196

ایساکہاں سے لاؤں کہ تجھ ساکہیں جسے

جمشیدمارکرکا تعلق کراچی سے تھا‘ وہ منہ میں سونے کا چمچ لیکر پیدا ہوئے‘کراچی کے مقتدر سیاسی طبقوں اور اونچی سوسائٹی میں ان کا شروع سے ہی اٹھنا بیٹھنا تھا پر وہ ہوا میں کبھی بھی نہ اڑے‘ خدا نے انکو اچھی آواز سے بھی نوازا تھا اور انکا انگریزی زبان کا تلفظ بھی لاجواب تھا‘ایک عرصے تک وہ معروف کرکٹ کمنٹریٹر عمر قریشی کیساتھ ملکر کرکٹ میچوں میں رننگ کمنٹری بھی کرتے تھے‘جمشید مارکرایک لمبے عرصے تک ڈپلومیٹک سروس کا حصہ بھی رہے‘ آج کے کالم میں ہم جمشید مارکر کی ان تحریروں پر ایک نظر ڈالیں گے کہ جو قائد ملت لیاقت علی خان کے متعلق ہیں‘ جمشید مارکر اور انکی اہلیہ کی لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کیساتھ پرانی یاد تھی‘جمشید مارکر رقمطراز ہیں کہ ایک مرتبہ وزیراعظم ہاؤس کراچی میں غیر ملکی سفیروں کیلئے ڈنر کا اہتمام کیاگیا تھا‘انہوں نے دیکھاکہ مہمانوں کیلئے جو کرسیاں لگوائی گئی تھیں ان میں ایک کرسی فنکشن کے درمیان خالی رہی کہ جو دیگر کرسیوں کے بیچ میں پڑی تھی‘۔

جب فنکشن ختم ہوگیا اور مہمان رخصت ہو گئے تو انہوں نے لیاقت علی خان سے اس خالی کرسی کے بارے میں پوچھا تو وزیراعظم نے انہیں بتایا کہ وہ چیف جسٹس کیلئے رکھی گئی تھی پر آخری لمحات میں انہوں نے اس تقریب میں شامل ہونے سے معذرت کرلی لیاقت علی خان نے اس بات کا بالکل برا نہ منایا اور مجھے کہا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے سوچا ہو کہ وزیراعظم ہاؤس میں اس سوشل ڈنر میں شرکت کرنے سے قانون کے حلقوں میں کوئی غلط پیغام نہ چلاجائے‘ انہوں نے اچھا کیا جو اس قدر احتیاط سے کام لیا‘جمشید مارکر ایک اور جگہ یوں رقمطراز ہوتے ہیں کہ سیاسی امور کی دیکھ بھال کی وجہ سے لیاقت علی خان اپنے آبائی گھر جوکہ کرنال میں واقع تھا وہاں سے دلی منتقل ہو گئے تھے‘ یہاں پر بھی ہر رات بلامبالغہ 20مہمانوں کیلئے نوابی سٹائل میں کھانا پکتا کیونکہ ہر شام سیاسی امورپر گفت وشنید کیلئے ان کے گھر لوگوں کا تانتا لگا رہتا جب پاکستان بنا تو جس عالی شان ذاتی گھر میں وہ دلی میں رہائش پذیر تھے وہ انہوں نے پاکستان ہائی کمیشن کے حوالے کردیا‘انکی 1947ء میں بھارت میں 20کروڑ روپے کی ذاتی پراپرٹی تھی۔

جو آج کی کرنسی میں بلامبالغہ اربوں روپے کی ہوتی پر جب وہ 1951ء میں پاکستان میں شہید ہوئے تو انہوں نے اپنے ورثاء کیلئے گھر تک نہ چھوڑا اور اسوقت انکابینک بیلنس صرف10ہزار روپے تھا جمشید مارکر کے مطابق لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد انکی اہلیہ کو اس لئے پہلے ہالینڈ اور بعد میں اٹلی بطور سفیر بھجوایاگیا تاکہ وہ کہیں ملک کے اندر رہ کر اپنے شوہر کے قتل کے کیس میں تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ نہ کردیں‘جمشید مارکر نے یہ بھی لکھا ہے کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے انہیں یہ بھی بتایا کہ چونکہ ان کے پاس نہ کھانے کیلئے پیسے تھے اور نہ رہنے کیلئے جگہ اور بچوں کی تعلیم کی فکر بھی ان کو تھی، اسلئے بہ امر مجبوری ان کو ہالینڈ اور اٹلی میں نوکری کرنا پڑی‘بیگم رعنا اکثر لیاقت علی خان کو یاد دلاتی رہتی تھیں کہ ہندوستان سے آئے ہوئے لاکھوں مہاجروں کو تووہ گھر میں الاٹ کررہے ہیں ایک گھر وہ اپنے لئے بھی تو الاٹ کرلیں کہ ہم بھی بے گھر ہیں تو وہ کہتے تھے کہ جب تک بھارت سے آئے ہوئے تمام مہاجروں کو گھروں کی الاٹمنٹ نہیں ہوجاتی میں اپنے لئے گھر کیسے الاٹ کروں‘ میرا ضمیر اس بات کی مجھ کو اجازت نہیں دیتا‘ قارئین ذرا خود غور کریں کہ وہ کس قدر دیانتدار شخص تھے۔