227

مجرمانہ سکوت

حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں کی کل تعداد 10 ہزار 418 ہے جو کل آبادی یعنی 20 کروڑ 70 لاکھ کے تناسب سے 0.005 فی صد بنتی ہے اگرچہ خواجہ سراؤں کو اس شمار پر تحفظات ہیں اور انکے بقول آبادی اس سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن شمار کا طریقہ کار درست اختیار نہیں کیا گیا‘قابل ذکر ہے کہ مردم شماری پر صرف خواجہ سراؤں ہی کو نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی اعتراضات ہیں اور آج تک اسکے نتائج متنازعہ قرار دیئے جاتے ہیں لیکن اگر ہم مردم شماری کے نامکمل اعدادوشمار ہی کو پیمانہ تسلیم کرلیں تب بھی حکومت اور سماجی سطح پر خواجہ سراؤں کے حقوق کی ادائیگی نہیں ہو رہی‘اس سلسلے میں بطورخاص یہ نکتہ اہم ہے کہ 74 فیصد خواجہ سراؤں کی آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے لیکن اگر 26 فیصد خواجہ سرا دیہی علاقوں میں آباد ہیں تو وہاں خواجہ سراؤں کو ملنے والا مقام شہری علاقوں سے زیادہ خراب ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس کسی خواجہ سرا کو موقع ملتا ہے وہ شہری علاقوں میں اپنی کمیونٹی کے کسی نہ کسی چھوٹے بڑے گروہ کا حصہ بن جاتا ہے چونکہ شہری علاقوں میں زندگی دیہی علاقوں کی نسبت مہنگی ہوتی ہے اور حکومت یا نجی شعبہ خواجہ سراؤں کی سرپرستی نہیں کرتا اسلئے رقص‘ موسیقی اور بھیک مانگنے کے علاوہ خواجہ سراؤں کے پاس گزربسر کرنے ذرائع نہایت محدود ہیں اور اِن تمام ذرائع آمدن میں بھی انہیں خاطرخواہ یا مساوی عزت نہیں ملتی۔

نہایت ہی کم اور غیرمستقل آمدنی کی وجہ سے خواجہ سراؤں کو کھانے پینے کی معیاری اشیاء اور علاج معالجے کے حصول میں مشکلات الگ سے پیش آ رہی ہیں جبکہ ان سمیت دیگر مشکلات کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ خاص و عام کی سطح پر معاشرہ خواجہ سراؤں کو کم سے کم انسان ہی سمجھ لے!آبادی کے لحاظ سے خواجہ سرا صوبہ پنجاب میں 6709‘ سندھ میں 2527‘ خیبرپختونخوا میں 913 اور قبائلی اضلاع میں 27 جبکہ دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں 133 اور بلوچستان میں 109 ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی لحاظ سے حقیقی نہیں اور اسی بناء پر خواجہ سراؤں سے متعلق حکومتی و سماجی توجہ مرکوز نہیں ہو پارہی کیونکہ ان کی درست تعداد معلوم نہیں‘ سپریم کورٹ کی مداخلت سے خواجہ سراؤں کو قومی شناختی کارڈ کے حصول میں حائل مشکلات دور ہو گئی ہیں اسلئے مردم شماری کے عمل کیلئے نادرا کے ریکارڈ سے استفادہ کیا گیا ہے لیکن کوتاہی خواجہ سراؤں سے سرزد ہوئی جو نادرا رجسٹریشن کو ضروری نہیں سمجھتے اور نہ ہی اپنے حقوق کیلئے منظم و مربوط جدوجہد کرتے ہیں۔ خواجہ سراؤں کو درپیش مسائل کی بڑی وجہ انکی صفوں میں پائے جانیوالے اختلافات ہیں‘ کسی بھی شہر میں خواجہ سرا ایک تنظیمی ڈھانچے کے پابند نہیں بلکہ ہر جگہ ایک سے زیادہ گرو اپنی نگرانی میں چھوٹے بڑے گروہوں کی کفالت کرتا ہے اور یہ ایک دوسرے کے دکھ درد یا خوشی غمی کے مواقعوں پر تو اکٹھا دیکھے جاتے ہیں۔

لیکن عمومی حالات میں مل بیٹھ کر مسائل پر بات چیت نہیں کرتے اور یہی سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ خواجہ سراؤں کو شناخت تو مل گئی ہے لیکن اس شناخت سے جڑے حقوق کیلئے انہیں متحد ہو کر آواز اُٹھانا ہوگی۔خواجہ سراؤں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں انکی آبادی 3 لاکھ سے زیادہ ہے‘ جسے حالیہ مردم شماری میں 10 ہزار 418 دکھایا گیا ہے جو نادرا ریکارڈ میں درج اعدادوشمار کی بنیاد پر ہے اور مردم شماری کرنیوالے فیصلہ سازوں نے اس بات کو زیادہ مستند سمجھاہے کہ وہ خواجہ سراؤں کی تعداد نادرا ڈیٹابیس سے حاصل کر لیں۔ کیا ہر خواجہ سرا کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے اور اس نے اپنی پیدائش کا اندراج فارم ب میں کروا رکھا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کس طرح محض نادرا کے ریکارڈ ہی کو حتمی سمجھا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت خواجہ سراؤں کیلئے مراعات کا اعلان کر رہی ہے اور اِس سلسلے میں انہیں ڈرائیونگ لائسنسوں کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹریفک حکام کے مطابق خواجہ سرا کمیونٹی کی جانب سے ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے اب تک 300 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں اور خیبرپختونخوا ملک کا ایسا پہلا صوبہ ہونے کا اعزاز بھی جلد حاصل کرلیگا جہاں خواجہ سراؤں کو ڈرائیونگ لائسنسز جاری کئے جائیں گے‘ جنکا استعمال کرتے ہوئے وہ باعزت روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں گے۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے خواجہ سراؤں کیلئے سالانہ سماجی بہبود پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے جس میں وہ 5 لاکھ 40 روپے تک کی خدمات حاصل کرسکیں گے اور یہ خدمات بیمہ کمپنی کی جانب سے انشورنس پلان کا حصہ ہیں۔