185

امریکہ کی مشرقی وسطیٰ میں نئی پالیسی

راز نہیں رہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے چھبیس اکتوبر کے روز اسلامی ملک (سلطنت) عمان کا ’خفیہ دورہ‘ کیا۔ اس دورے سے 2 روز پہلے وہ آذربائیجان کے آرمی چیف ’تل ابیب‘ میں اسرائیلی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کی اور رواں ہفتے ہی کی بات ہے کہ اسرائیل کی وزیرِ ثقافت و کھیل اپنی جوڈو ٹیم کے ساتھ پہلی مرتبہ مسلمان عرب ملک ’متحدہ عرب امارات‘ میں موجود پائی گئیں ۔پاکستان اسرائیلی طیارے کی افواہوں کو اسرائیلی صحافی کے ذریعے اڑا کر صہیونی ریاست کیا مقاصد حاصل کرنا چاہ رہی تھی تاہم حکومت کی طرف سے اس کی وضاحت اسمبلی فلور پر کی گئی جس کو اپوزیشن نے بھی قبول کر لیا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کی یہ ٹویٹس بھی ردِعمل جانچنے کی ایک کوشش تھی۔ ان تمام تر افواہوں کے باوجود یہ بات تو بہرحال بالکل واضح ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ اسلام آباد مستقبل قریب میں بھی ممکن نہیں۔ ایسے اعلیٰ سطح کے دوروں کے لئے زمین ہموار کرنے میں وقت لگتا ہے اور عوامی جذبات اور ردعمل کو بھی ایسی کسی بڑی پیشرفت کے لئے تیار کیا جاتا ہے جیسا کہ دورہ عمان کے لئے ہوا۔عالمی سطح پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے‘ اُس سے امریکہ کو الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے ساتھ ایران پر پابندیوں اور اسے گھیرنے کے منصوبے پر بھی عمل پیرا ہیں۔

اگلے ماہ ایران کے ساتھ تیل کے سودوں پر پابندیاں نافذ ہونے کو ہیں۔ امریکہ وسط مدتی الیکشن سے گزر رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کو کانگریس میں کنٹرول چھن جانے کا ڈر ہے۔ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ امن منصوبے کا اعلان وسط مدتی الیکشن کے بعد دسمبر یا جنوری میں کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ مشرق وسطیٰ امن منصوبے کو اپنی بڑی خارجہ پالیسی کامیابی کے طور پر پیش کرکے اگلی مدت کا صدارتی الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فلسطین کی قیادت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کرچکی ہے۔ ٹرمپ نے نہ صرف امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا بلکہ واشنگٹن میں پی ایل او کا نمائندہ دفتر بھی بند کردیا ہے اور فلسطینی مہاجرین کیلئے امدادی پروگرام کی فنڈنگ روکی جاچکی ہے‘ اس کے باوجود وہ امن منصوبے کی کامیابی کے لئے پُراُمید ہے۔ امن منصوبے میں اب فلسطین کی قیادت کے بجائے دیگر عرب ملکوں اور اسرائیل کے تعلقات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس قدر ہونے والی پیشرفت کے ساتھ اس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ میں گریٹ گیم کا مقصدفلسطین اسرائیل نقشوں میں تبدیلی اور تہران کو سبق سکھانا ہے۔ عرب لیڈر چاہتے ہیں کہ پہلے فلسطین مسئلے کو سمیٹ لیا جائے اس کے بعد وہ تہران سے نمٹنے میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیں۔ پاکستان بھی ایران کا ایک اہم ہمسایہ ہے۔

جو مشرق وسطیٰ کی اس گریٹ گیم سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ فلسطین کا مسئلہ عوامی اہمیت اور جذبات کا ہے۔ سعودی عرب سے دوستی اور قرض کے بدلے ایران کے ساتھ مخالفت مول لینا کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ سعودی عرب سے قرض لینے کے بعد یمن جنگ میں ثالثی کے بیانات اسی گیم سے جڑے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یمن میں تو ایران ایک فریق ہے تو ثالثی کس کے ساتھ ہوگی؟ یمن جنگ پر سعودی عرب کی پوزیشن عالمی سطح پر بھی دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔یورپی ممالک یا اقوام متحدہ کے کسی سخت ردِعمل اور کاروائی سے پہلے اس جنگ سے نکلنے کے جتن کر رہا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان نے ثالثی کی پیشکش کی تو متحدہ عرب امارات کے وزیر انور قرقاش نے ٹوئیٹر پر سخت ردِعمل دیا تھا اور عرب ملکوں کے معاشی احسانات یاد دلائے تھے۔ اب عرب امارات بھی اس ثالثی پر رضامند ہے تو اس کی کوئی تو وجہ ہے! مشرق وسطیٰ کی ’’گریٹ گیم‘‘ میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ پاکستان کھل کر کوئی کردار ادا کر پائے گا یا نہیں؟ یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف اس طرح کی ایک سے زیادہ کوششیں کرچکے ہیں جو کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئیں۔