196

منظم سازش

جمعیت علماء اسلام (س) نے الزام لگایا ہے کہ ان کے قائد مولانا سمیع الحق کے قتل میں بیرونی عناصر ملوث ہیں‘ مولانا مرحوم کے اہل خانہ‘ دارالعلوم حقانیہ‘ ان کی جماعت اور ہزاروں چاہنے والوں اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ مذکورہ قتل اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس میں بھارتی‘ افغان اور دیگر عناصر ملوث ہیں‘ جنہوں نے ایک نازک وقت کا انتخاب کرکے وار کیا ہے‘ مولانا سمیع الحق کا قتل درحقیقت ایک ایسی سازش ہے‘ جسکے ذریعے پاکستان پر وار کیا گیا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ پاکستان ایک محب وطن رہنما سے محروم ہو گیا ہے۔ اپنی جگہ حیرت انگیز امر یہ بھی ہے کہ مولانا سمیع الحق جیسے بلند پایہ رہنما کو سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی جبکہ ہم تیسرے اور چوتھے درجے کے رہنماؤں کے ہمراہ درجنوں سیکورٹی گارڈ اور حفاظتی حصار دیکھتے ہیں! پھر یہ قتل بھی ملک کے سب سے زیادہ محفوظ سمجھے جانے والے بحریہ ٹاؤن کے اندر ہوا ہے‘ جے یو آئی (س) کے مطابق مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ طالبان اور دیگر گروپوں سمیت افغان حکومت کے درمیان ثالثی کا مثبت کردار ادا کیا۔ مولانا سمیع الحق پاکستان کے مفادات اور خطے کی سیاست کو سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں بناء کسی عہدے و لالچ کوشاں رہے۔ خفیہ اداروں کو چاہئے کہ وہ مولانا کے اصل قاتلوں کو گرفتار کرکے نہ صرف سازش بے نقاب کریں بلکہ قاتلوں اور انکے مقامی سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے‘ جمعیت علمائے اسلام (س) کے جاری کردہ بیان میں یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ افغان حکومت نے اکتوبر میں مولانا سمیع الحق سے درخواست کی تھی کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کریں ۔

تاہم جب وہ مولانا کو قائل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے دارالعلوم حقانیہ کیخلاف منفی باتیں پھیلانا شروع کردیں‘ جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘مولانا سمیع الحق کی شہادت بلاشبہ سانحہ اور ملک و ملت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے‘ جس سے ملک نہ صرف جید عالم دین بلکہ اہم سیاسی رہنماء سے بھی محروم ہوگیا ہے بلکہ انکی علمی ادبی اور روحانی شخصیت کی وجہ سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں ہو سکے گا‘ اکوڑہ خٹک میں قائم انکا دینی مدرسہ دارالعلوم حقانیہ تشنگان علم و عمل کیلئے چشمہ فیض تھا‘جہاں سے ہزاروں طلبہ نے دینی اور دنیاوی تعلیم کیساتھ معرفت کی منزلیں بھی طے کیں‘ مولاناصاحب پاکستان ہی نہیں‘ افغان مملکت میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا احیاء چاہتے تھے اور اس مقصد کیلئے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر رکھی تھی۔ وہ دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے بھی اس خطہ میں اسلام کی سربلندی کیلئے کوشاں رہے۔ جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن اور پھر سینیٹر کی حیثیت سے انہوں نے قومی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے سلگتے قومی ایشوز پر متعدد آل پارٹیز کانفرنسوں کا بھی انعقاد کیا۔ تحریک انصاف سے ان کے گلے شکوے تھے‘ لیکن وہ سب سے زیادہ اگر کسی سیاسی جماعت کے قریب دیکھے گئے تو وہ تحریک انصاف ہی ہے‘ مولانا سمیع الحق ایک دردمند پاکستانی اور سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہی وجہ تھی کہ طاغوتی طاقتوں کو کانٹے کی طرح کھٹکتے رہے‘ملک و ملت کو درپیش جن حالات میں مولانا سمیع الحق کا قتل ہوا‘ اس حوالے سے بھی قوم اور قومی سیاسی و دینی قیادتوں کیلئے گہرے تفکر کا متقاضی ہے کہ اس وطن عزیز کی خودمختاری و سلامتی کیخلاف چاروں جانب سے اغیار کی گھناؤنی سازشوں کا سلسلہ جاری ہے جو پاکستان کو دہشت گردوں کی سرپرستی کا موردالزام ٹھہراکر جوہری ٹیکنالوجی اور خودمختاری کے درپے ہیں۔

اس وقت چونکہ طالبان کیساتھ امریکی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے سے افغانستان میں امن کی بحالی کا امکان پیدا ہورہا ہے جسکے بعد بھارت کیلئے افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنا عملاً ناممکن ہو جائے گا‘ اس لئے ممکنہ طور پر بھارت کی کوشش افغان امن مذاکراتی عمل سبوتاژ کرنے کی ہوگی چونکہ مولانا سمیع الحق کے شاگرد افغان طالبان ہی امریکہ کیساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں‘ اس لئے بھارت اور افغان حکومت سے کوئی بعید نہیں کہ انہوں نے امن مذاکراتی عمل سبوتاژکرنے کیلئے ہی مولانا سمیع الحق کو راستے سے ہٹانے کی مشترکہ سازش تیار کی ہو ‘مولانا سمیع الحق کی شہادت کے پس پردہ جو بھی عوامل و محرکات کارفرما ہیں‘ ان کا خفیہ اداروں کو بہرصورت کھوج لگا کر معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہئے جبکہ آج ملک کی سلامتی کے تقاضوں کی بنیاد پر قومی سیاسی اور دینی قیادتوں کے مابین اتحاد و یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔