83

خونی کھیل

میری عمر کے لوگوں نے ایوب خان‘ یحییٰ خان اورضیاء الحق کے مارشل لاء دیکھے ہیں ہم نے سولہ دسمبر 1971 کے سوگوار دن اپنے ملک کو دولخت ہوتے ہوئے بھی دیکھا اور پھرچار اپریل 1979 کی صبح ایک وزیر اعظم کے تختہ دار پر لٹک جانے کی ہولناک خبر بھی سنی گذشتہ ماہ ایک وزیر اعظم کے جیل جانے اور پھر واپس آنے کے مناظر ابھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوئے اب ایک سابق وزیر اعلیٰ کو بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر ایک تاریک سیل میں مقید کر دیا گیا ہے یہ سوال ہم نئی نسل سے تو نہیں پوچھ سکتے کہ 1970 کی دہائی زیادہ خون آشام تھی یا نئی صدی کا دوسرا عشرہ زیادہ دلخراش ہے مگر اپنے آپ سے تو یہ سوال پوچھاجا سکتا ہے اسکا جواب دینے سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ میں نے ایوب خان‘ یحییٰ خان اور ضیاء الحق کے خلاف احتجاج میں پشاور کے سینکڑوں طالبعلموں کے ساتھ حصہ لیا تھا مجھے ان دنوں کے لاٹھی چارج‘ آنسو گیس اور قصہ خوانی بازار کے آس پاس کی گلیوں میں پولیس کے ساتھ ہونے والی آنکھ مچولی آج کے دن کی طرح یاد ہے مزاحمت کے ان راستوں پر چلتے ہوئے میرے کئی ہم عمر تاریک راہوں میں مارے گئے اس معرکے میں میری سر گزشت اس قابل نہیں کہ اسے سپرد قلم کیا جائے مقصد صرف اتنا ہے کہ میں نے بھی اپنے وطن کی تاریخ کے کئی خون آلود منظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں میری گواہی سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں مگر میں اس سے دستبردار ہونے کو اسلئے تیار نہیں کہ یہ میری آپ بیتی ہے اور آج میں ماضی کے انہی مزاروں میں کھڑا ہو کر ان سے پوچھ رہا ہوں کہ نصف صدی پہلے کے دن زیادہ خوفناک تھے یا آج کا دن زیادہ تباہ کن ہے لمحہ موجود کے بارے میں آپ بہت کچھ جانتے ہیں میں اسلئے عمر رفتہ کی بات کروں گا جس دن ہمارا ملک دو لخت ہوا اس دن اسکا نام مغربی پاکستان تھا ۔

ان دنوں یہ ملک ایک منتخب اور مقبول عوامی رہنما کی قیادت میں مکمل طور پر متحد تھا ان دنوں تمام ریاستی ادارے بھی اسکے کاندھے سے کاندھا جوڑ کر کھڑے تھے ان دنوں ذولفقار علی بھٹو کے بد ترین دشمنوں نے بھی اپنی تلواریں نیاموں میں ڈال دی تھیں ان دنوں امریکہ ہمارا دوست تھا نہ دشمن اسنے ہماری کوتاہیوں‘ غفلتوں اور نادانیوں سے فائدہ اٹھا کر ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا تھا بحر ہند میں ساتویں بحری بیڑے نے ہماری مدد کیلئے آنا تھا نہ وہ آیا ان دنوں ہمارے دشمن جشن فتح منا رہے تھے اور ہم چودہ اگست 1947 کے سنگ میل پر واپس جا کھڑے ہوئے تھے ان دنوں ہم نے ایک مرتبہ پھر تنکا تنکا چن کر ایک نئے سفر کا آغاز کیا تھاان دنوں ایک دنیا ہمیں رحم بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی مگردیکھتے ہی دیکھتے ہم عزم ‘ اتحاد اور جوش و ولولے کی بدولت اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے پھر چار اپریل 1979 کا دن آ پہنچا اس دن ضیاء الحق نے اپنے نامی گرامی حریف کو پھانسی چڑھا کر ہنری کسنجر کی دیرینہ خواہش پوری کر دی اسکے بعد ڈالروں کی برکھا برسنی شروع ہوئی اور انیس سو اسی کی پوری دہائی میں اسنے ہمیں نہال کر دیا وہ افغان جہاد کے دن تھے بھارت ہماری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ کر سکتاتھا افغانستان اور سعودی عرب بھی ہمارے ممنون تھے ہمیں کسی سے کوئی خطرہ نہ تھا پھر ہم نے سوویت یونین کو افغانستان سے شکست کھا کر واپس جاتے ہوئے دیکھا اسکے بعد امریکہ تیس لاکھ افغان باشندوں کو ہمارے حوالے کر کے چلتا بنا اسنے ڈالروں کی ترسیل میں کچھ کمی تو کر دی مگر اسکی آشیر باد ہمیں حاصل رہی پھر جنرل مشرف نے کوہ ہندو کش سے لیکر بحر ہند تک سارا ملک امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا ڈالروں کی برکھا ایک مرتبہ پھر برسی اور دیر تک برستی رہی اسکے بعد آصف زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں میں امریکہ ناراض توتھا ۔

مگر اسکی آنکھوں میں خون نہ اترا تھا اب وہ تلوار سونت کر ہمارے سامنے کھڑا ہے انڈیا اور افغانستان غرا رہے ہیں چین اور سعودی عرب نے دوچار ارب ڈالر کی امداد کر دی ہے انکے دوسرے وعدے سرمایہ کاری کے ہیں ان شاخوں پر کونپلوں کے پھوٹنے میں کچھ وقت لگے گا ‘اب ہم نئے وزیر اعظم کی منظوری سے آئی ایم ایف کے سامنے آٹھ ارب ڈالر کی درخواست لئے کھڑے ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ دن آصف زرداری اور شریف برادران کی کرپشن نے دکھائے ہیں ساتھ ہی دبئی اور لندن میں سینکڑوں پاکستانیوں کی قیمتی جائدادوں کی خبریں بھی سنائی جا رہی ہیں اس نقار خانے میں اس طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا جو یہ کہہ رہا ہے کہ پاناما لیکس میں تو لگ بھگ چار سو گناہ گاروں کے نام آئے تھے پھر قرعہ فال صرف ایک ہی خاندان کے نام کیوں نکلا ہے باقی کے تین سو ننانوے لٹیروں کا نمبر کب آئیگا اسلام آ باد میں براجماں دہری شہریت والی بھاری بھرکم اشرافیہ سے پوچھ گچھ کب ہوگی جنرل مشرف کمر کے درد کے باوجود دبئی میں کولھے مٹکا رہا ہے وہ کب عدالت میں حاضر ہو گا بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے سیاسی بزرجمہر عوام کی تسلی و تشفی کیلئے آئے روز دانہ پھینکتے رہتے ہیں کہ بس وہ آنے ہی والا ہے اسنے آنا ہے نہ وہ آئیگا پوری نصف صدی تک ہر روز اس دشت کی دھول چاٹنے کے بعد اب ہمیں بھی موسمی پرندوں کی بولیاں سمجھ آنے لگی ہیں اسلام آباد پر نازل ہونے والے نئے غول کی پھرتیاں تفنن طبع کا سامان مہیا کر رہی ہیں آس پاس کے پہاڑوں پر کھڑے بادلوں کی گھن گرج اپنی تب و تاب کھو چکی ہے جس دست ہنر نے بھان متی کے کنبے کو جمع کیا ہے وہ اسے قائم و دائم بھی رکھے گا مگر بھاری قیمت کے عوض صبح کے وقت بھینسیں بکیں گی اور شام کو وزیر بھرتی ہوں گے ایکطرف مائیک پومپیو ہمارے وزیر خارجہ سے نیویارک میں صرف بیس منٹ بات کریگا تو دوسری طرف بھارت حقارت سے ہماری مذاکرات کی پیشکش کو ٹھکرا دیگا کابل کی طرف بھی ہماری دوڑیں لگی ہوئی ہیں اور اشرف غنی ہماری فریاد پرکان نہیں دھر رہا ایسا انیائے تو پہلے کبھی نہ تھا اس ابتلا کے باوجود وزیر اطلاعات و نشریات نے تازہ ترین دھمکی یہ دی ہے کہ ’’ جتنا رونا ہے رو لو احتساب نہیں رکے گا‘‘۔

یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس دن احتساب اور انتقام رک گیا اس دن انصاف کے متلاشی جوشیلے نوجوان سڑکوں پر آ کھڑے ہوں گے طیب اردوان اسی ہزار مخالفین جیلوں میں ڈال چکا ہے نریندرا مودی اقلیتوں پر ظلم وستم ڈھا کر انتقام کے الاؤ پر تیل چھڑک رہا ہے ہنگری کا وکٹر اوربان لٹے پٹے مہاجرین کو دھکے دیکر داد تحسین وصول کر رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ آئے روز اقلیتوں کے خلاف نت نئے حکم نامے جاری کرتا رہتا ہے سب پاپولسٹ حکمران ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں انکی گاڑی کا انجن صرف اور صرف انتقام کے ایندھن سے چلتا ہے جس دن انہوں نے احتساب اور انتقام سے ہاتھ کھینچ لیا اس دن ان کے بپھرے ہوئے ووٹر انکی تکہ بوٹی کر دیں گے انہوں نے سیاست کو ایک خونی کھیل بنا دیا ہے اس اذیت ناک تماشے نے ریاستی اداروں کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں پاکستان ترکی ‘ میکسیکو‘ کولمبیا‘ برازیل اور وینز ویلا جیسے نحیف و نزار ممالک کے معاشرے تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں ہیجان خیزی کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہی دشمنی اور نفرت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہی ہے Populist Demagogues انتقام کی ڈفلی بجا رہے ہیں اور ہجوم دیوانہ وار آگے بڑھ رہا ہے اگلے قدم پر کھائی ہے یا دلدل اسکی پرواہ کسی کو بھی نہیں بس دشمن کی لاش گھسیٹنا ہی تکمیل آرزو ہے ایک دانشور نے کہا ہے When you see a populist you always see a demagogue اس کالم کو ٹالسٹائی کے اس مقولے پر ختم کرتے ہیںUnhappy families are unhappy in their own way آج ہم ایک ایسا زود رنج خاندان بن چکے ہیں جسکا تصور بھی ہم نے 1971 اور1979 میں نہ کیا تھا منیر نیازی کا یہ شعر جتنا آج سچ ہے پہلے کبھی نہ تھا
پتوں کا رنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا
پاگل ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی