130

سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم کے بیٹے کو عمر قید کی سزا

ڈھاکہ۔بنگلہ دیش میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت بی این پی کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔عمر قید کی سزا 2004 میں موجودہ وزیراعظم اور اس وقت کے اپوزیشن لیڈر شیخ حسینہ پر ہونے والے حملہ کیس میں سنائی گئی۔

اس حملہ میں شیخ حسینہ واجد زخمی اور 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔طارق رحمان بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں۔ مقدمے میں 19 دیگر افراد کو سزائے موت بھی سزا سنائی گئی جن میں دو سابق وزرا بھی شامل ہیں۔2004 میں عوامی لیگ کی ریلی پر ہونے والے حملے میں 24 افراد ہلاک اور حسینہ واجد سمیت 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ 

اس حملے میں حسینہ واجد کو ہدف بنایا گیا تھا جو اس وقت اپوزیشن لیڈر تھیں۔سزا سنائے جانے سے قبل دارالحکومت ڈھاکہ میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی تھی۔ خالدہ ضیا کے صاحبزادے خالد رحمان پر مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا گیا۔

طارق رحمان ان دنوں لندن میں رہائش پذیر ہیں اور مبینہ طور پر انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے، تاہم برطانوی حکام نے ان کے امیگریشن اسٹیٹس کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کر رہے ہیں ۔مقدمہ میں سابق وزیر مملکت برائے داخلہ لطف الزمان بابر کو بھی 19 دیگر لوگوں سمیت سزائے موت دی گئی ۔سزائے موت پانے والوں میں سابق بی این پی حکومت کے اعلی پولیس اور انٹیلی جنس اہلکار بھی شامل ہیں۔