302

امن کی امید

پاکستان میں مقتدر حلقے ہمیشہ سے ہی افغانستان میں امن کے خواہشمند ہیں امن کیلئے ہی آپریشن ضرب عضب کیا گیا جس میں سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے جبکہ ہزاروں افغانستان فرار ہوگئے ان کو روکنا افغانستان کی ذمہ داری تھی مگر ہمسایہ ملک نے ان کو نہ صرف روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کو محفوظ ٹھکانے بھی دیئے جہاں بیٹھ کر انہوں نے پاکستان میں رابطے قائم کر رکھے ہیں اور دہشت گردی کا نیٹ ورک چلاتے ہیں‘اغواء برائے تاوان اور بھتہ وصولی جیسے جرائم میں بھی یہی لوگ ملوث ہوتے ہیں جوافغانستان سے فون کرتے ہیں اور انکے ہر کارے یہاں وصولیاں کرتے ہیں پاکستان نے کئی بار افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین پر پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی کو روکے مگر بے سود‘ اسکے باوجود پاکستان نے افغان طالبان کو نہ صرف یہاں سے ماربھگایا بلکہ سرحد سے آسان آمدورفت بند کرنے کیلئے اپنے خرچ پر محفوظ باڑ لگارہا ہے اب زیادہ طالبان افغانستان میں ہی مختلف صوبوں میں موجود ہیں اور باقاعدہ مسلح فوج بھی پال رہے ہیں وہ کھلے عام اورخفیہ طریقے سے افغان انتظامیہ اور امریکی فوج کیخلاف دہشت گردی کرتے رہتے ہیں ‘ یہ سب کچھ افغانستان کے اندر سے ہوتا ہے‘ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ امریکہ انکی موجودگی اور ٹھکانوں سے واقف نہ ہو مگر امریکہ ان حملہ آور طالبان کیساتھ مذاکرات اور صلح کا طالب ہے‘ عجب رویہ ہے کہ خود طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مختلف رابطے استعمال کررہاہے۔

ان میں پاکستان بھی شامل ہے اور کسی حد تک قطر بھی‘ کیونکہ امریکہ کی ایماء پر ہی قطر میں طالبان کو سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت ملی ہے اور گزشتہ دنوں افغان انتظامیہ نے مذاکرات کئے ان ہی میں طالبان نے اپنے ایک رہنما ملا عبدالغنی برادر کی رہائی کا مطالبہ کیا اور پھر امریکہ کی منظوری سے ملابرادرکو ایک اور طالبان رہنما سمیت رہا کر دیاگیا امریکہ نے بھی پاکستان کے اس اقدام کو سراہا ہے اور ملابرادر کی رہائی کو افغان امن مذاکرات کی جانب پیش قدمی قرار دیا ہے‘یہ تو بعد کی بات ہے کہ اس ہائی پروفائل طالبان شخصیت کی وجہ سے طالبان مذاکرات کیسے کرتے ہیں اور کون کون سے مطالبے رکھتے ہیں مگر عملی طورپر گزشتہ ہفتے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر طالبان نے سخت ردعمل دکھایا کئی مقامات پر دھماکے ہوئے جن میں درجنوں لوگ مارے گئے‘ افغان حکومت کے مطالبے پر انتخابات سے دو دن قبل پاکستان نے افغان سرحد بندکردی تھی ان دنوں پاکستان کی طرف سے کوئی بھی افغانستان میں داخل نہیں ہوا‘ انتخابات سے چند دن پہلے قندھار میں ایک مسلح حملے میں گورنر‘ پولیس چیف اور انٹیلی جنس چیف سمیت12افراد مارے گئے یہ امریکی سینٹرل کمان کے چیف کو گورنر ہاؤس سے ہیلی پیڈ پر چھوڑنے آرہے تھے‘کہتے ہیں کہ اصل ہدف امریکی جنرل ہی تھا مگر اس نے بم پروف جیکٹ پہن رکھی تھی جسکے باعث بچ گیا ۔

اس حملے کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی تھی ان سرگرمیوں اور تخریب کاری میں کامیابیوں کے بعد ہی امریکہ نے ملابرادر کی رہائی کا مطالبہ پورا کرنے کی درخواست کی تھی اب یہ طالبان رہنما اس حوالے سے کیا کرسکتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان نے امن کیلئے اپنے خلوص نیت کا اظہار کر دیا ہے اب امریکہ کا دوغلا پن اس طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں جہادی سرگرمیوں میں ملوث تنظیمیں اگر سیاست کو اپنانے کی کوشش کرتی ہیں تو افغانستان اور امریکہ سمیت بھارت سخت شور کرتے ہیں مگر خود ان طالبان کو سیاست میں لانے کے جتن کرتا ہے جوا بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں بلکہ حالیہ دنوں کچھ زیادہ ہی متحرک ہو رہے ہیں‘ اب تو روس نے بھی کہہ دیا ہے کہ امریکہ داعش کو تحفظ دینے میں ملوث ہے ایسی صورت میں افغانستان میں امن کیسے آسکتا ہے مگر اسکے باوجود پاکستان نے ملا برادر کو رہاکردیا ہے کہ اس طرح امن ہوتا ہے توٹھیک ہے اسکے باوجود پاکستان پر شکوک و شبہات ایک مایوس کن رویہ ہے جب تک امریکہ دہشت گردوں کیخلاف یکساں پالیسی نہیں اپناتا امن کا خواب پورا ہونا مشکل ہے اور شاید امریکہ بھی یہی چاہتا ہے ۔