377

خلائی دوڑ: ہنس کی چال

پاکستان کے فیصلہ سازوں نے ابھی اپنے پاؤں کے نیچے زمین کی وسعتوں اور گہرائیوں میں چھپی نعمتوں کی کھوج بھی نہیں کی‘ جو نسبتاً آسان ہے اور کم خرچ ہے لیکن وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ آئندہ چار سال میں کسی پہلے پاکستانی کو خلاء بھیج دیا جائے اب یہ الگ سوال ہے کہ وہ خلاء میں جا کر کیا کرے گا‘اوراس پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات سے ان پاکستانیوں کی زندگیوں میں کیا بہتری آئے گی جو خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں یعنی جنہیں ایک وقت کا کھانا بھی بمشکل اور ناکافی مل رہا ہے یا جنہیں صحت و تعلیم کے علاوہ پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضروریات میسر نہیں اور ایسے پاکستانیوں کی تعداد 90فیصد سے زیادہ ہے!سراسر خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے کہ فضائی تحقیقات سے متعلق کام کرنیوالے چینی ادارے ‘چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے تکنیکی تعاون سے پہلا پاکستانی خلاء میں بھیجا جائیگا اور اس حوالے سے چینی اور پاکستانی ادارے سپارکو کے درمیان معاہدہ بھی ہوچکا ہے۔ پاکستان رواں برس جولائی میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ون اور پاکستان ٹیکنالوجی ایوالیوشن سیٹلائٹ نامی سیارے خلاء میں بھیج چکا ہے‘ جسکا بنیادی مقصد دفاع ہے لیکن اس کی مدد سے نقشہ سازی‘ زراعت کی درجہ بندی اور تشخیص سمیت شہری اور دیہی منصوبہ بندی‘ ماحولیاتی نگرانی‘ قدرتی آفات کے انتظام سنبھالنے‘ ملک کی سماجی‘ اقتصادی ترقی کو بہتر بنانے اور پانی کے وسائل کے انتظام سے متعلق مدد لی جا سکے گی ۔

ساری کی ساری کہانی یہ ہے کہ پاکستان نے اپنا پہلا خلاء باز ایک ایسے وقت میں خلاء میں بھیجنے کا اعلان کیا‘ جب بھارت پہلے ہی سال 2022ء تک خلاء باز بھیجنے کے اِرادے کا اِظہار کر چکا ہے اور بھارت کے مریخ مشن سے شروع ہونے والا دنیا کا سستا ترین سپیس پروگرام نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں فلکیاتی پیش رفت ہو رہی ہے یا یہ محض ایک سیاسی اعلان ہے‘ اگر بھارت ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے‘ تو وہ اِس خلائی دوڑ میں امریکہ‘ روس اور چین کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا لیکن اگر پاکستان چین کی مدد سے خلاء بازی کا اعزاز حاصل کرتا ہے تو یہ اقدام خلائی سیاحت کے زمرے میں شمار ہوگا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان کے سپیس پروگرام سمیت سپارکو کی ازسرنو تشکیل کی جاتی اور اسے جدید خطوط پر استوار کیا جاتا بھارت کا خلائی ادارہ ہیومن سپیس فلائٹ پروگرام تشکیل دے چکا ہے جسکی پہلی خلائی گاڑی گگنیان میں تین بھارتی خلاء باز سفر کریں گے اور انہیں دسمبر 2021ء میں زمین کے گرد نچلے مدار میں بھیجا جائے گا‘ عالمی خلائی سٹیشن ہبل خلائی دوربین اور باقی انسان کی بنائی ہوئی سیٹیلائٹس بھی زمین کے گرد نچلے مدار میں ہی موجود ہیں۔

انکا گردشی دورانیہ تقریباً دو سے چار گھنٹوں کے بیچ ہوتا ہے‘ اسکے برعکس اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو اسکا حکومتی نظام 1990ء کے بعد سے کچھ اس طرح کا ہے کہ اگر پاکستان اپنے ہمسایوں خصوصاً بھارت میں کوئی بھی حرکت دیکھتا ہے تو اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے اس روایتی حریف سے آگے نکلا جائے‘حالیہ بیان بھی اسی جلد باز اور دیکھا دیکھی پالیسی کا جز معلوم ہوتا ہے۔ جیسے ہی بھارت نے 2022ء تک اپنا پہلا خلاء باز بھیجنے کی بات کی تو پاکستانی حکمرانوں کی حب الوطنی نے جوش مارا‘ اور انہوں نے بھارتی اعلان کے قریب 2 ماہ بعد یہ کہہ کر دنیا کو حیران کردیا کہ پاکستان بھی خلاء بازی کیلئے تیار ہے!پاکستانی خلائی ادارہ سپارکو 16ستمبر 1961ء میں قائم ہوا‘7 جون 1962ء کو سپارکو کی طرف سے ایک راکٹ لانچ کا مظاہرہ کیا گیا‘ اس راکٹ کو راہبر ون کا نام دیا گیا لیکن یہ صرف راکٹ تھا‘ جس کے ساتھ کوئی سیٹلائٹ یا خلائی گاڑی نہیں تھی۔

اسی طرح کے چھوٹے راکٹوں کی لانچ 1972ء تک جاری رہی لیکن رفتہ رفتہ سپارکو کو ملنے والے مالی وسائل اور حکومتی توجہ میں کمی آتی تھی۔ وہ ادارہ جو 1972ء میں تیاریاں کر رہا تھا کہ پہلا خلاء باز بھیجے لیکن 1980ء کی دہائی میں یہ ارادہ1990ء تک ملتوی کر دیا گیا‘بھارت درجنوں مواصلاتی سیارے اور خلائی رصدگاہیں زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے علاوہ 2008ء میں چاندریان ون نامی بھی خلائی گاڑی چاند کے گرد بھیج چکا ہے۔ اس بھارتی خلائی گاڑی کی ایک دریافت یہ بھی ہے کہ اس نے حال ہی میں چاند کی سطح کے نیچے پانی کی موجودگی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ بھارت نے پانچ نومبر 2013ء کو اپنی ایک مشین ’منگل یاں ون‘ مریخ کی طرف بھیجی اور یہ پہلی ہی دفعہ میں مریخ کے گرد مدار میں گردش کرنے لگی۔اب تک بھارت اپنی ہی سرزمین سے 100 سے زائد سیٹیلائٹس اور خلائی مشن لانچ کرچکا ہے‘سال 2018-19ء کیلئے سپارکو کا بجٹ 4ارب 70کروڑ روپے رکھا گیا جبکہ بھارتی خلائی ادارے کا سال 2018-19ء کا بجٹ قریب 190ارب روپے ہے۔