206

مچھلی اور کانٹا

دوستی کے اپنے اپنے طریقے ہوتے ہیں ‘ہم نے امریکہ سے دوستی کی ‘اس نے ہمیں گندم دی مگر گندم کی اضافی پیداوار کے طریقے نہیں سکھائے اس نے ہمیں ٹینک دیئے مگر ٹینک بنانے کی ٹیکنالوجی نہیں دی‘ اس نے ہمیں ہوائی جہاز دیئے مگر ان کی مرمت کا طریقہ نہیں سکھایا ‘اس نے ہمیں بے تحاشا اسلحہ دیامگرایک بندوق کی گولی بنانے کی بھی ٹیکنالوجی ہمیں منتقل نہیں کی‘ وہ ہمارا اتنا سچا دوست تھا کہ اس نے ہمیں ہمیشہ لو لا لنگڑا بنائے رکھا۔ ہم 1965تک خوش تھے کہ ہمارے لئے ہر چیز امریکہ مہیا کر رہا ہے‘ مگر ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ اگر خدا نخواستہ ہم کسی جنگ میں الجھ گئے‘جسکا ہمیں ہمیشہ خطرہ تھا اسلئے کہ ہم کو ہندوستان نے کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیاتھااورہمارے بہت سے پاکستانیوں نے بھی اس کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور آج تک وہ متحدہ ہندوستان کے گیت گا رہے ہیں ‘ہمارے تعلیم کے اداروں نے بھی ہمارے لئے آج تک ایسا سلیبس نہیں بنایا کہ جس سے ہمارے بچوں میں پاکستانیت اجاگر کی جاتی ہو‘ ہم سلیبس بھی دساور سے مستعار لیتے آئے ہیں جس بھی صاحب تعلیم نے جہاں سے ڈگری حاصل کی اس نے ہمارے بچوں کیلئے ویسا ہی سلیبس متعارف کروا دیااس طرح نہ ہم پاکستانی بن پائے‘ نہ انگریز بن سکے اور نہ امریکی ہی بن پائے۔ آج کل زیادہ سکالر وں کا رخ چین کی طرف ہے ہو سکتا ہے کہ یہ چالیس پچاس ہزار جب فارغ التحصیل ہو کر آئیں تو ہمارا سلیبس کیسا بنے‘ ہم نے جب 1965ء کی جنگ لڑی تو جنگ کے شروع ہوتے ہیں امریکہ کا حکم آ گیا کہ ہندوستان کیخلاف ہمارا دیا گیا اسلحہ استعمال نہیں کیا جا سکتا اسلئے کہ جو اسلحہ امریکہ نے پاکستان کو دیا تھا وہ کمیونسٹوں کیخلاف استعمال کے لئے دیا گیا تھا اور ہندوستان کمیونسٹ ملک نہیں تھا۔

اب یہ تو اس دلیر حکمران کی وجہ سے تھا کہ ہم نے وہ اسلحہ دیدہ دلیری کیساتھ ہندوستان کیخلاف استعمال کیا مگر یہ بھی ہم پر عیاں ہوا کہ اگر یہ اسلحہ ختم ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا‘ اسلئے کہ جنگ کے شروع ہوتے ہی امریکہ نے ہمیں اسلحہ دینا بند کر دیاتھااور ہمارے ایڈوانس دیئے گئے پیسے بھی ضبط ہو گئے جو ہم نے ایف 104جہازوں کی خریداری کیلئے دیئے تھے ہم نے ہندوستان کا مقابلہ سیبر جہازوں سے کیا جو ہندوستان کے جہازوں کے مقابلے میں بہت ہی کم کوالٹی کے تھے۔ یہ تو ہمارے پائلٹوں کی مہارت تھی کہ اس سکواڈ سے ہم نے ہندوستان کی ائر فورس کو ملیا میٹ کر دیا مگر جنگ کے خاتمے پر اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہوئی کہ ہم کوٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہئے‘ اس کے لئے ہم نے روس اور چین کا رخ کیا‘ان ملکوں نے ہماری اسلحے سے تو مدد نہ کی لیکن ہمیں ٹیکنالوجی منتقل کردی ‘چین کی مدد سے ہم نے واہ میں آرڈیننس فیکٹری کی بنیاد رکھی اور اس کیساتھ ہی ہم نے ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کی ٹیکنالو جی بھی حاصل کر لی او ر اب ہم یہ چیزیں خود بنا رہے ہیں اور انشا اللہ اب اگر ہم پر کسی طرف سے بھی جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہمیں 1965 والا عذاب نہیں دیکھنا پڑے گا‘اب ہمیں کسی بھی دوسرے ملک سے اسلحہ خریدنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر خدانخواستہ ہمیں کسی جنگ میں جانا پڑتا ہے تو ہمارے پاس دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے بہت کچھ ہے‘کہنے کامطلب یہ کہ ایک دوست نے ہمیں مچھلی دی کہ مزے سے کھاؤ اور دوسرے نے ہمیں کانٹا پکڑا دیا کہ خود مچھلی کا شکار کرو اور کھاؤ ‘ دراصل ہمار ا سچا دوست وہ ہے کہ جس نے ہمیں مچھلی شکار کرنے کی تربیت دی نہ کہ ہمیں اپنے شکار کی ہوئی مچھلی دے کر ہمیں اپاہج بنایا۔ہم نے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا تواس نے ہمیں ایک بڑی سٹیل ملز لگا کر دے دی تاکہ ہم لوہے کا استعمال کر کے اپنی ساری جنگی اور سول ضروریات پوری کر سکیں ‘ہم نے حال ہی میں ایک دوست ملک کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھایا تو اس نے ہمیں بہت سے ڈالر دے دیئے۔

جن کا حشر ہم وہی کریں گے جو اس سے پہلے ملنے والی امداد کیساتھ کیاہے‘ اس لئے کہ جب دولت ہاتھ میں آتی ہے تو وہ ہمیشہ غلط راستے اپنے خرچے کے لئے چن لیتی ہے‘جب کہ میرے وزیر اعظم اور اُن کے پیشتر وزراچین کے دورے پر ہیں جسکا اصل مشن تو اپنی معیشت کی بہتری کیلئے امداد حاصل کرنا تھا مگر لگتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح چین ہماری مالی مدد نہیں کریگا بلکہ وہ ایسے طریقے ہمیں بتائے گا کہ جس سے ہم خود اپنی اکانومی کیلئے وسائل جنریٹ کر لیں‘ اسلئے چین سے ڈالر تو مل نہیں رہے ہاں ایک اچھی بات یہ ہو گئی ہے کہ چین سے تجارت کا حجم زیادہ ہو گیا ہے جو ہمیں امداد سے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے‘اس سے ہماری مدد بھی ہو جائے گی اور کسی کا قرض بھی نہیں ہو گا۔ایک سچے دوست سے یہی توقع رکھنی چاہئے کہ وہ آپ کو بھیک دے کر اپاہج نہیں بنائے گا بلکہ روپے جنریٹ کرنے کہ مشین بنا دے گا۔