195

مہنگائی اور تیل کا قضیہ

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت یوں تو ملک کو درپیش ہر مسئلے پر کھل کر اظہار خیال کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی لیکن جس انداز میں مہنگائی کا ذکر سرے سے کیا ہی نہیں جارہا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو تو ایسی سوچ کو سلام کیساتھ اطلاعاً عرض ہے کہ پاکستان میں مہنگائی چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے‘ صرف اکتوبرمیں مہنگائی میں سات فیصد اور رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں اسکی شرح میں پانچ اعشاریہ پچانوے فیصد اضافہ ہو چکا ہے ماہ ستمبر کے مقابلے میں ماہ اکتوبر میں گیس کی قیمتوں میں ایک سو پانچ فیصد‘ چکن کی قیمت میں بتیس فیصد‘ انڈے کی قیمت میں چودہ فیصد اور سگریٹ کی قیمت میں چودہ فیصد سے زیادہ اضافہ اپنی جگہ ایسی حقیقت ہے‘ جسکا اثر پہلے سے معاشی مشکلات کا سامنا کرنیوالی ملک کی اکثریتی آبادی کیلئے برداشت سے باہر ہے‘حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے تو اس پر نظر رکھی جائے اور مہنگائی کا اثر عام آدمی کی بجائے معاشرے کے ان طبقات پر زیادہ منتقل کیا جائے جو مالی سکت رکھتے ہیں! تعجب خیز ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں گوشت گیارہ فیصد‘ ڈرائی فروٹ دس فیصد‘ تعمیرات میں استعمال ہونے والی اشیاء دس فیصد‘ مصالحہ جات دس فیصد‘ واٹر سپلائی گیارہ فیصد‘ مٹی کا تیل چھتیس فیصد جبکہ موٹر فیول کی قدر میں چھبیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ تو ہے تصویر کا ایک رخ جس میں حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں سے متعلق ہے‘ جہاں امریکہ کی درپردہ اجارہ داری صاف ظاہر ہے اور امریکہ ایران تناؤ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے!مرکزی خیال یہ ہے کہ امریکہ ایران کے جوہری عزائم کو لیکر ایک مرتبہ پھر عالمی اقتصادیاں پابندیاں عائد کرنا چاہتا ہے اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اسکے باعث منڈیوں میں غیر مستحکم بیلنس کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا‘ رواں ہفتے کے آغاز پر تمام نگاہیں ایرانی برآمدات پر مرکوز رہیں کہ امریکی پابندیوں کا اطلاق کہاں تک ہوگا اور کتنی تیزی سے تیل کی پیداوار اس سے متاثر ہوگی۔ وسط مدتی انتخابات کے موقع پر امریکہ کی سیاسی قیادت ایران سے تیل کے خریدار ممالک کو اپنا ہدف بنانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ عوام میں مقبولیت کا گراف بلند ہو اور تہران کے ذرائع آمدن کو کم سے کم کیا جاسکے‘ لائق توجہ ہے کہ امریکہ صرف اقوام متحدہ ہی کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے دوست ممالک کے ذریعے بھی ایران کو سبق سکھانا چاہتا ہے اور وہ اپنے اتحادی ممالک کو قائل کر چکا ہے کہ وہ ایران سے تجارتی معاہدوں سے گریز کریں۔

جب ایران سے تیل کی برآمدات شروع ہوتی ہیں تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں تاکہ ایران کا فائدہ کم ہو جیسا کہ گزشتہ ماہ پچاسی ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں پندرہ ڈالر فی بیرل کمی ہوئی۔ تاہم کچھ عرصے بعد امریکہ کے اِس متعلق رویئے میں نرمی دیکھنے میں آئی جو کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر اور معاشی مسائل میں الجھے ہوئے ملک کے لئے خوش آئند پیشرفت تھی! دو روز قبل امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومیو کی جانب سے آٹھ ممالک کے نام لئے بغیر اعلان کیا گیا کہ انہیں ایران سے تیل خریدنے کی اجازت ہوگی۔ ترکی کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا کہ ان آٹھ ممالک میں وہ بھی شامل ہے جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت‘ جو دنیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے‘ اسکا نام بھی اس فہرست میں شامل ہوسکتا ہے۔ بھارت نے امریکہ سے کہا تھا کہ اسے کرنسی بحران کا سامنا ہے اور وہ مارچ سے قبل ایران سے درآمدات کو چھوڑ نہیں سکتا اگر آنیوالے دنوں میں کسی دوسرے تیل کے پیداواری ملک کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا یا تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا تو یہ امریکہ پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے جو نئی پابندیوں کی جانب چلا جائے گاصورتحال پاکستان کے نکتہ نظر سے تشویشناک ہے کیونکہ جس طرح امریکہ بھارت کے مفادات کا خیال کرتا آیا ہے اگر اِسی طرح پاکستان کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھے تو ہمسایہ ملک ایران سے بذریعہ پائپ لائن تیل و گیس اور سستی بجلی حاصل کرکے پاکستان کی بے قرار معیشت کو حالت سکون میں لایا جا سکتا ہے! بصورت دیگر کوئی ایسا نظام نہیں جس میں کم اور زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقات کے لئے پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں الگ الگ مقرر ہوں۔