158

مہنگائی میں مزید اضافہ

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ملک میں پٹرول 5 جبکہ ڈیزل 6 روپے 37 پیسے فی لٹر مہنگاہوگیا ہے۔ مٹی کا تیل3 روپے لٹر مہنگا ہوگیا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل کے نرخوں میں6 روپے 48 پیسے لٹر کا اضافہ کر دیاگیا ہے‘ عین اسی روز جب پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھائے جا رہے تھے بجلی کے نرخوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں20 پیسے فی یونٹ اضافے کا اعلامیہ جاری ہوا‘گیس کے نرخ ریکارڈ حد تک پہلے ہی بڑھائے جاچکے ہیں‘ ایک جانب اکانومی کو درپیش چیلنج ہیں جن میں سرفہرست بھاری بیرونی قرضے ہیں ان قرضوں کا حجم کم نہیں ہو رہابلکہ بڑھتا چلا جا رہا ہے‘وطن عزیز کی کمزور معیشت کا یہ عالم ہے کہ یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتیں قرضوں کے حصول کو اپنی اعلیٰ کارکردگی اور قرض دینے والوں کے اپنی پالیسیوں پر اعتماد کے طور پر اجاگر کرتی رہی ہیں دوسری جانب اعدادوشمار ملک کے مالی خسارے کو 18 ارب ڈالر بتا رہے ہیں بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ 1200 ارب روپے سے بڑھ چکاہے ماہ اگست میں پاکستان کے ذمے واجب الادا قرض کا والیوم 30 کھرب روپے بتایاگیا اب پرانے قرضوں کی اقساط ادا کرنے کیلئے ایک جانب آئی ایم ایف سے رابطہ ہوا تو دوسری جانب سعودی عرب نے6 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا۔

ملک کی معیشت کو اس مقام پر کس نے اور کس طرح پہنچایا اس سے متعلق بحث میں پڑے بغیر ضرورت اصلاح احوال کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے جن سے متعلق کوئی ٹھوس حکمت عملی ابھی نظر نہیں آرہی‘ تجارتی خسارے میں کمی مصنوعات کی پروڈکشن کاسٹ سے جڑی ہے جبکہ بجلی‘ گیس کے نرخوں میں آئے روز کا اضافہ مقابلے کی حامل عالمی مارکیٹ میں ہماری مصنوعات کو کس طرح جگہ دلواسکتاہے۔ آبی ذخائر کیلئے ڈیموں کی تعمیر کا احساس قابل اطمینان سہی تاہم عوام کے چندے سے صرف دو ڈیم مسئلے کا مستقل حل نہیں‘ عالمی کساد بازاری کے عوامل سے انکار ممکن نہیں تاہم مہنگائی میں اضافہ ایک مجبوری ہے تو اس پر کنٹرول کیلئے موثر اقدامات نہ اٹھانا تو کسی مجبوری کا حصہ نہیں‘صرف وفاق اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں مارکیٹ کنٹرول کے ایک سوال پر سر جوڑ لیں تو عوام کو ریلیف دینے کے راستے یقیناً پیدا ہوں گے اس کے نتیجے میں اگر صرف پرانا مجسٹریسی نظام ہی بحال ہوجاتاہے تو بھی مارکیٹ کنٹرول کا کام بہتر انداز میں ہوسکتاہے۔

صرف احکامات کافی نہیں

خیبر پختونخوا کے سرکاری شفاخانوں میں اصلاح احوال کے لئے احکامات اور ہدایات کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے‘ان اداروں کے لئے فراخدلی سے فنڈز بھی جاری ہوتے ہیں جبکہ ا نتظامی امور کے لئے ایک کے بعد ایک ڈھانچہ بھی دیا جا رہا ہے کبھی موبائل فون سے متعلق احکامات آتے ہیں تو کبھی تیمار داروں کی تعداد کم کرنے کے بارے میں سفارشات مانگی جاتی ہیں تاہم اس سب کے باوجود مریض اور ان کے تیماردار قطعاً مطمئن نہیں‘ ان کا اطمینان صرف اور صرف عملی طورپر خدمات کی فراہمی سے جڑا ہے جن کا احوال جاننے کے لئے سرکاری خطوط پر انحصار کافی نہیں‘ اس مقصد کے لئے ذمہ داروں کو خود موقع پر جانا ہوگا جس سے گریز ساری ایکسر سائز کو بے ثمر کرکے رکھ دیتا ہے۔