215

تضادات کی دنیا

نپولین سے ایک قصہ منسوب ہے اور وہ کچھ اس طرح ہے کہ وہ پیرس میں اپنے فرزند کیلئے ایک محل تعمیر کروانا چاہتا تھا جب اسکی تعمیر کاکام شروع ہوا تو محل جس جگہ بنایا جارہا تھا اس کی حدود کی زد میں ایک بوڑھے کی کٹیا بھی آرہی تھی‘جب اسے گرانے کی کوشش کی گئی تو اس نے شور مچایا‘بات نپولین تک پہنچی‘اس نے اس بوڑھے کو سننے کے بعد حکم دیا کہ محل اس طرح بنایاجائے کہ اس بوڑھے کا گھر گرنے سے بچ جائے‘یہ قصہ ہمیں اچانک یاد آیا جب ہم نے اخبارات میں یہ خبر پڑھی کہ ایک مرکزی وزیر کی ناراضگی مول لینے پر اسلام آباد کے آئی جی پولیس کو اسکے منصب سے ہٹادیاگیا اور اسکی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ وزیر صاحب کے محل نما مکان کے بازو میں ایک خیمہ بستی ہے کہ جو غالباً ان کے مزاج پر گراں گزرتی ہے اور ان کی نظروں میں کھٹکتی ہے‘ اس بستی کے مکینوں اور وزیر صاحب کے باڈی گارڈ میں تو تو میں میں ہوئی‘ وزیر صاحب آئی جی پر ان ناپسندیدہ عناصر کیخلاف کاروائی کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے اور چونکہ پولیس حکم عدولی کررہی تھی لہٰذا اسکے سربراہ کو اس کا کفارہ ادا کرنا پڑا‘اپوزیشن پارٹیوں کے بعض سرکردہ لیڈروں نے البتہ اس واقعہ کو جس طرح اچھالا ہے وہ منافقت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ بیوروکریسی کو خستہ حالی اور رسوا کرنے کے معاملے میں انکا اپنا ٹریک ریکارڈ بھی کوئی تسلی بخش نہیں ہے ۔

کیا ان سب لوگوں نے مل جل کر اس ملک کی بیورو کریسی کو سیاست زدہ نہیں کیا؟ کیا ان لوگوں نے پبلک سروس کمیشنوں کے ذریعے سرکاری افسروں کی بھرتی کے طریقہ کار پر براہ راست سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے چلن کو عام نہیں کیا؟کیا انہوں نے چور دروازے سے بیوروکریٹس کو ابھی تک حکومت وقت کی طرف سے غیر مبہم قسم کا پیغام نہیں گیا‘ وہ گومگو کی کیفیت سے دوچار ہیں‘ وزیراعظم صاحب کی جانب سے انہیں دو ٹوک الفاظ میں یہ ہدایات جاری ہونی چاہئیں کہ انہوں نے قانون کی کتاب کے مطابق چلنا ہے اور کسی ایسے حکم کو نہیں ماننا کہ جو غیر قانونی ہو‘ اگر کسی بھی جانب سے کسی معاملے میں اسے سفارش کی جائے توپہلے تووہ شریفانہ زبان میں اسے ماننے سے انکار کردیں‘ اسکے باوجود اگر ان پرکوئی سیاسی دباؤ ڈالے تو پھر اس صورت میں وہ تحریری رپورٹ اپنے افسر بالا کے ذریعے صوبے کے وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کو ارسال کریں‘ اس ضمن میں وزیراعظم صاحب اپنے وزرائے اعلیٰ کو بھی تحریری ہدایات جاری کردیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن کا احتمال ہی نہ رہے‘ اگر کسی سرکاری مسئلے پر محکمے کے سیکرٹری اور وزیر کی رائے میں اختلاف ہو تواسے کابینہ کے اجلاس میں پیش کیاجائے تاکہ وزیراعلیٰ اور مرکز میں وزیراعظم کو معلوم ہوسکے کہ وزیر یا سیکرٹری میں سے کون ٹھیک کہہ رہا ہے اور کون غلط ؟یہ سوچ بھی غلط ہے کہ اسمبلیوں کے منتخب نمائندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کا ہر حکم بیوروکریسی اور پولیس بلاکسی چوں وچرا کے مانے‘ بیوروکریٹس کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی حکم کو ماننے سے انکار کردیں۔

ایسا کرنے سے انہیں کوئی پھانسی پر نہیں لٹکا سکتاہاں یہ ضرور ہوگا کہ وہ کچھ عرصے کیلئے او ایس ڈی بنادیئے جائیں گے پر یہ اس ذلت اور رسوائی سے بہتر ہے کہ جو آج کل فواد حسن فواد یا احد چیمہ جیسے بیوروکریٹس کا مقدر بن چکی ہیں‘ اپنے منظور نظر افراد کو سول سروس اور پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر نہیں کھپایا؟سب سے بڑا ظلم تو ان لوگوں نے یہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر ہو یا ایس پی‘ ان کو انہوں نے اپنے گھر کی لونڈی بنا کے رکھا‘ معمولی سی شکایت پر بغیر کسی انکوائری ڈپٹی کمشنروں اور ایس پیز کی یہ لوگ سرعام بے عزتی کرتے اور آناً فاناًان کو اپنے عہدوں سے ہٹاکر افسر بکار خاص بنا دیتے ‘یہی وجہ ہے کہ والدین جو اس بات پر فخر کرتے تھے اور خواہش رکھتے تھے کہ انکے بچے سول سروس جائن کرکے کسی نہ کسی دن ڈی سی بن جائیں‘ اپنے بچوں کو سول سروس نہ جائن کرنے کی ترغیب دینے لگے اور پھر سول سرونٹس اسلئے بھی بدظن ہوتے گئے کہ کوئی پڑھا لکھا دیانتدار اور محنتی افسر یہ نہیں چاہتا کہ بھرے مجمعے میں کوئی شخص اس کی عزت نفس پر حملہ کرے‘ اس گھمنڈ کے بل بوتے پر کہ وہ عوام کا منتخب نمائندہ ہے اور وہ جو بھی کرنا چاہے کرسکتا ہے، کوئی شخص بھی قانون سے بالا نہیں ہوسکتا‘ اب اگر اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے کہ جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے تو اس ملک میں خاک گڈ گورننس ہوگی؟ ماضی میں بے شک اس قسم کے واقعات تواتر سے ہوتے رہے پر عوام کو کم ازکم موجودہ حکومت کے اہلکاروں سے اس قسم کی توقع نہ تھی‘اس قسم کے واقعات سے پولیس کا مورال ڈاؤن ہوجاتا ہے اور پولیس کے نچلے کیڈر کے اہلکار جب یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے محکمے کے سربراہ کو محض اس وجہ سے اسکے عہدے سے ہٹا دیاگیا ہے کہ اس نے کسی وزیر کا ناجائز حکم یا سفارش نہیں مانی تو پھر وہ بھی جرائم پیشہ افراد پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کرنے لگتے ہیں‘ اس خوف کی وجہ سے کہیں ان کی پشت پر بھی کوئی سیاسی وڈیرہ نہ کھڑا ہو اور کہیں ان کی بھی پیٹی نہ اتر جائے؟بانی پاکستان کاوہ فرمان یار لوگوں کو بھول چکاکہ سرکاری اہلکار صرف اور صرف ریاست کو جواب دہ ہیں نہ کہ حکومت وقت کو کہ جو آنی جانی شے ہے۔