318

کینیڈاکی زندگی میں تنہائی ہے

یہ اگرچہ ایک منظم سیروتفریح کا پروگرام تھا لیکن میں ایسی بس میں سفر کر رہی تھی جسکے تمام مسافروں سے میں ناآشنا تھی‘ کینیڈا میں ایسی کئی ٹوور کمپنیاں ہیں جو آن لائن رجسٹریشن کے ذریعے لوگوں کی تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں وہ مختلف تاریخی ثقافتی اور دوردراز شہروں پرمشتمل تفریح کے پروگرام بناتی ہیں جو لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معلومات اور لطف دے سکیں‘ کینیڈا کی زندگی تنہا ہے ‘لوگوں کی عادات میں بھی تنہائی پسندی ہے‘ وہ زیادہ گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے اور نہ ہی ہم ایشیا کے لوگوں کی طرح مل جل کر تفریحات کا انتخاب کرتے ہیں‘ دوست سب کے ہوتے ہیں لیکن تیز رفتار ترقی اور مسلسل کام نے ان لوگوں کو یکجائی کے مواقع کم ہی میسر کئے ہیں‘ اسکے برعکس ہم پاکستان کے لوگ فارغ ہیں کام کی جگہ پر بھی گپ شپ کرکے آجاتے ہیں اور کہیں بھی کسی کے پاس بھی جانا ہو بغیر بتائے یاوقت لئے پہنچ جاتے ہیں اور بھلا ہو انکابھی جو کبھی نہیں پوچھتے کہ آپ بن بلائے ہمارے سر پر کیوںآبیٹھے ہیں‘ خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کرتے ہیں لیکن ہم میزبان کا ڈھیروں وقت ضائع کرکے اسکی خاطر تواضع میں ستراسی کیڑے نکال کر واپس آجاتے ہیں‘ کینیڈا کے لوگوں کیلئے مختلف ٹوور کمپنیاں گرمی میں خاص طورپر ٹوورز مرتب کرتی ہیں اور لوگ مختلف شہروں اور علاقوں میں بیٹھے ہوئے ان ٹوورز کیلئے آن لائن رجسٹریشن کرواتے ہیں‘میں نے بھی ایسے ہی ایک ٹوورپروگرام کیلئے اپنی دوست کیساتھ رجسٹریشن کروائی‘کینیڈا کے ثقافتی اور تاریخی شہروں کی تفریح گاہوں کا ٹوورتھا میری زندگی کااس لحاظ سے یہ پہلا ٹوورتھا جس میں ایک اجنبی کمپنی کیساتھ میں کینیڈا کے دوردراز چار شہروں میں جارہی تھی۔

علی الصبح میں بس اڈے پر پہنچ گئی تین بسیں مجھ سے بھی پہلے صبح5 بجے سڑک کی زرد روشنیوں کیساتھ تیار کھڑی تھیں‘ ڈرائیور چاک وچوبند‘ گائیڈ اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کیلئے تیار‘ گائیڈ نے بس کے دروازے پر مجھے خوش آمدید کہا‘ میں بس کا کرایہ اور ہوٹل کا دو راتوں کا کرایہ ایڈوانس میں اپنے کریڈٹ کارڈ سے ادا کرچکی تھی اپنی دوست کی موجودگی میں خود اعتمادی بھی موجود تھی پھر بھی یہ زندگی کاایک نیا تجربہ تھا‘ جہاں میں کسی مسافر کو بھی نہیں جانتی تھی جن کیساتھ میں اگلے تین دن اکٹھے گزارنے چلی تھی‘ گائیڈ نے مجھے میری سیٹ نمبر کا کاغذ پکڑایا اور میں نے اپنے بیٹے کو خداحافظ کہا جو مجھے چھوڑنے کیلئے صبح کے اندھیرے میں میرے ساتھ آیا تھا‘ میں نے گھڑی دیکھی پورے چھ بجے تھے اور بس اپنے شیڈول کے مطابق ایک سیکنڈضائع کئے بنا روانہ ہوچکی تھی تمام مسافر بھی موجود تھے ان میں70فیصد چائنا سے تعلق رکھنے والے سیاح تھے اور باقی30فیصد میں انڈیا‘ پاکستان اور ایران کے خاندان تھے‘ انڈیا کے بھی مسلمان خاندان زیادہ تھے‘ سروں پر سکارف باندھے ہوئے مسلمان خواتین صاف نظرآرہی تھیں‘ گائیڈ نے پہلے چینی زبان میں اور پھر انگریزی زبان میں سب کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ اگلے تین بس سٹاپس سے مسافروں کو اٹھایا جائیگا اور پھر بس شیڈول کے مطابق کینیڈا کے سب سے پہلے دارالخلافہ کنگسٹن روانہ ہو جائے گی‘ اور ایسا ہی ہوا‘ ہر مسافر مقررہ جگہ پر موجود تھا اوربس وقت مقررہ پر ہی چل رہی تھی ہم کنگسٹن کی طرف چل پڑے تھے‘ کینیڈا بھی پاکستان کی طرح چار موسموں کا حامل ہے گرمی‘ بہار‘ خزاں اور سردی‘ اگرچہ یہاں کی سردی بہت انتہا کی ہوتی ہے۔

زمین آسمان مہینوں برف ہی برساتے ہیں لیکن حکومت کا کام جیسے اپنے عوام کو سہولیات پہنچانا ہی ہوتا ہے عوام بھی ٹیکس ادا کرنے اور قانون کی تابعداری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے‘ برف آسمان سے تو برستی ہے لیکن سڑکیں صاف کی جاتی ہیں نلکوں سے گرم ٹھنڈا پانی آرہا ہوتا ہے‘ سکول دفاتر‘ مارکیٹیں کھلی ہوتی ہیں‘ مناسب برف کے لباس کیساتھ اس سرد ترین موسم کا مقابلہ کیا جاتا ہے‘ نہ کوئی احتجاج‘ نہ کوئی جلسہ نہ جلوس‘ نہ انتقام‘ نہ جذباتیت صرف کام‘ قانون‘ سہولیات ‘تعلیم‘ صحت اور سکیورٹی ہوتی ہے‘ عوام کی جان و مال ہر طرح سے محفوظ ہوتی ہے‘ ترقی یافتہ اقوام کی باتیں ہمارے ممالک کی باتوں سے بالکل جدا ہیں ان کے قائدین آتے جاتے رہتے ہیں ادارے اتنے زیادہ مضبوط ہیں کہ پاکستان کے لوگ شاید ان باتوں کو مذاق سمجھیں‘قانون اتنا سخت ہے کہ اندرون گلیوں تک میں گاڑیوں کی رفتار کا کنٹرول ہے‘ تعلیم نے ان کے عوام کو ذہنی طورپر توانا بنایا ہوا ہے لوگ اپنے حق اور فرض کو جانتے ہیں‘ بس ایک نئے شہر کی طرف روانہ تھی اور میں خزاں کے اس خوبصورت بدلتے موسم میں اپنے ملک اور ترقی یافتہ ممالک کا موازنہ کرتی پھر رہی ہوں خوبصورت سڑکیں‘ سڑکوں کے دونوں اطراف میں درختوں کی کثرت‘ پتوں کے زرد اور سرخ رنگ‘ ایک خوابناک کیفیت طاری کررہے تھے کنگسٹن ہم صرف ڈیڑھ گھنٹے میں ہی پہنچ چکے تھے یہ کینیڈا کا اولین دارالخلافہ تھا گائیڈ نے یہاں 45منٹ رکنے کا اعلان کیا تاکہ ہم یہاں کی مشہور کوئین یونیورسٹی دیکھ سکیں‘ کینیڈا کا سب سے پہلا انجینئر اور سب سے پہلی ڈاکٹر اسی کو ئین یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھے‘ 1841ء میں یہ شہر کینیڈا کا دارالخلافہ بنا‘ انتاریوجھیل کے آخری سرے پر واقع یہ شہر1844ء تک دارالخلافہ تھا یہاں کینیڈا کا مشہور زمانہ سینٹ لارنس کالج‘ رائل ملٹری کالج بھی موجود ہیں‘ سینٹ لارنس دریا کا نام بھی ہے جویہی یعنی اسی شہر سے شروع ہو کر کیوبک کے صوبے تک چلا جاتا ہے‘ یہ ایک خاموش پرسکون ساچھوٹا سا شہر تھا جسکی آبادی ایک ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔

جس میں اسی ہزار عیسائی ہیں مسلمان ایک ہزار کے لگ بھگ ہیں‘ کوئی800یہودی اور500ہندو لوگ رہتے ہیں‘35000 ایسے لوگ ہیں جن کا کوئی مذہب نہیں ہے‘ میں نے دیکھا سامنے میدان میں ایسی سبزیاں اور فروٹ کی مارکیٹ لگی ہوئی ہے جو گھروں میں اگائی گئی ہیں جوOrganicیا اصلی کھاد سے تیار کی گئی ہیں کینیڈا میں اب ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اس طرح کی مارکیٹیں کثرت سے لگائی جاتی ہیں جو ہفتے میں ایک بار گردونواح میں رہنے والے دیہات کے لوگ شہروں میں آکر لگاتے ہیں پھل اور سبزیاں جو اپنے ذائقے میں مزیدار ہوتی ہیں شہر کے لوگوں پر سستے داموں فروخت کرتے ہیں برف کے اس ملک میں یہ خریدوفروخت صرف گرمی کے موسم تک محدود ہوتی ہے میں نے بھی اس مارکیٹ سے میٹھے مالٹے خریدلئے اور اس شہر کی خوبصورت سڑکوں کو دیکھا ایک قہوہ خانے میں بیٹھ کر قہوہ پیا‘یہاں زیادہ تر یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اپنے اپنے دوستوں کیساتھ بیٹھ کر گپ شپ کر رہے تھے چونکہ وقت تھوڑا تھا اسلئے دور تک جایا نہیں جاسکتا تھا‘ صفائی ستھرائی دیکھ کر ان لوگوں پر رشک آتا ہے کہ نہ صرف وہ خود صاف لباس پہنے ہوتے ہیں بلکہ سڑک واش روم‘ دکان‘ تمام صفائی کا نقشہ پیش کر رہے ہوتے ہیں‘ سڑکوں پر رکھے ہوئے جابجا کوڑے دان کو ہی گند کیلئے استعمال کرتے ہیں‘ بس میں تمام لوگ مقررہ وقت پر آچکے تھے ہماری اگلی منزل اوٹاوہ تھی جو کنگسٹن سے دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔