229

مقدم نظام کی جستجو

آج کل ملک کے سیاسی حلقوں میں بعض سیاسی عناصر اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ 18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کی تیاری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے سیاسی فضا ہموار کی جا رہی ہے‘ پارلیمانی جمہوری نظام کے علمبردار اس خدشے کا بھی اظہارکر رہے ہیں کہ صدارتی نظام نافذ ہوگا صوبے کمزور ہوں گے اور مجموعی طور پر پاکستان سماجی اورسیاسی حوالے سے کمزور پڑ جائے گا‘سب سے پہلے تو چند بنیادی سوالات کے جوابات ضروری ہیں کیا پاکستان میں 1948ء اور1958ء پھر 1971ء اور1977ء پھر1989ء اور1999ء اور پھر2008ء سے ہنوز پارلیمانی جمہوری نظا م حکومت رائج نہیں تھا یا ہے؟ ان سب ادوار کو اگر جمع کر لیا جائے تومجموعی طور پر یہ 36 برسوں پر محیط ہے پاکستان کی عمر 71 برس ہے باالفاظ دیگر اس ملک کی آدھی عمر پارلیمانی نظام جمہوریت کے تحت گزری ہے کیا یہ نظام عوام کی زندگی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی لاپایا ہے یا ڈیلیور کیا ہے ؟ جو ممالک صحیح معنوں میں جمہوری ملک کہلاتے ہیں وہ تو حالات کے مطابق ‘ موقع اور محل کے لحاظ سے اورحساب سے تجربات کی روشنی میں اپنے نظام حکومت میں وقتاً فوقتاً ترمیمیں کرتے رہتے ہیں وہ کبھی بھی جامد نہیں رہتے اگر18ویں ترمیم میں کوئی سقم نظر آیا ہے تو اس پر بحث و مباحث کرنے میں کیا قباحت ہے؟ صدارتی نظام کو یکسر مسترد کر دینا بھی نا انصافی کے زمرے میں آئے گا یہ کوئی شجر ممنوعہ تو نہیں جو اس کو آزمایا نہ جائے۔

ایوب خان‘ جنرل ضیاء الحق یا مشرف کے ادوار کو آپ صدارتی نظام کا لیبل دیکر عوام کے ذہن میں ابہام پیدا نہ کریں‘ انکے نظام بھلا کہاں صدارتی تھے؟ صدارتی نظام تو وہ ہوتا ہے جس میں ملک کے تمام بالغ باشندے براہ راست ووٹنگ کے ذریعے ملک کا صدر منتخب کرتے ہیں چار یا پانچ برس کے لئے‘ اب ہمارے ہاں یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور یہ کافی حد تک بجا بھی ہے کہ چونکہ پنجاب کی آبادی ملک کی باقی صوبوں سے کافی زیادہ ہے اس لئے صدارتی نظام میں تو پھر صدر ہمیشہ پنجاب کا ہوا کرے گا‘ جس سے چھوٹے صوبوں کے عوام میں احساس محرومی پیدا ہو جائے گا کیا اس بات کاحل ایسے نہیں نکالا جا سکتا کہ باری باری صرف ایک ہی صوبے سے تعلق رکھنے والے افراد کوصدارتی الیکشن لڑنے کی اجاز ت دی جائے مثلاً سب سے پہلے بلوچستان ‘ بعد میں خیبر پختونخوا سے‘ اس کے بعد سندھ سے اور آخر میں پنجاب سے صدر چنا جائے‘ اس طرح باری باری چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے اس ملک کے صدر بنا کریں گے اور صدر کو صرف چار برس بعد چنا جائے گا‘ اس طرح ہر صوبے کے افراد کی صدر بننے کی باری آتی رہے گی۔ اس مسئلے پر پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ سے باہر دیگر پبلک فورمز میں بحث و مباحث کا سلسلہ شروع کیا جا سکتا ہے‘ گو موجودہ پارلیمنٹ سے اس بات کی توقع رکھنا کہ وہ صدارتی طرز حکومت کی حمایت کرے گی احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے اس طرح وہ یہ بھی کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ اس ملک میں متناسب آبادی والا الیکشن کا نظام جسے پارلیمانی نظام میں Proportional Representtion کہاجاتاہے اور جو کئی ممالک میں رائج ہے۔

اس ملک میں بھی نافذ ہو کیونکہ اس سے موجودہ اراکین پارلیمنٹ کی چوہدراہٹ خطرے میں پڑ جاتی ہے کسانوں ‘بے زمین ہاریوں‘ کارخانوں میں کام کرنے مزدوروں اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے اپنے طبقوں کی آبادی کے تناسب سے پارلیمنٹ کی جب نشستیں ملیں گی تو ان کے اپنے نمائندے اسمبلی میں آئیں گے جو ان کے جذبات اور احساسات کی صحیح ترجمانی کر سکیں گے‘ آج کل تو ایک خان ‘ ایک چوہدری ‘ ایک وڈیرہ مندرجہ بالا طبقوں کے نام پر بھی ووٹ لے کر پارلیمنٹ میں بیٹھ جاتا ہے اور پھر وہ کام ان کے نہیں کرتا بلکہ اپنے مفادات کا غلام بن جاتا ہے کیا کسی سیاسی جماعت نے صدارتی نظام کے نفاذ یا متناسب آبادی والے نظام کے خدوخال عوام کو سمجھانے کی کوشش کی ہے تاکہ مفاد پرست طبقے عوام کو گمراہ نہ کر سکیں۔

آپ دیکھ لیں نہ کہ اس ملک کے لوگ نہ آمریت سے خوش ہوئے نہ جمہوریت میں چین کی نیند سوئے ہیں‘ وہ الگ بات ہے کہ آمریت آئے یا جمہوریت آئے‘ آمریت جائے یا جمہوری حکومت کا عہد حکومت پورا ہو عوام مٹھائی بانٹتے ہیں لیکن چند دن بعد جب حکومت ذرا کھل جاتی ہے اپنے اقدامات سے غریبوں کا کچومر نکالتی ہے تو عوام مایوس ہو جاتے ہیں‘ بددل ہوجاتے ہیں‘ اپنے ووٹ دینے کو کوستے رہتے ہیں لیکن حکومت اپنے معمولات میں مشغول رہتی ہے غریبوں کی یاد عہدیداران حکومت کو پانچ سال تک نہیں آتی جب انتخابات کی مہم شروع ہوتی ہے تو سرکار کو عوام یادآجاتے ہیں‘ حکومت کے پانچ سال عوام بے چارے صرف کڑھتے رہتے ہیں‘ رلتے رہتے ہیں‘ لیکن کچھ کر نہیں پاتے‘ اب اس کا صرف یہ حل ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ میں یا حکومت میں ہر طبقے کو نمائندگی دی جائے‘ ایسا نظام بنایا جائے جہاں غریبوں کے نمائندے موجود ہوں‘ جنہیں آٹے کے تھیلے کا نرخ‘ آلو کچالو کے ریٹ‘ چینی‘ دال اور لوبیا کی قیمتیں معلوم ہوں اب تو ہماری اشرافیہ کو یہ سب نہیں معلوم کیونکہ انکی آمدن کروڑوں میں ہے ٹماٹر60روپے کلو ہوں یا600روپے ہماری اشرافیہ کو فرق نہیں پڑتا اکاؤنٹنٹ نوکر کو پیسے دے کر سامان منگوا لیتا ہے۔