184

افغان ا من عمل

امارت الاسلامیہ افغانستان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں طالبان کے سابق سپریم کمانڈر ملا محمد عمر مجاہد کے دست راست ملا عبدالغنی برادر کی پاکستانی قید سے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالی کی خاص رحمت اور مخلص مسلمانوں کی دعاؤں کی برکت سے امارت اسلامیہ کے سابق نائب سربراہ ملا برادر اخوند 9 سال قید کے بعد خیر و عافیت سے رہا ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں‘واضح رہے کہ ملا عبد الغنی برادر جوملا برادراخوند کے نام سے بھی مشہور ہیں نے امارت اسلامیہ کے قیام اور امریکی جارحیت کیخلاف مزاحمت شروع کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاتھا‘ امریکی محکمہ خارجہ نے ملا عبد الغنی برادر کی رہائی کی خبروں کی توثیق کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی رہائی کابل کی جانب سے طویل عرصے سے کئے جانیوالے مطالبے کی تکمیل ہے‘ یاد رہے کہ اکتوبر کے وسط میں امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ڈاکٹر زلمے خلیل زاد کی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان سے ملاقات ہوچکی ہے جس میں افغان مسئلے کے پرامن حل کیلئے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا ، جس کے بعد 2 ہفتوں سے بھی کم وقت میں ملا عبد الغنی برادر کی رہائی عمل میں آئی ہے جسے افغان امور کے ماہرین طالبان امریکہ مذاکرات کے تنا ظر میں ایک بڑا بریک تھروقرار دے رہے ہیں ‘ دوسری جانب کابل میں واقع پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کے توسط سے کہا ہے کہ افغان طالبان کے اسیر رہنما ملا عبدالغنی برادر کو افغان امن عمل میں تعاون کیلئے رہا کیا گیا ہے‘۔

افغان میڈیا نے اپنے ذرائع سے بتایا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے رواں ماہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام سے ملا برادر کو رہا کرنے کی درخواست کی تھی‘ملا عبد الغنی برادر کی رہائی سے متعلق ایک بیان میں امارت الاسلامیہ نے کہاہے کہ تمام مسلمانوں کی خوشی کی خاطر ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جناب ملابرادر اخوند کی صحت بہتر ہے اور دوسرا یہ کہ ان کی رہائی کے سلسلے میں کسی قسم کا معاملہ اور واسطہ سرانجام نہیں ہوا ہے‘ امید ہے ان کی رہائی سے امارت اسلامیہ کی متحد اور منظم صف کو مزید تقویت ملے گی‘ دریں اثناء امارت اسلامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک وضاحتی بیان میں امریکہ کی جانب سے بعض طالبان رہنماؤں پر حال ہی میں عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے متعلق کہا گیاہے کہ ہمیں یہ اطلاعات ملی ہیں کہ امریکی وزارت خزانہ اور چند عرب ممالک نے امارت اسلامیہ کے چند رہنماؤں پر معاشی پابندیاں لگا دی ہیں‘امارت اسلامیہ کے مذکورہ رہنماؤں میں سے کسی کا بھی امریکہ کیساتھ کوئی معاشی معاملہ نہیں ہے، لہٰذا یہ پابندیاں نمائشی اور بے اثر ہیں‘دوسرا یہ کہ اس طرز عمل سے امریکہ افغان تنازعہ کو گفتگو، افہام وتفہیم اور تعقل کے ذریعے حل کرنا نہیں چاہتابلکہ طاقت اور دباؤ کے آپشن کو استعمال کررہا ہے۔

‘جسکا نتیجہ گذشتہ سترہ برسوں میں صفر رہاہے۔اسی طرح وہ عرب ممالک جو امریکہ کیساتھ اس اقدام میں شریک ہیں‘ انہیں چاہئے کہ امریکی اشارے پر اسلامی ممالک اور مسلمان اشخاص پر پابندیاں نہ لگائیں‘افغانستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے یہاں کے باشندے اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں اور امریکہ کو اس امر پر مجبور کیاجائے گا کہ وہ اپنی ناجائز جنگ‘ پابندیوں اور ظالمانہ اعمال کا خاتمہ کریں۔راہ حل کا واحد طریقہ یہ ہے کہ افہام وتفہیم‘ تعقل اور حقائق کو تسلیم کیاجائے اگر امریکہ اس کے علاوہ دیگر طریقوں پر غور کررہا ہے تو مستقبل کے برے انجام کی ذمہ داری اسی پر عائدہوگی‘اس تمام تر صورتحال بالخصوص ملا عبدالغنی برادرکی رہائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سوالات کا جواب ضرور تلاش کیا جانا چاہئے کہ آخر وہ کم سے کم نکات کون سے ہوں گے جن پر اتفاق کی صورت میں امریکہ اور طالبان کسی حتمی مفاہمت پر پہنچ پائیں گے‘کیا ایسی کوئی مفاہمت افغان حکومت خاص کر شمالی اتحاد کے بااثرگروپ کو قبول ہوگی جس میں طالبان کے وجود اور ان کے سیاسی کردار کو تسلیم کرنے کے امکانات ہوں گے۔اسی طرح طالبان جن پر پاکستان کا کنٹرول تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیاہے اور جن کے بارے میں خود افغان حکومت اور امریکی انٹیلی جنس ادارے یہ رپورٹ دے چکے ہیں کہ ان کو ایران اور روس کی جانب سے سپورٹ مل رہی ہے ایسے میں ایک سابق طالبان رہنما کی رہائی طالبان کو امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی میزپر بٹھانے میں کیوں کر اور کس حد تک معاون ثابت ہو سکے گی یہ وہ سولات ہیں جن کا جواب تلا ش کئے بغیرامریکہ طالبان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے بارے کوئی بھی حتمی رائے کم از کم اس سٹیج پر قائم کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل تر ضرور ہوگا۔