135

افغان امن کانفرنس میں بھارت کیوں؟

روس میں پہلی افغان امن کانفرنس9 نومبر کو ہورہی ہے پہلی اس لحاظ سے کہ اس میں طالبان بھی شریک ہیں قطر میں طالبان کے دفتر نے اسکی تصدیق کی ہے کہ وہ شریک ہونگے ‘یہ اس لحاظ سے بھی پہلے مذاکرات کہے جاسکتے ہیں کہ ان میں امریکہ شریک نہیں‘ اس سے پہلے طالبان کا موقف یہ رہا ہے کہ کابل انتظامیہ کٹھ پتلی ہے اصل فریق امریکہ ہے اور امریکہ سے ہی مذاکرات ہوسکتے ہیں مگر اب وہ ایک وسیع کانفرنس میں اسلئے شریک ہو رہے ہیں کہ اس میں چین‘ بھارت‘ ایران اور پاکستان کے علاوہ وسط ایشیائی ریاستیں بھی شامل ہونگی‘ اس طرح ایک علاقائی سطح کی کانفرنس میں زیادہ کھل کرباتیں ہوسکیں گی‘ جہاں تک چین اور ایران کی شرکت کا تعلق ہے تو ان کا افغان مسئلے سے تعلق اس حوالے سے بنتا ہے کہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ جیسے عالمی منصوبے کے اہم اور بڑے حصے سی پیک کی تکمیل کیلئے خطے میں امن ناگزیر ہے‘ چین ترقی کا یہ سفر افغانستان سے گزارنے کا خواہاں ہے اور موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں اور ایران سے تو افغانستان کی سرحدیں ملتی ہیں تو پاکستان کی طرح بدامنی کے اثرات براہ راست آتے ہیں۔

اس وقت بھی ایران میں افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود ہے اس طرح وہ افغانستان میں بدامنی کا متاثرہ فریق ہے‘ وسط ایشیائی ریاستوں کی گرم پانی کی بندرگاہوں تک رسائی کا مختصر اور آسان راستہ افغانستان سے ہوکرہی گزرتا ہے‘ اگر افغانستان میں امن ہو تو وہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں تک اپنی برآمدات لاکر دنیا کو بھیج سکتے ہیں اور اسی راستے اپنی درآمدات وصول کرسکتے ہیں بلکہ پائپ لائن بچھا کر اپنا تیل بھی پاکستان تک لا سکتے ہیں‘اسلئے ان ممالک کی اقتصادی و تجارتی ترقی کی راہ میں بھی افغانستان کی بدامنی اور بدانتظامی حائل ہے مگر بھارت کی اس کانفرنس میں شرکت کا بظاہر کوئی جواز نہیں بنتا اگر ہماری بات پر کسی کو اعتراض ہو تو تاریخی طورپرافغانستان کے حالیہ مسائل اور بھارت کے کردار کا جائزہ لے لیتے ہیں جو ایک مفاد پرست اور موقع سے فائدہ اٹھانے والے سے زیادہ نہیں رہا‘یہ الگ بات ہے کہ امریکہ اپنے علاقائی تسلط کے منصوبے کے تحت بھارت کو افغانستان میں کردار دینے کا خواہاں ہے اگر 1978ء میں سوویت یونین کے افغانستان میں داخل ہونے سے شروع کریں تو اس وقت بھارت یو ایس ایس آر کا اتحادی تھا اور ساری دنیا کے برعکس سوویت یونین کے اس عمل کا حامی تھا آٹھ سالہ مزاحمتی جنگ میں وہ سوویت یونین کیساتھ کھڑا رہا اسکے بعد افغان حکومت کی تشکیل میں شمالی اتحاد سے راہ ورسم بڑھا کر انتشار پھیلانے میں کوشاں رہا بھارت کی ہلہ شیری سے ہی افغانستان میں مستحکم حکومت نہ بن سکی اور اس باہمی لڑائی کی وجہ سے طالبان میدان میں آئے۔

انہوں نے مجاہدین کو کابل سے باہر نکال دیا اس صورتحال میں بھارت نے مجاہدین کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے طالبان کو پاکستان کی پیداوار کہا اور نئی خانہ جنگی کو ایندھن فراہم کرنے لگا‘عجیب منافقت ہے کہ بھارت ایک طرف طالبان کیخلاف تھا مگر جب امریکہ نے طالبان کیخلاف جنگ کا اعلان کیا اور 9/11 کے بعد کابل پر حملہ کیلئے بھارت سے تعاون کی درخواست کی تو اس نے کسی قسم کے تعاون سے انکار کردیا‘اسکے برعکس پاکستان نے اس آگ کا ایندھن بننے کا فیصلہ کرلیا اگرچہ یہ فیصلہ پاکستان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوا مگر بھارت کے عدم تعاون کے باوجود امریکہ اسکو افغانستان میں مسلط کرنا چاہتا ہے جبکہ پاکستان کے تعاون اور قربانیوں کے باوجودالزامات ہی لگاتا ہے‘بھارت نے اس صورتحال کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف سردجنگ کھول دی افغانستان میں ’را‘ کے دفاترقائم کئے مختلف گروہوں سے روابط بڑھائے جنکے ذریعے افغانستان میں دہشت گردی کرواکر اسکا الزام پاکستان پر لگانے اور انہی گروہوں کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے اکسانے پر زور دیا وہ بلوچستان میں ناراض قبائلی سرداروں کے ذریعے تخریب کاری کیلئے بھی افغانستان کی سرزمین کواستعمال کرتاہے اور امریکی گٹھ جوڑسے افغانستان میں گھس بیٹھا ہے‘۔

تین عشروں پر محیط اس بحران اور جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا جبکہ چین‘ ایران‘ روس اور وسط ایشیائی ریاستوں سمیت کسی نہ کسی حد تک نقصان اٹھاتے رہے مگر آج بھارت مزید نفع کمانے کیلئے افغانستان کے مسئلے کا فریق بنا ہوا ہے‘ روس میں ہونیوالی امن کانفرنس میں بھارت کی شمولیت ایک ایسے فریق کی ہے جو بدامنی اور انتشار سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے اور اب بھی افغانستان میں امن کے خلاف ہے اب تو افغانستان میں داعش کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ واضح ہو چکاہے اسکے باوجود بھارت ایسا ملک ہے جس نے افغانستان کی جنگ اور خانہ جنگی سے فائدہ اٹھایا ہے سب سے بڑا فائدہ تو پاکستان کیخلاف دوطرفہ محاذ کھولنا ہے اسلئے جب تک امن عمل میں بھارت کو شریک رکھا جائیگا وہ امن نہیں ہونے دیگا۔