192

برآمد نمائش: نادر موقع

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین سیاسی و اقتصادی لحاظ سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے‘ جس سے دونوں ممالک کے درمیان اب تک 15نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں‘ چین نرالی قوم ہے‘ ساری دنیا اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے کوشاں ہے مگر چین اپنی درآمدی صنعت کو فروغ دینے اور دیگر ملکوں کو اپنی مصنوعات چین میں فروخت کرنے پر قائل کر رہا ہے اوراس سلسلے میں وہاں پہلی درآمدی نمائش جاری ہے‘ چین کیا ہے؟ یہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دوسری بڑی معیشت ہے اور ایندھن کا دوسرا بڑا عالمی خریدار بھی ہے‘چین سالانہ 2260ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات اور خدمات فروخت کرتا ہے جبکہ دنیا بھر سے 1840ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کا توازن زیادہ حوصلہ افزا نہیں‘پاکستان چین کو سالانہ ایک ارب 38 کروڑ ڈالر مالیت کی برآمدات کرتا ہے جبکہ چین سے سالانہ 9ارب 70کروڑ ڈالر مالیت کی درآمدات کرتا ہے‘اس طرح پاکستان چین کا تجارتی خسارہ میں سالانہ 8ارب 32کروڑ ڈالر ہے!چین کی مقامی معیشت میں طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور قریب چھ سال میں مصنوعات اور خدمات کی طلب دگنی ہوگئی ہے‘پاکستانی صنعت کار اور تاجر چین کیساتھ تجارتی خسارے کا بہت شور مچاتے ہیں۔

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے جہاں بچت کا رجحان بڑھ گیا ہے‘ وہیں وزیراعظم کیساتھ تاجروں اور صنعت کاروں کے مفت سیر سپاٹے بھی ختم ہوگئے ہیں‘ چین میں پہلی درآمدی نمائش کے شرکاء کو مفت سفر اور رہائش کی مد میں جیسے ہی پچاس فیصد ادائیگی کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا گیاتو دن رات پاکستانی برآمدات بڑھانے کیلئے ہلکان ہونیوالے صنعتکاروں کی ایک بڑی تعداد نے معذرت کرلی!قابل ذکر ہے کہ چین کی پہلی درآمدی نمائش میں 20ممالک کے 2800 سٹالز لگائے گئے‘پاکستانی صنعتکاروں کا مؤقف ہے کہ اس قدر بڑی نمائش سے کامیابی ملنے کے امکانات کم ہیں‘ماضی میں یہی صنعتکار حکومتی خرچ پر سال کا بیشتر وقت بیرون ملک گزارتے تھے‘حکومت نے برآمدات کرنے والوں کو 25 فیصد آمدن بیرون ملک رکھنے کی اجازت بھی دے رکھی ہے تاکہ وہ بیرون ملک ادائیگیاں کر سکیں لیکن اس سہولت کا بھی صنعتکاروں کی اکثریت نے غلط استعمال کیا ہے اور ایسے برآمدکنندگان کی تعداد انگلیوں پر شمار کی جا سکتی ہے‘ جنکی برآمدات سے پاکستان کو نسبتاً زیادہ فائدہ ہوا ہو‘ چین کی درآمدی نمائش میں سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ تو پاکستانیوں کو لینا چاہئے تھا۔

جنہیں وزیرِاعظم کے وفد کا حصہ ہونے پر فخر ہوتا۔ بینک آف چائنا نے درآمدی نمائش کو کامیاب بنانے کیلئے پاکستان میں فعال کردار ادا کیا اور صنعتکاروں کی ملاقاتیں طے کروانے کے علاوہ مترجم کی فراہمی کا بندوبست بھی کیا گیا لیکن پاکستانی صنعتکاروں کی جانب سے چین کی برآمدی نمائش میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہی جسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صنعتکار روایتی خریداروں امریکہ اور یورپی ممالک پر زیادہ توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں کیونکہ اس طرح انہیں اپنا سرمایہ امریکہ اور یورپی ممالک میں رکھنے اور وہاں کی شہریتیں حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے‘ اور اب پاکستان میں بھی معاشی و اقتصادی اصلاحات سے پریشان ہیں!چین کیا ہے؟ یہ عوامی جمہوریہ نہ صرف بڑے پیمانے پر مصنوعات اور خدمات کا خریدار ہے بلکہ وہ اپنی صنعتوں کو کم ترقی یافتہ ملکوں بھی منتقل کر رہا ہے ‘چین کی جانب سے درآمدی نمائش کا اقدام دنیا بھر میں چین کی بطور سنجیدہ‘مخلص اور طویل مدتی شراکت دار کی حیثیت کو اجاگر کر رہا ہے۔ چین کی درآمدی نمائش پاکستان کیلئے نادر موقع ہے‘ جسکے ذریعے پاکستان اپنی مصنوعات چین کی مارکیٹ میں متعارف کروا سکے گا اور اس طرح چین کیساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو قابو کرنے میں مدد ملے گی مگر اس حوالے سے پاکستانی تاجروں اور صنعت کاروں کو اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی اور گھبرا کر پیچھے ہٹنے کی بجائے اپنی مصنوعات کو اس قدر معیاری بنانا ہوگا کہ وہ دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں۔