225

یمن کی بیٹی

یمن کے دارالخلافہ صنعاکے شمال مغرب میں نوے میل کے فاصلے پر اسلم نام کا ایک پہاڑی گاؤں ہے گذشتہ ساڑھے تین سا ل سے جاری جنگ میں اس گاؤں کے مکینوں نے اپنے گھروں اور بازاروں کو ملیا میٹ ہوتے دیکھا ہے یوں تو اس ملک کے طول و عرض میں جگہ جگہ ملبے کے ڈھیراسکی تباہی اور بربادی کی داستانیں سنا رہے ہیں مگر اسلم آجکل عالمی میڈیا کی راڈار سکرین پر چھایا ہوا ہے اس گاؤں کی ایک پرانی عمارت میں بنے ہوئے ہیلتھ سینٹر میں ایک مغربی صحافی اور ایک فوٹو گرافر کسی نہ کسی طرح پہنچ گئے دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک میں جنگ کے دوران کسی بھی صحافی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔
اب یہ پرانی جنگ کیونکہ مغربی میڈیا کی سب سے بڑی خبر بن چکی ہے اسلئے ایک امریکی اخبار نویس جان ہتھیلی پر رکھ کر کسی نہ کسی طریقے سے اس دور دراز کے پہاڑی گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیااس جگہ کا انتخاب اس نے اسلئے کیا کہ وہ یہاں بچوں کے ہیلتھ سینٹرمیں ہونیوالی اموات کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا اسلئے وہ اسکی حالت زارخوددیکھناچاہتا تھا‘یہ گاؤںیمن کے صوبہ صدا میں واقع ہے اس کی اہمیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ حوثی قبائل کا گڑھ ہے اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ہے حوثی ایران سے اسلحہ لیکر سعودی عرب کی اتحادی افواج کیخلاف استعمال کررہے ہیں وہ صنعاکے علاوہ تین دوسرے بڑے شہروں پر بھی قبضہ کر چکے ہیں‘مارچ 2015 میں شروع ہونیوالی اس جنگ میں اب تک صدا نامی صوبے پراٹھارہ ہزار فضائی حملے ہو چکے ہیں نیویارک ٹائمز کیلئے کام کرنیوالا صحافی ڈکلان والش چھ برس قبل پاکستان سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر نکالا گیا تھا اسکے بعد وہ لندن سے رپورٹنگ کرتا رہا پچھلے چند ماہ سے وہ لبنان میں مقیم ہے اور آجکل جمال خشوگی کی ہلاکت کے بعد سعودی عرب کی تلاطم خیز سیاست کے بارے میں نت نئی خبریں بھیج رہا ہے۔

میں Declan Walsh کے بارے میں یہ جملہ معترضہ یمن کی المناک صورتحال پر لکھے ہوئے اس کالم میں شامل نہ کرتا مگر اسکی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ محاذ آرائی کا ذکر کیونکہ میں پہلے بھی کر چکا ہوں‘ اسلئے یہاں اسکی اس وجہ شہرت یا رسوائی سے صرف نظر ممکن نہیں امریکی صحافی کی اسلم نامی گاؤں کے شکستہ ہسپتال سے بھیجی ہوئی تصاویراٹھائیس اکتوبر کے اخبار میں شائع ہوئیں‘پہلے صفحے پر ایک بڑی تصویر سات سالہ عمل حسین کی ہے یہ بچی ہڈیوں کا ایسا ڈھانچہ ہے جسکے ارد گرد لگی کھال میں سے اسکی پسلیاں صاف نظر آ رہی ہیں بچی اپنا چہرہ دوسری طرف کئے موٹی موٹی خالی خالی سیاہ آنکھوں سے یوں دیکھ رہی ہے جیسے کسی کو بھی نہ دیکھنا چاہتی ہو اسے کسی انسان یا چیز کو دیکھنے کی خواہش ہی نہ ہو اسکے سر پرکسی خزاں رسیدہ درخت کی ٹہنیوں کی طرح سوکھے ہوئے بال یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ وہ زندگی اور موت کے اس پل صراط پرمزید رکنا نہیں چاہتی ‘وہ زبان خاموشی سے کہہ رہی ہے کہ یا تو زندگی بانہیں پھیلا کر اسے اپنی آغوش میں لے لے اور یا موت اسے اس اذیت ناک زندگی سے نجات دلا دے۔

اسکی ماں بھی اسکے بستر کے قریب کھڑی ہے ایک نرس ہر دو گھنٹے کے بعد اسے دودھ کا گلاس پلا دیتی ہے مگر وہ سب کچھ قے کر کے الٹ دیتی ہے صحافی نے لکھا ہے کہ اسکی ماں مسلسل اسکی الٹیوں اور پیچش سے خراب ہونیوالے بستر کی میلی چادر کو سکھانے کی کوشش کر رہی تھی ڈکلان کہتا ہے کہ بچی کاسانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اور اسکی پسلیاں تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں کچھ دیر بعدجب لیڈی ڈاکٹر میکیا مہدی اس بچی کو دیکھنے کیلئے آئی تو اس نے اسکے سوکھی چھڑی جیسے بازو کو ہاتھ میں لیا اور صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاLook ! No meat only bones. یہ تصویر اسی کیپشن کیساتھ اٹھائیس اکتوبر کے نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوئی اگلے دن کے اخبار میں ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ A searing portrait of a starving girl drew an impassioned response from readers یعنی ایک فاقہ زدہ لڑکی کی تڑپا دینے والی تصویرپر پڑھنے والوں نے شدیدجذباتی رد عمل کا اظہار کیا ہے اکثر لوگوں نے پوچھا ہے کہ یہ جنگ توساڑھے تین برس سے جاری ہے اور یہ تصویریں اب شائع کی جا رہی ہیں ایڈیٹر نے جواب میں لکھا ہے کہ اخبار اندر کے صفحات میںیمن جنگ کی خبریں کبھی کبھار دیتا رہا ہے مگر جنگ زدہ علاقوں میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہ تھی اسلئے تباہ شدہ دیہاتوں ‘ شہروں‘ بازاروں‘ گھروں اور ہسپتالوں کی تصاویر لینا ممکن نہ تھا ایڈیٹر نے تسلیم کیا ہے کہ جمال خشوگی کی ہلاکت نے یمن کی جنگ کو دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے پوچھا گیا ہے کہ نحیف و نزار بچی عمل حسین کی اتنی بڑی اور رلا دینے والی تصویر پہلے صفحے پر شائع کر کے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے اسکے جواب میں ایڈیٹر نے لکھاہے کہ اس طرح کے دردناک المیوں کی گواہی دینا اور مظلوم لوگوں کے دکھوں کو آواز دینا صحافیوں کی اولین ذمہ داری ہے۔

اخبار نے تسلیم کیا ہے کہ ہزاروں لوگوں کی ہلاکت اور لاکھوں کی تباہی اگر اتنی توجہ حاصل نہ کر سکی جتنی کہ ایک صحافی کی موت نے حاصل کی ہے تو یہ یقیناًمیڈیا کی غفلت کا نتیجہ ہے نحیف اور لاغر بچوں کی درد ناک تصاویر شائع کرنے کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یمن کی تباہی کی کہانی بہت پہلے سنا دینی چاہئے تھی مگر یہ ایک ایسی کہانی ہے جو صرف لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی اس المیے کے مکمل ابلاغ کیلئے عمل حسین جیسی مظلوم اور مضمحل بچی کی تصویر کی ضرورت تھی اسی قسم کی ایک تصویر اس شامی بچے کی بھی تھی جسکی لاش ترکی کے ساحل پر پڑی ہوئی تھی ‘ایلان کردی کے ماں باپ کہاں تھے اسکی لاش کیسے ساحل سمندر تک پہنچی اس ایک تصویر نے شام کی خانہ جنگی میں بے گھر ہونیوالے لاکھوں لوگوں کی زندگی کے المیے کو ہزاروں لفظوں سے زیادہ موثر انداز میں بیان کر دیاتھااس قسم کی پریشان کن تصویریں رائے عامہ کو متحرک کرتی ہیں اور حکومتوں کو جھنجوڑتی ہیں مگر انکی وجہ سے کیا کبھی کوئی تبدیلی آئی ہے کیا ایلان کردی کی تصویر کی وجہ سے شام کی خانہ جنگی ختم ہو گئی ہے کیا عمل حسین کی تصویر یمن کے اٹھارہ لاکھ فاقہ زدہ اور بیمار بچوں کو خوراک اورخوشحالی دے سکے گی۔

جس ملک کی نصف آبادی دو وقت کی روٹی کیلئے اقوام متحدہ کے کارکنوں کا انتظار کرتی ہو وہ اپنے بیمار بچوں کا علاج کیسے کرا سکتی ہے اٹھائیس ملین لوگوں کے ملک کو جب آئے روز فضائی حملے کر کے ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جائے تو وہاں زندہ کیسے رہا جا سکتا ہے اس سوال نے دو نومبر کے دن ایک مرتبہ پھر عالمی ضمیرپر دستک دی اس دن عمل حسین کی موت کی خبر دیر تک نیوز میڈیا پر گردش کرتی رہی‘ اس خبر میں لکھا تھا کہ ڈاکٹر میکیا مہدی نے دو روز پہلے یمن کی اس مظلوم بیٹی کی ماں سے کہا تھا کہ وہ اگر اسکی زندگی بچانا چاہتی ہے تو اسے پندرہ میل دور ایک بڑے ہسپتال میں لیجائے‘ عمل کا باپ جنگ میں مارا جا چکا تھا اور اسکی ماں کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ سواری کا بندوبست کر کے اسے بڑے ہسپتال میں لیجاتی وہ لوگوں سے التجا کرتی رہ گئی اور اسکی اکلوتی بیٹی اپنی ماں کو روتا چھوڑ کر ایک نئے اور انجانے سفر پر روانہ ہو گئی۔
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی