277

ڈاکٹر،صحت اورخطرات

وہ ایک جوان لیڈی ڈاکٹر تھیں جو خود پڑھنے کے ساتھ ساتھ ایک میڈیکل کالج میں پڑھا بھی رہی تھیں‘ سردی بڑھ گئی تھی اسلئے رات کو پڑھائی کے دوران قریب ہی ہیٹر لگایا‘ ہم سب یوں ہی کرتے ہیں ‘صرف ایک فرق تھا کہ انکو دورے پڑتے تھے ایپی لیپسی‘ جسے عرف عام میں مرگی کہا جاتا ہے‘ کی تشخیص ہوئی تھی‘ وہ باقاعدہ دوا لے رہی تھیں‘ تاہم کبھی کبھار دورہ پڑ بھی جاتا تھا‘یہ ایک فرق ان کو تمام دوسرے بالغ افراد سے ممتاز کرتا تھا‘ اس فرق کو بدقسمتی سے انہوں نے مدنظر نہیں رکھا‘چنانچہ جب انکو دورہ پڑا تو ہیٹر پر آن گریں‘کپڑوں نے آگ پکڑلی‘جب تک ان کو ہوش آتا‘انکا جسم جل بھن چکا تھا‘ چیخ و پکار سن کرلوگوں نے آگ بجھائی اور ہسپتال لے گئے‘ ان کے جسم کا ساٹھ فیصد سے زائد حصہ بری طرح جل چکا تھا‘ چند دن درد‘ جلن‘ بے ہوشی اور ہوش کے درمیان ڈولتے ڈولتے یہ جوان ڈاکٹر ہمیں داغ مفارقت دے گئیں۔

اللہ تعالیٰ انکے خاندان کو صبر کی توفیق عطا فرمائے‘آمین‘ ایک حدیث کے مطابق آگ سے جل کر مرنے والوں کو شہدا میں شمار کیا جاتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ جس تکلیف سے جھلسے ہوئے مریض گزرتے ہیں‘ اس سے زیادہ تکلیف شاید ہی کوئی ہو‘ اس لئے اللہ کی رحیم ذات انہیں معاف کردے گی۔یہاں میں وہ چند گزارشات کرنا چاہوں گا جو اس قسم کے حادثات کی روک تھام کیلئے ضروری ہیں۔ مرگی ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کا سرکٹ کہیں نہ کہیں سے شارٹ ہوجاتا ہے۔ جب اس سرکٹ میں بے وقت اور بے ربط کرنٹ پاس ہوتا ہے تو جسم تشنج میں چلاجاتا ہے اور ہوش چلے جاتے ہیں‘ایسے میں مریض اگر کسی بھی خطرے کے قریب ہو تو اسے نقصان پہنچ سکتا ہے‘اسلئے ایسے مریضوں میں دو باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے ایک یہ کہ دوا کا استعمال ساری عمر جاری رہے اور ساتھ ساتھ مقررہ وقفے سے اس دوا کا خون میں تاثیر کا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ مریض کو سال میں ایک دورے سے زیادہ نہ پڑے‘ لیکن اس سے بھی اہم احتیاط یہ ہے کہ مریض کبھی بھی کسی قسم کی خطرناک جگہ پر اکیلا میں نہ رہے۔ مثال کے طور پر کچن ان کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور وہاں انکی تنہائی ہولناک ثابت ہوسکتی ہے‘یہاں تک کہ انکو باتھ روم استعمال کرتے ہوئے اندر سے کنڈی نہیں لگانی چاہئے‘ کسی بلند کھڑکی جس سے گرنے کا خدشہ ہو‘ وہاں تو بالکل نہیں کھڑا ہونا چاہئے‘ ان پر ڈرائیونگ کی پابندی ہے۔ تاہم یہاں سب سے بڑا المیہ ڈاکٹر صاحبہ کا اپنی صحت سے بے توجہی بھی ہے جو کہ ڈاکٹروں میں بہت عام ہے‘ہمارے پروفیسر تک اپنے مریضوں میں اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ اپنی صحت نظر انداز کردیتے ہیں‘میں نے ایسے کئی ڈاکٹر دیکھے ہیں جن کو بخار ہو یا کوئی اور بیماری ہو وہ انجکشن لگا کر مریض دیکھ رہے ہوتے ہیں‘۔

آپریشن کررہے ہوتے ہیں۔ کئی ایک کو میں نے ہاتھ میں پلستر لگا کر بھی آپریشن کرتے دیکھا ہے‘اس سوچ کے بڑے خطرناک تنائج نکل سکتے ہیں‘ میں نے اپنے بہت سے ساتھیوں کو آپریشن تھیٹر میں گرتے اور مرتے تک دیکھا ہے۔ ہم ان مریضوں کو تو ڈانٹ دیتے ہیں جو اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتے لیکن دوسری طرف اپنی صحت نظر انداز کرکے نہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اپنے خاندان کو بھی مشکلات میں ڈال دیتے ہیں۔ صحت کا خیال اور مریض کے علاج کیلئے نہ صرف یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ نفسیاتی طور پر بھی مستحکم ہونا ضروری ہے‘ ایک بیمار یا تھکے ڈاکٹر سے غلطیوں کا امکان بہت زیادہ ہوجاتا ہے ‘انکے ہاتھ پر دوسرے انسان کی زندگی اور موت یا تکلیف کا دارومدارہوتا ہے‘ امریکہ میں ڈاکٹروں پر کام کی زیادتی کی وجہ سے ہر سال چار سو ڈاکٹر خودکشی کر لیتے ہیں‘ تاہم زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک میں موت کی تیسری بڑی وجہ‘دل کے دورے اور کینسر کے بعد ڈاکٹروں کا غلط علاج ہے‘ اس لئے اگر ڈاکٹر اپنی صحت کا خیال نہیں رکھیں گے تو ان کے مریضوں کو نقصان کا اندیشہ ہوگا۔ تھکاوٹ یا بیماری میں ہماری فیصلے کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے اور کسی بھی غلط تشخیص‘ علاج یا آپریشن سے مریض کو ناقابل واپسی نقصان پہنچ سکتا ہے‘ کئی ڈاکٹروں کو پورے خلوص سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے چھٹی کی تو مریض کہاں جائیں گے اور مریضوں کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود مریضوں کا معائنہ جاری رکھتے ہیں‘ یاد رکھیں کہ قبرستان ان لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو کہتے تھے کہ اگر ہم نے خدمت نہ کی تو لوگ کیا کریں گے لیکن پھر بھی زندگی رواں دواں ہے۔ آپکی چند دن کی چھٹی سے کوئی قیامت نہیں آئے گی اور نہ ہی آپ کے کندھے کے نکلنے سے آسمان کا کوئی حصہ آن گرے گا۔ آپ کی صحت عوام کیلئے بہت ضروری ہے۔ خیال رکھئے گا۔