153

طبی سائنس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا؛ مفلوج افراد چلنے کے قابل ہو گئے

طبی ماہرین کے مطابق ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹ انسان کو زندگی بھر کے لیے مفلوج کر سکتی ہے لیکن سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے ایک ایسی جدید ڈیوائس تیار کی ہے جس کی مدد سے مفلوج افراد کی زندگیوں میں نئی امید جاگ اٹھی ہے۔

طبی سائنس دن بدن ترقی کے مختلف مدارج طے کرتے ہوئے انسانی زندگیوں میں بہتری لانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے ایکولے پولی ٹیکنیک فیڈرلے ڈی لوسین (ای پی ایف ایل)کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ریڑھ ہڈی کو دوبارہ چلنے پھرنے میں مدد کے قابل بنانے کے لیے الیکٹرانک امپلانٹ تیار کیا ہے۔ 

یہ ایک الیکٹرانک ڈیوائس ہے جو دماغ سے ٹانگوں کو سگنلز بھیجتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں موجود ناکارہ اعصابی رگوں کو دوبارہ بننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

اسپائنل امپلانٹ کی مدد سے زندگی بھر کے لیے مفلوج ہونے والے تین افراد پر کامیاب تجربات کیے جا چکے ہیں، تینوں افراد چلنے پھرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔

ای پی ایف ایل کے ڈاکٹرز نے مفلوج افراد کی ریڑھ کی ہڈی کے اردگرد اسپائنل امپلانٹ نصب کی جس کے بعد یہ تینوں دوبارہ اپنے قدم اٹھانے کے قابل ہو گئے۔  

سوئٹزرلینڈ کے رہائشی 30 سالہ ڈیوڈ ایم زی سات سال قبل ایک کھیل کے دوران ریڑھ کی ہڈی کی شدید چوٹ کا شکار ہو کر مفلوج ہو گئے تھے اور ان کے ڈاکٹر نے انہیں کہہ دیا تھا کہ وہ کبھی بھی چلنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے تاہم الیکٹرانک ڈیوائس کی تنصیب کے بعد ڈیوڈ آدھا میل تک چلنے کے قابل ہو چکے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈیوڈ نے بتایا کہ دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہونے کے بعد سے بہت خوش ہوں اور یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔

ڈیوڈ نے انٹرویو کے دوران مزید بتایا کہ ٹھیک ہونے کی تمام کوششیں بےکار ثابت ہونے کے بعد وہ ای پی ایف ایل کے اسپائنل امپلانٹ ٹرائل میں حصہ لینے کے لیے راضی ہوئے۔

سوئس ادارے کے ڈاکٹر کورٹین کے مطابق ڈیوڈ کا عزم اس کی کامیابی کی وجہ بنا، میں جب ڈیود سے ملا تو میری بیٹی ایک ماہ کی تھی، ڈیوڈ نے میری بیٹی سے کہا تھا کہ میں تم سے پہلے چلنا شروع کر دوں گا۔ 

اسپائنل امپلانٹ کی مدد سے ڈیوڈ ڈاکٹر کورٹین کی بیٹی سے پہلے  اپنا پہلا قدم اٹھا چکے تھے۔                

ڈیوڈ نے ایسا کر دکھایا اور وہ  ڈاکٹر کورٹین کی بیٹی کے پہلا قدم اٹھانے سے  پہلے ہی  اسپائنل امپلانٹ کی مدد سے قدم اٹھا چکے تھے۔

ڈاکٹر کورٹین نے ڈیوڈ میں اسپائنل امپلانٹ کے مثبت نتائج حاصل ہونے کے بعد  حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپائنل امپلانٹ نے ان کی سوچ سےکہیں زیادہ کام کر دکھایا۔

ڈاکٹرز کے مطابق جانوروں میں اس امپلانٹ کے بعد ہم نے مشاہدہ کیا کہ اعصابی  نسیں دوبارہ بننا شروع ہو گئیں اور انھوں نے  دماغ کو پھر سے ریڑھ کی ہڈی سے منسلک کرنا شروع کر دیا۔

ڈیوڈ اسپائنل امپلانٹ کے بند ہونے کے باوجود 8 قدم تک چل سکتے ہیں اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کسی مفلوج شخص میں ایسا پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے۔

اسپتال کی لیبارٹری کے باہر کی دنیا میں ڈیوڈ بمشکل چند قدم ہی چل پاتے ہیں، کیونکہ امپلانٹ سے آنے والے سگنلز انھیں جلد بے آرام کر دیتے ہیں، اس لیے وہ اس کا استعمال ہر وقت نہیں کر سکتے۔

یہ سسٹم ابھی بہت منہگا ہے اور لیبارٹری کے باہر استعمال  لیے قابل بھروسہ بھی نہیں ہے۔ 

 ڈیوڈ کے بعد مزید دو لوگوں میں امپلانٹ لگایا گیا جس میں نیدرلینڈ کے 35 سالہ انجینئر گیرٹن اسکان، اور جرمنی کے 48 سالہ سیبستین ٹوبلر شامل ہیں۔

اسپائنل امپلانٹ پر کام کر نے والے محقیقن کے مطابق یہ سسٹم بہتر ہو جائے گا اور ریڑھ کی ہڈی کے باعث چلنے پھرنے سے ناامید لوگوں کی مدد بہتر طریقے سے کرنے کے قابل ہو جائے گا۔