جھولی میں ہی بیٹھا رہا پر اس نے امریکہ کے ساتھ بھی بنا کر رکھی کیونکہ اس دور میں امریکہ اور سویت یونین ہی دنیا کی دو سپر پاورز تھیں ماسکو سے بھی اس نے کھایا اور واشنگٹن سے بھی‘ دونوں کو اپنی ڈپلومیسی سے خوش رکھا نہرو کے جانے کے بعد بھارت کے اکثر وزرائے اعظم بھی کم و بیش اسی پالیسی پرکاربند رہے کہ جس پر نہرو چلا کرتا تھا‘بھارت کا موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی جب اقتدار میں آیا تو شروع شروع میں اس نے روس کے ساتھ ذرا سردمہری کا مظاہرہ کیا اور امریکہ کے ساتھ اپنا یارانہ بڑھایا یہ بات ظاہر ہے ماسکو کو بری تو لگنا تھی پیوٹن کو اس بات کا قلق ضرور تھا کہ ساری عمر تو بھارت نے ہمارا کھایا پیا اور بقول کسے ہماری بلی اب ہم سے ہی میاؤں کررہی ہے نریندر کو جلد اپنی غلطی کا جب احساس ہوا تو اس نے فوراً یوٹرن لیا اور روس کے ساتھ بھی گرمجوشی کا مظاہرہ شروع کردیا جس کا حالیہ ثبوت ان دونوں ممالک میں فوجی سازو سامان خریدنے کے کافی بڑے سمجھوتے ہیں جو طے پاگئے ہیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ امور خارجہ میں کسی بھی ملک کیساتھ تعلقات استوار کرتے وقت ہمیں اپنے تمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں ہم ماضی میں امریکہ کی دوستی میں اتنے اندھے ہوگئے تھے کہ بس اسی کے ہی چرنوں میں جابیٹھے اور تو اور ہم نے امریکہ کے کہنے پر خواہ مخواہ آبیل مجھے مار کے مصداق اس وقت کی عالمی طاقت سویت یونین سے مفت کی دشمنی خریدلی کسی زمانے میں تو کئی لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ ماسکو بلوچستان کے گرم پانیوں تک رسائی کیلئے بزور شمشیر پہلے افغانستان اور بعد میں پاکستان کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے جو کام ماسکو بزور شمشیر نہ کرسکا وہ چین نے پیار محبت اور بغیر کوئی گولی چلائے کر ڈالا کیا وہ آج بلوچستان کے گرم پانیوں تک نہیں پہنچ گیا؟ ہمیں سب سے پہلے اس کی فکر کرنی چاہئے روس چین ‘ایران اور افغانستان کے ساتھ ہمارے نہایت ہی قریبی تعلقات ہونے چاہئیں بلکہ یوں کہیے یہ ہماری خارجہ پالیسی کا محور ہو کہ ہم نے ان ممالک کو اپنے ہاتھ سے نہیں نکلنے دینا یہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی نہیں تو کیا ہے کہ ہم افغانستان میں گزشتہ 70برسوں میں بھی ہندوستان کے اثر کو زائل نہ کرسکے خدا کرے کہ مسلمان حکمرانوں کو بھی اب عقل آجائے اور ان کا مردہ ضمیر جاگ اٹھے اور وہ غیروں کے چنگل سے اپنے آپ کو آزاد کریں اس طرح وسطی ایشیاء کے ساتھ قریبی تعلقات کومزید فروغ دینا بھی ہماری خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہونا ضروری ہے۔