207

عملی اقدامات؟

وفاقی کابینہ کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں پی آئی اے اور سٹیل ملز کو فروخت نہ کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اطلاعات ونشریات کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بتایا کہ بہت سارے اداروں کو کہ جن کی کارکردگی بہتر نہیں تھی نجکاری کے لئے پیش کردیا گیا ہے مہیا تفصیلات کے مطابق حکومت نے اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر ‘فرسٹ وویمن بینک ماڑی پٹرولیم اور بلو کی پاور پلانٹ کو بھی نجی شعبے میں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے ایس ایم ای بینک اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور بھی پرائیویٹ سیکٹر کو دیئے جارہے ہیں وزیراطلاعات کہتے ہیں کہ نجکاری سے بہتر نتائج ملیں گے اور ملازمین کو سہولیات حاصل ہونگی وطن عزیز کی معیشت کو درپیش چیلنج اعداد وشمار کی روشنی میں انتہائی پریشان کن ہیں یہ صورتحال کسی بھی ریاست کے لئے تشویشناک ہی قرار دی جاسکتی ہے کہ جو ایک قرضہ کی قسط ادا کرنے کے لئے دوسرا قرضہ اٹھائے معیشت کی زبوں حالی کیساتھ سیاسی تناؤ اور کشیدگی کا سلسلہ بھی کم نہیں ہو پارہا گزشتہ دور حکومت میں حزب اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان شروع ہونے والی کشمکش انتخابات کے بعد بھی جاری ہے۔

اس ساری صورتحال میں گورننس کا فقدان دیکھنے کو ملا جس نے اداروں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرکے رکھ دیا سیاسی مداخلت اور خلاف میرٹ بھرتیوں نے کل کے منافع بخش اداروں کو آج تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بیل آؤٹ پیکج لینے پر مجبور کردیا چیک اینڈ بیلنس کے فقدان نے خدمات کے اداروں کی کارکردگی اس بری طرح متاثر کی کہ عام آدمی کے لئے سروسز کا حصول ممکن ہی نہیں رہا حکومتیں بجلی وگیس کے نرخ بڑھاتی چلی جارہی ہیں جبکہ یوٹیلیٹی بل دینے والے صارفین بجلی وگیس سے جڑی شکایات کے انبار لگاتے نظر آتے ہیں‘ ضرورت بعض اداروں کی نجکاری کیساتھ سرکاری ملکیت میں رہنے والے باقی ماندہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے فول پروف انتظامات کی بھی ہے‘ حکومت کو برسراقتدار آنے کیساتھ درپیش دیگر چیلنج اپنی جگہ ماضی میں جوہوا اور اس میں کیا عوامل کارفرماتھے‘ اس سے متعلق بحث میں پڑے بغیر اصلاح احوال کی جانب پیش قدمی ضروری ہے جس کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

بلوں کی ادائیگی

ہمارے سٹاف رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق شہری بجلی اور گیس کے بل مہینے کی آخری تاریخوں میں جمع کرانے کے حوالے سے سخت پریشانی کا شکار ہیں‘ غریب اور متوسط طبقے کے لئے گرانی کے اس دور میں ماہانہ اخراجات پورے کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے‘ ایسے میں مہینے کی آخری تاریخوں میں بل جمع کرانا پورے بجٹ کو متاثر کرتا ہے‘ اس کیساتھ بل کی آخری تاریخ سے اگلے ہی روز جرمانہ عائد ہوتا ہے جس میں دو سے تین روز کی گنجائش ضروری ہے‘ ضروری یہ بھی ہے کہ بل جمع کرانے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تمام بینکوں کو جاری ہدایات پر عمل درآمد بھی یقینی بنایاجائے‘ ان میں خواتین اور بزرگ شہریوں کو علیحدہ کاؤنٹر دیئے جائیں‘ قطار میں کھڑے ہونے والوں کے لئے سایہ دار جگہ اور پینے کے پانی کا انتظام بھی شامل ہے‘ عوام کے لئے بل کے اوپر اس بات کی آگہی بھی ضرو ری ہے کہ بل بینک کے علاوہ کہاں جمع ہو سکتے ہیں۔