210

بیماری اور وکالت

’’پاکستان کو اس وقت ایسے وکیلوں کی ضرورت ہے جو پور ی دنیامیں اس کاکیس بہترین اندازمیں پیش کرکے اس کو دفاعی پوزیشن سے نکالیں اوریہ تبھی ہوسکتاہے کہ کھل کرپاکستان کامقدمہ لڑا جائے افغانستان میں جب تک ہم نے روس کے خلاف امریکہ کااتحاد ی ہو تے ہوئے بھی اس کو اپنی اوقا ت میں رکھا تو اپنے وطن کو دولخت کرنے کابدلہ روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی صور ت میں لے لیا مگرجب ایک فون کال پرلیٹ گئے اور افغانستان پرامریکی یلغار میں اسکے ساجھے دار بن کر اسکی فوج کیلئے اپنی سرحدیں کھول دیں تو ہمارے حصہ میں رسوائی ‘عالمی تنہائی اور بدترین تباہی آئی ہمارے دانشور ‘سیاستدان ‘حکمرا ن ہرکوئی مرعوبیت کاشکار ہوکر اپنے ملک کو عالمی کٹہرے میں دفاعی پوزیشن پر لانے کاباعث بن رہے ہیں جونہی ہم معذرت خواہانہ رویہ ترک کریں گے کوئی بھی ہمارے موقف کو جھٹلا نہیں سکے گا ‘‘وہ بولتے جاتے تھے اور سب سنتے جارہے تھے کوئی یہ محسوس ہی نہیں کررہاتھاکہ ہم تیمارداری کیلئے آئے ہیں بلکہ ایسا لگ رہاتھاکہ ہم قومی سیاسی و دفاعی امور پر کسی مذاکرے کاحصہ ہیں‘میجرعامر اپنی بیماری بھول کر ملکی سلامتی کے حوالہ سے اپنادرد دل بیان کررہے تھے پاکستان اس لحاظ سے بہت منفردملک ہے کہ اس نے ہردور میں سازشوں کے جال بچھائے جانے کے باوجود اب تک اپناوجود برقرار رکھاہوا ہے‘ وگرنہ آزادی کے بعد اس کے مشرق و مغرب کے پڑوسیوں کی طرف سے جو رویئے اختیار کئے گئے کوئی اور ملک ہوتایاکوئی اور قوم ہوتی تو کب کی تاریخ کاحصہ بن چکی ہوتی مگر ہردور میں ہر شعبہ میں ایسے فرزند سامنے آتے رہے ہیں۔

جنہوں نے اپنے کردار اورعمل کے ذریعہ پوشیدہ اور ظاہر ی طوفانوں کے رخ موڑ کردکھائے ‘برہمن سامراج کاخیال تھاکہ لولا لنگڑا پاکستان جلد ہی اس کی گودمیں آن گرے گا مگر تمام تر بدترین حالات کے باوجود چوبیس سال تک پاکستان اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کااعزازحاصل کئے رہا مگرجب اپنوں میں نفاق ڈالی گئی تو آدھا حصہ کٹ گیا جسکے بعد جغرافیائی اورنظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لئے نئے رنگ ڈھنگ سے سوچا جانے لگا اور پھرایسے ادارے وجودمیں آئے جنکی مددسے پھر خفیہ جنگوں کی نئی لہر میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی گئیں ایسے ہی ایک ادارے سے وابستہ رہنے والے اس سپوت نے گذشتہ دنوں ایک بارپھر قو م کی دعاؤں سے موت کو شکست دیدی انسان سے مضبوط اوراس سے کمزور مخلوق اس دنیامیں اورکوئی نہیں‘کچھ کرنے پر آجائے تو ستاروں پر کمند ڈالنااسکے بائیں ہاتھ کاکھیل ہوتاہے دوسری انتہاکی صورت میں مرض کامعمولی ساجھٹکا بھی اسے بسترسے لگادیتاہے تاہم بات کمزوری اورطاقت کی نہیں حوصلہ اور ہمت کی ہواکرتی ہے کم حوصلہ انسان آزمائش کے پہلے مرحلہ میں ہی ڈھیرہوجاتاہے مگر حوصلے بلند ہوں تو مشکلات کا کے ٹو بھی اسکے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔

انسان کی سب سے بڑی آزمائش اولاداوربیماری کی صورت میں اس پر آتی ہے علاج سے کہیں زیادہ کارگر نسخہ حوصلہ کاہوتاہے اورجویہ رازجان گیا اس نے منزل پالی اگرہم میجر عامر کی با ت کریں تو بیماری کاحملہ خطرناک تھااس بار دل نے بے وفائی کی ٹھان لی تھی نوبت یہاں تک جاپہنچی کہ بائی پاس کے مشورے ہونے لگے مگر اس میں بہت بڑے رسک بھی تھے کیونکہ شوگر کی آنکھ مچولی تو ایک عرصہ سے جاری تھی جبکہ کچھ عرصہ قبل ہی پھیپھڑوں نے بھی ساتھ چھوڑنے کااراد ہ کرلیاتھا اس لئے ڈاکٹر بائی پاس کے معاملہ میں ہچکچاہٹ کاشکار تھے ‘گھروالوں کو کھل کر بتادیاگیاکہ بائی پاس ہوا تو اوربھی بہت کچھ ہوسکتاہے‘ ظاہر ہے کہ پریشانی کی بات تھی تاہم بائی پاس سے قبل ڈاکٹروں نے دوہفتے کیلئے دوائیں اور مکمل آرام تجویز کیا اورپھر اس دوران ان تمام لوگوں کی دعائیں رنگ لے آئیں جن کیساتھ بڑی ہی خاموشی کیساتھ حسن سلوک کاسلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔

مکمل بیڈ ریسٹ اور دواؤں کے استعمال کے بعدجب دوبار ہ معائنہ کامرحلہ آیا تو ڈاکٹروں نے بائی پاس کے بجائے انجیو پلاسٹی کافیصلہ کیااور پھر انجیو پلاسٹی کے ذریعہ ہی تینوں بند رگیں کھول دی گئیں یوں ہم نے ایک بار پھر دعاؤں کو رنگ لاتے دیکھ لیا کامیاب انجیوپلاسٹی کے بعدان دنوں ہمارے مہربان و مشفق میجر عامر گھر پر گویاقیدی بنے ہوئے ہیں کیونکہ سیماب صفتی کی وجہ سے وہ کم ہی اپنے گھرٹک پاتے ہیں گھرمیں یاگھر کے باہر‘ اسلام آباد‘صوابی اور پشاور جہاں ہو دوستوں کو اکٹھا کرنے کافن بخوبی جانتے ہیں اب بیمار ہوئے تودوست احباب نے اسلام آبادکارخ کیا ہم بھی اپنی چھٹی کافائدہ اٹھاتے ہوئے برادر م گل شرف خان کیساتھ پہنچے مگر یہ تاثر لے کرلوٹے کہ بیماری کو ہر کوئی شکست نہیں دے سکتا اوریہ معجزہ ہم دوسر ی بار دیکھ رہے تھے۔