106

انیس برس اورمجسٹریسی نظام

ٹھیک 19برس قبل آج ہی کے دن جمہوریت پر جو شب خون ماراگیاتھا اس کے آفٹر شاکس کاسلسلہ ابھی تک جاری ہے اس دوران بہت کچھ بدل چکا چہرے بدلے ‘حکمرا ن بدلے ‘اسمبلیاں بدلیں مگر بدقسمتی سے نظام نہ بد ل سکاسیاسی کلچر وہی کاوہی چلاآرہاہے کہاجارہاتھاکہ بارہ اکتوبر کے اقدام سے سیاستدانوں سے بہت کچھ سیکھ لیاہے میثاق جمہوریت کو اس کی ایک بڑی مثال قراردیاجاتاتھا مگر حقیقت اسکے برعکس ہی نظرآتی ہے بارہ اکتوبر 1999ء کو جب اسوقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے بھاری مینڈیٹ کی حامل مسلم لیگ ن کی حکومت پر شب خون مارا اور منتخب قیادت کو جیلوں میں ڈال دیاتو اس وقت کسی بھی اپوزیشن سیاسی رہنما نے اس اقدام کی مذمت نہیں کی بلکہ مذمت کرنا تو ایک طرف جنرل پرویز مشرف کے اس اقدام کا نہ صرف خیر مقدم کیاگیا بلکہ کئی قدم آگے بڑھ کر ان کو نجات دہندہ تک قراردیاگیا یقین نہ آئے تو تیرہ ‘چودہ ‘پندرہ ‘سولہ اکتوبر کے اخبارات ملاحظہ کرلیں اب بھی فائلوں میں بڑے بڑے لیڈروں کے بیانات محفو ظ ہیں مارشل لاء کاخیر مقدم کرنیوالوں میں ایسے ایسے نام نظر آئیں گے کہ جمہوریت پر سے یقین ہی اٹھ جائے گا راقم نے ایک باراپنے ایک مضمون میں یہ تمام بیانات چلادیئے تھے جسکے بعدبہت سے لوگوں کے گلے آئے جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں سب سے بڑا ظلم مجسٹریسی نظام کے خاتمہ کی صورت میں کیا بدترین بلدیاتی نظام دیکر نیم خواندہ ناظمین کو سرکاری افسران کامائی باپ بنادیا یوں ملک کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیاگیا۔

جس سے آج تک ہم نہیں نکل سکے‘ساتھ ہی انہوں نے پرائی جنگ کاحصہ بن کر جس طرح سے ملک میں بدامنی کوفروغ دینے کے اسباب مہیاکئے اس نے پھر ہزاروں ہم وطنوں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیئے‘ مجسٹریسی نظام کے خاتمہ سے اگرایک طرف امن وامان کی صورتحال سنگین تر ہوتی چلی گئی تو دوسری طرف ہر کسی کو من مانی کاموقع مل گیا اور مہنگائی روکنے کیلئے کوئی مکینزم ہی باقی نہ رہا‘ جنرل مشرف کے دور سے قبل سپیشل مجسٹریٹ کاکام صرف مہنگائی کو کنٹرول میں رکھناہوتاتھا اور یقیناًاسکے کافی مثبت اثرات سامنے آتے تھے ٹریفک مجسٹریٹ کاکام بھی سب کویادہے بجلی صارفین کی سہولت اور واپڈا اہلکاروں کو قابو میں رکھنے کیلئے واپڈا مجسٹریٹ کے فوری فیصلے آج بھی بہت سے صارفین کو یادہیں اورہاں ایک ریلوے مجسٹریٹ بھی ہواکرتاتھا جوپورے صوبہ میں ریلوے کی اراضی کو قبضہ گروپوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیاکرتاتھا اب ریلوے کی زمینوں کاجو حال ہے وہ کہیں اورنہیں‘ریلوے پشاور ڈویژن کے ہیڈ آفس کے عقب میں چند گز کے فاصلے پرواقع نوتھیہ پھاٹک جاکر دیکھا جاسکتاہے جب ناک کے نیچے یہ حال ہو تو باقی علاقوں اوردوردراز اضلاع کاتو اللہ ہی حافظ ہے۔

گویا جنرل مشرف نے ایک طرف امن کو آگ لگا دی تو دوسری طرف ملکی ادارے تباہ کرکے اس قوم کاجو حشر کیاوہ آج بھی سب کے سامنے ہے جن سیاستدانوں نے کسی امیدپر جنرل مشرف کو خوش آمدیدکہاتھا بعد میں فیض یاب نہ ہوئے تو کھل کر انکی مخالفت شروع کردی اور آج تو وہ لوگ بھی جنرل مشرف کو ڈکٹیٹر کہہ رہے ہیں جنہوں نے انکے آٹھ سالہ دور اقتدار میں بہتی گنگا میں خوب خوب غوطے لگائے تھے مگر حیرت ہے کہ کسی نے بھی انکے دور کے بعض اہم اقدامات کو ریورس گیئر لگانے کی ضرورت محسو س نہیں کی‘ پانچ سا ل پیپلز پارٹی نے حکومت کی جس کے بعدپانچ سال کیلئے وہ جماعت برسر اقتدار آئی جس کو جنرل مشرف نے اقتدار سے بے دخل کیاتھا اور خودمیاں نوازشریف وزیر اعظم بن گئے مگر انہوں نے بھی مجسٹریسی نظام کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں لی‘گویا ڈکٹیٹر کوبرابھلاکہنے والے اسی کے اقدامات کو تحفظ بھی دیتے رہے ہیں اب تو انیس برس ہوگئے ہیں او ر پی ٹی آئی برسراقتدار ہے کم از کم اسے تو اس اہم معاملہ پر توجہ ضرور مرکوز کرنی چاہئے اداروں کی اصلاحات کی بات ہورہی ہے لوگوں کوریلیف دینے کے دعوے کئے جارہے ہیں تو سب سے پہلے مجسٹریسی نظام کی بحالی کااعلان کرکے قوم کو زبر دست تحفہ دیا جاسکتاہے ا س سے خود حکومت کو بہت سے معاملات میں آسانیاں مل سکیں گی انیس سال مجسٹریسی نظام کے بغیر جس طرح سے منافع خوروں نے بے بس لوگوں کے جسموں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے میں ہچکچاہٹ محسو س نہیں کی اب ان کو روکنابلکہ ان کی کمر توڑنے کیلئے موجودہ حکومت کوہی کردارادا کرناہوگا۔