237

اقتصادی محاذ

قومی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ قومی خزانے پر بوجھ سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے‘ اس سلسلے میں کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری نے مائع گیس سے چلنے والے بجلی کے 2 پیداواری منصوبوں بلوکی پاور پلانٹ اور حویلی بہادر پاور پلانٹ کی نجکاری کا فیصلہ کہیں سے کہیں سے بات شروع کرنے جیسا ہے۔ حکومت کیلئے خسارے کا سبب بننے والے سبھی سرکاری اداروں سے بیک جنبش قلم نمٹنا آسان نہیں کیونکہ میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد کے متاثر ہوتی ہے جو اپنے ملازمتی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج پر اتر آتی ہے اسلئے نجکاری کے عمل کو مرحلہ وار انداز میں شروع کیا گیا ہے‘ جسکی ایک عرصے سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ بلوکی پاور پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 1233میگاواٹ جبکہ حویلی بہادر پاور پلانٹ کی صلاحیت 1230میگا واٹ ہے‘مجموعی طور پر کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پانچ سرکاری کمپنیوں سے علیحدہ ہونے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور جن اداروں کی نجکاری کی منظوری دی گئی ان میں ایس ایم ای بینک لمیٹڈ‘ فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ‘ جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد‘ لکھڑا کول مائنز اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور شامل ہیں‘ اس پر ملازمین کا ردعمل بھی حکومت کے آئندہ لائحہ عمل کو واضح کریگا‘ فی الوقت مشاورت کے بعد پاکستان سٹیل ملز ‘پی آئی اے‘ ریلوے‘ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن‘ این ایچ اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نجکاری فہرست سے نکال دیا گیا ہے لیکن یہ ادارے بہرحال نجکاری چاہتے ہیں!

ایسا ممکن ہی نہیں کہ حکومت قرض لیکر سرکاری اداروں کے خسارے ادا کرتی رہے۔تحریک انصاف نے حکومت اور اصلاحات کو جس قدر آسان سمجھا تھا یہ ان تمام توقعات سے بڑھ کر مشکل ثابت ہوئی ہیں‘ علاوہ ازیں کوئی ایک اقتصادی محاذ بھی نہیں کہ جہاں ڈٹ کر لڑنا ہی سیاسی و اقتصادی طور پر فتح کی ضمانت بن سکے‘اگر قومی خزانے پر اداروں کا بوجھ کم کرنا ضروری ہے تو اسکے ساتھ ساتھ ملک سے غیر قانونی طور پر رقومات کی بیرونِ غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک منتقلی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا بھی توجہ طلب ہے جسکے لئے پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ الگ سے برقرار ہے‘یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے کی نجکاری کے علاوہ وفاقی حکومت نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے قوانین میں ترامیم لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں ہنڈی سمیت رقومات کی بیرون ملک منتقلی کے غیر قانونی ذرائع اور ٹیکس سے بچنے کے طریقوں پر نظر رکھنے کے لئے ایف بی آر اورایف آئی اے کے کردار کو مضبوط بنانے کیلئے قوانین میں ترمیم سے متعلق تجاویز بھی حتمی شکل میں مرتب کر لی گئیں‘ جو منظوری کیلئے وزیر اعظم کو ارسال کی جائیں گی‘پاکستان کو پہلے ہی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کا سامنا ہے ۔ اقتصادی نظم و ضبط یقینی بنانے کیلئے ماضی میں اس قسم کے اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔

منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم سے ٹیکس سے بچنے کے طریقۂ کار پر نظر رکھنے میں ایف بی آر کا کردار مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے‘ رقومات کی غیر قانونی منتقلی بالخصوص کرنسی سمگلنگ کے حوالے سے ایف بی آر کا کردار اہمیت کا حامل ہے اور یہی وجہ اس فیصلہ کی بنیاد ہے کہ رقم خاص کر ڈالر کی بیرون ملک منتقلی روکنے کیلئے محکمہ کسٹمز کو بھی مزید فعال کیا جائے‘ کون نہیں جانتا کہ کسٹمز اور ایف آئی اے جیسے ادارے ملک سے انسانی ذرائع سے رقم کی سمگلنگ روکنے کیلئے ذمہ دار ہیں‘ اس ضمن میں سمگلروں کیلئے سخت سزائیں بھی تجویز کر دی گئی ہیں‘ جو اس سے قبل واجبی سزا و جرمانے کی حد تک محدود تھیں‘ ہنڈی اور حوالہ رقم کی منتقلی کے عمومی طور پر رائج ذرائع ہیں اور انہیں کچھ مذہبی طبقات کی جانب سے فروغ دیا جاتا ہے‘ جو بینک سے رقم کے لین دین کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔ہنڈی اور حوالہ کے نظام کی وضاحت یہ ہے کہ اس میں رقم کی منتقلی محض بھروسے پر مبنی ہوتی ہے‘ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے اہلخانہ کو رقم ارسال کرنا چاہتا ہے تو وہ ہنڈی کرنے والے شخص سے رابطہ کرتا ہے اور اسے مقامی کرنسی میں رقم دیکر وصول کنندہ کی تفصیلات فراہم کردیتا ہے۔ عجب ہے کہ بینکاری کا نظام جو کہ برق رفتار مواصلاتی وسائل اور حکومتوں کی پشت پناہی سے اپنے حجم میں زیادہ وسیع ہونے کے باعث زیادہ قابل بھروسہ ہونا چاہئے لیکن ترسیلات زر کرنے والوں کے لئے ہنڈی زیادہ قابل اعتماد ذریعہ ہے‘ جسکی واحد کشش اس کی ارزانی ہے۔ بیرون ملک سے ترسیلات زر بذریعہ بینکنگ کرنے پر اگر حکومت اضافی مراعات کا اعلان کرے تو اس سے ہنڈی کے کاروبار کی حوصلہ شکنی ممکن ہوگی بصورت دیگر قوانین میں ترامیم اور انکے اطلاق کا عمل پورے معاشرے کی تبدیلی سے مشروط ہے جس میں کامیابی تو ممکن ہے لیکن فوری نہیں!