148

وزیراعظم کا دورہ چین اور معیشت

سعودی عرب کے بعد چین نے بھی پاکستان کو اقتصادی پیکج دینے کا عندیہ دیدیا ہے‘ اس پیکج کا حجم 6ارب ڈالر بتایاجارہا ہے‘ اس میں ڈیڑھ ارب امداد‘ ڈیڑھ ارب قرض جبکہ تین ارب ڈالر سی پیک کی مد میں ہوں گے‘ وزیراعظم عمران خان کی چینی قیادت کیساتھ ملاقاتوں میں راہداری منصوبے میں ردوبدل نہ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے‘ چین کی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ منصوبوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو پراجیکٹس کی تعداد کم نہیں زیادہ ہوگی‘ وطن عزیز میں یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنیوالی حکومتوں نے ملکی انتظام سنبھالنے کے ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ ان سے پہلے کی حکومت نے معیشت کو نقصان پہنچایا اور بیرونی قرضوں میں اضافہ کیا‘ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے جبکہ قرضوں کا والیوم بھی بدستور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے‘ دوسری طرف کرپشن اور قومی خزانے کے بے دریغ استعمال نے صورتحال کو مزید پریشان کن شکل دیدی ‘ وزیراعظم عمران خان چین میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہتے ہیں کہ بدعنوانی کی بدترین شکل رقم کی غیر قانونی ترسیل ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک میں وائٹ کالرجرائم سے نمٹنا ہے‘۔

وہ قومی اداروں کے استحکام کو اولین ترجیح قرار دیتے ہیں‘ وہ اپنی ترجیحات کی فہرست میں غربت کم کرنے اور کرپشن کے خاتمے کو بھی شامل کرتے ہیں‘ قابل اطمینان ہے کہ سعودی عرب کے بعد چین نے بھی اقتصادی پیکج کا عندیہ دیدیا ہے‘ اس سے ایک جانب معیشت کو سہارا ملے گا تو دوسری طرف آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے آگے کچھ بند بندھ جائیگا‘ جہاں تک حکومتی عزم اور وزیراعظم کی اس کیلئے کوششوں کی بات ہے تو ان کو قابل اطمینان ہی کہاجاسکتا ہے تاہم جہاں تک سوال عوامی ریلیف کا ہے تو اس کو عملی صورت دینے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ عوام کو فی الوقت بجلی‘ گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ کے اندر گرانی کے طوفان نے بری طرح متاثر کررکھا ہے‘ حکومت اداروں کے استحکام کوترجیح ضرور قرار دیتی ہے لیکن اس وقت خدمات کا معیار اور سرکاری دفاتر کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ ایک جانب کچھ اداروں کو بیل آؤٹ پیکج دیئے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنے ملازین کو تنخواہیں ادا کرسکیں تو دوسری طرف کل منافع بخش اداروں پر فارسیل کے بورڈ لگ رہے ہیں‘ حکومت کو چاہئے کہ اب اپنے اس ایجنڈے کو عملی صورت دینے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے کہ جس کیلئے لوگوں نے بڑی امیدوں کیساتھ ووٹ دیا ہے۔

عالمی ادارے کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں صرف 9فیصد بچوں کو قابل قبول غذا میسر ہے‘ ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2030ء تک غذائی قلت کو ختم نہ کیاگیا تو خطے میں زبردست انسانی نقصان کا سامنا کرنا پڑیگا‘ اس سب کیساتھ ملک میں پینے کا صاف پانی سوالیہ نشان ہے‘ بڑے شہروں میں جہاں شہری سہولیات ہونے کا دعویٰ کیاجاتا ہے وہاں بھی سرکاری پائپ زنگ آلود اور بوسیدہ حالت میں سیوریج لائنوں کے اندر سے گزر رہے ہوتے ہیں‘ اس کیساتھ ملاوٹ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں مضر صحت کیمیکل ڈال کر انسانی زندگیوں سے کھیلا جارہا ہے‘ رپورٹ کے مندرجات اور موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔