209

تعلیم وتربیت اورسیاحت

زندگی میں کامیابی کے لئے وضع کردہ رہنما اصول موجود ہیں جو نئی نسل کو ازبر کروانے چاہئیں‘جس طرح کسی ملک کی طاقت اس کے مضبوط دفاع میں ہوتی ہے بالکل اسی طرح عملی زندگی میں کامیابی کیلئے تعلیم اور محنت ضروری ہیں‘ اگر کوئی ملازم پیشہ ورانہ علوم اور مہارت میں اضافہ کرتا چلا جائے اور اپنے کام میں دلچسپی لے توکامیابی اسکے قدم چوم سکتی ہے‘المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم صرف اسناد کے حصول کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے جنکے ذریعے ملازمت ملتی اور بس لیکن تعلیم ایک ایسا ہنر بھی ہے جو زندگی کو زندگی بنا کر دکھاتا ہے‘جو اپنے اور دوسروں کے حقوق کا احساس دلاتا ہے جو معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کے عمل کو تیزرفتار بناتا ہے لیکن زندگی کے اس شعوری پہلو سے آگاہی اور اسے سمجھنا سمجھانا ہم میں سے ہر ایک کو کرنا چاہئے۔ کوئی بھی حکومت عوام کے تعاون کے بغیر تبدیلی نہیں لا سکتی لہٰذا معاشرے کی ہر اکائی بالخصوص اساتذہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ نئی نسل کو زندگی میں کامیابی کے اصولوں سے آگاہ کرتے رہیں۔ ان کے ذہن نشین کریں کہ کس طرح وہ اپنے اپنے گردوپیش میں اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

یادش بخیر ٹیکسلا کے مقام پر ایک یونیورسٹی ہوا کرتی تھی جہاں چناکایا جیسے معلم ہوتے تھے‘ جنکے وضع کردہ زندگی کے اصول آج بھی رہنما ہیں‘ ضرورت ہے کہ ٹیکسلا کے مقام پر ان کے نام سے منسوب ایک یونیورسٹی قائم کی جائے کیونکہ یہ وہی مقام ہے جہاں سے ایک وقت میں دنیا کو علم و دانش کے موتی ملا کرتے تھے اور پاکستان کو اپنے تاریخی و ثقافتی ورثے کی حفاظت کیساتھ ماضی کے ان نقوش کو پھر سے تازہ کرنا چاہئے جو خطے میں امن و دوستی اور تعلقات کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں‘ علاوہ ازیں اس اقدام سے سیاحت کو بھی فروخت حاصل ہوگا بالخصوص مذہبی سیاحت کے لاتعداد امکانات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ماضی کی عظیم درسگاہوں کو پھر سے بحال کیا جائے دنیا بھر میں مذہبی سیاحت کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور اس سیاحت میں مختلف مذاہب کی عبادتگاہوں کو شامل کیا جاتا ہے جس میں ہندوازم‘ اسلام‘ سکھ ازم اور بدھ ازم شامل ہیں۔

برطانوی راج کے دوران تعمیر ہونیوالے گرجا گھر بھی سیاحت کیلئے پرکشش مقامات میں شامل ہو سکتے ہیں‘کراچی کا سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل چرچ 1857ء کی جنگ آزادی سے 12 برس قبل تعمیر کیا گیا تھا‘لاہور کا سینٹ جوزف‘ سینٹ اینڈریوز‘ ملتان کا سینٹ میری‘سیالکوٹ کا ہولی ٹرینٹی اور پشاور کا سینٹ جانز کیتھڈرل چرچ مخصوص فن تعمیر کا شاہکار ہیں‘ جن میں سے بیشتر اپنی اصل حالت میں موجود ہیں اور اگر انہیں سیاحتی نکتہ نظر و افادیت کو سامنے رکھتے ہوئے بحال کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو عیسائی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو راغب کیا جا سکتا ہے‘ یورپی یونین کے ممالک کی مثال موجود ہے جنہوں نے تمام مذہبی عبادتگاہوں کا ریکارڈ جمع کر کے انکی جملہ ضروریات کیلئے ایک الگ وزارت قائم کی اور ہر سال اس کیلئے مالی وسائل مختص کئے جاتے ہیں‘پاکستان میں مذہبی سیاحت کے بہت سے مقامات ہیں محکمہ اوقاف بنایا ہی اسلئے گیا ہے تاکہ اہمیت کے حامل مقامات کی حفاظت کی جائے اور انہیں بحال رکھا جائے۔ محکمہ اوقاف کے زیرکنٹرول غیرمسلموں کی عبادتگاہیں ہیں‘ان میں ہندو مذہب کی عبادتگاہیں بھی شامل ہیں ۔

جن کی حفاظت و بحالی کے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہئیں محکمہ اوقاف کے فیصلہ سازوں کو ملک گیر سروے کر کے ایسے مذہبی مقامات کی فہرست مرتب کرنی چاہئے جنہیں مذہبی سیاحت کے زمرے میں شمار اور دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے‘پاکستان میں ہندو مذہب کی مقدس عبادت گاہوں میں ہنگ لاج مندر‘ کٹاس راج مندر اور آنند پور مندر شامل ہیں‘ اسی طرح بدھ مت کی عبادتگاہوں اور مذہبی مقامات بھی خاطرخواہ توجہ سے محروم ہیں‘ جن میں جاپان‘ سری لنکا‘ تھائی لینڈ‘ ملائیشیا اور دیگر بدھ مت کے اکثریتی ممالک کے رہنے والے دلچسپی رکھتے ہیں۔ محکمہ اوقاف کے فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ انکی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت اور بحالی کی جائے سیاحتی پالیسی کو وسیع کرنے سے نہ صرف پاکستان میں موجود سیاحتی امکانات دنیا کے کھل جائیں گے بلکہ پاکستانیوں کیلئے بیرون ملک سیاحت کرنا بھی نسبتاً آسان ہو جائے گا‘ سیاحت میں دلچسپی بڑھانے کے لئے ملکی سطح پر نصاب تعلیم میں نئے مضامین شامل کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رامیش کمار وانکوانی۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)