111

پاک چین تجارت‘ ہوم ورک کی ضرورت

پاکستان اور چین نے باہمی تجارت اپنی کرنسی میں کرنے کافیصلہ کیا ہے دونوں ملکوں نے باہمی تجارت میں توازن اور سی پیک منصوبوں کیساتھ سیاحتی تبادلے تیز کرنے پربھی اتفاق کیا ہے‘ماہرین اقتصادیات پاکستان اور چین کے اپنی کرنسی میں تجارت کو خطے میں امریکی بالادستی کیلئے چیلنج قرار دیتے ہیں تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر چین کے مستقبل کے حوالے سے پیغام بھی گیا ہے عین اسی روز جب وزیراعظم عمران خان کی ملاقاتوں کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہورہا تھا خیبرپختونحوا میں رشکئی اکنامک زون کی تعمیر کے لئے چینی کمپنی سے معاہدے کی منظوری دی گئی موجودہ عالمی منظرنامے میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کا فروغ یقیناًقابل اطمینان ہے اس سے امریکہ سمیت پوری دنیا کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک واضح تصویر جائے گی جہاں تک سی پیک اور اس سے جڑے منصوبوں اور پاک چین تجارت میں اضافے کے اقدامات کا سوال ہے تو اس کیلئے خود پاکستان کے ذمہ دار اداروں کو ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا امن وامان کی صورتحال میں بہتری کیساتھ متعلقہ اداروں کی کارکردگی میں نکھار ضروری ہے۔

سرکاری شعبے میں چھوٹے موٹے تعمیراتی کام اپنی تکمیل میں طویل وقت لیتے ہیں ہمارے اداروں کے درمیان باہمی رابطوں کا فقدان عیاں ہے‘ ہمارا ایک محکمہ سڑک بناکر فارغ ہوتا ہے تودوسرا اس میں لائن بچھانے کیلئے اگلے روز دوبارہ پوری سڑک اکھاڑدیتا ہے‘ ہماری پے درپے برسراقتدار آنیوالی حکومتیں پورے خیبرپختونخوا کیلئے ایک برن سنٹر کو آپریشنل نہ کرسکیں‘ سرمایہ کار بجلی گیس کا کنکشن حاصل نہیں کرپاتے ‘دوسری جانب سرمایہ کاری کے نام پر اربوں روپے کے بینک قرضے ہڑپ ہوجاتے ہیں حکومتی مراعات سرمایہ کار سمیٹ لیتا ہے جبکہ ٹیکس اور ڈیوٹی کا بوجھ صارف پر گرادیا جاتا ہے ایسے حالات میں جبکہ سرمایہ کاری اور صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کے معاہدے طے پارہے ہیں مرکز اور صوبوں کے ذمہ دار اداروں کو ابھی سے ہوم ورک کاپابند بناناضروری ہے تاکہ معاہدوں کے ثمرات بروقت حاصل کئے جاسکیں۔

پشاور میں کارپارکنگ؟

وطن عزیز کے دوسرے شہریوں کی طرح پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ روز بروز شدت اختیار کرتا چلا جارہا ہے صوبائی دارالحکومت کے معروف تجارتی مراکز میں تجاوزات‘ تہہ بازاری اور ازخود سڑکوں پر رسیاں باندھ کر گاڑیاں پارک کرنے کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ایسے میں ضرورت سرکاری سطح پر اہم اور معروف علاقوں میں پارکنگ کے انتظام کی ہے‘ پشاور میں تکنیکی مہارت سے لیس ٹریفک پلان کی ضرورت تو اپنی جگہ ہے اس وقت ضرورت پارکنگ کے لئے باقاعدہ پلان کی بھی ہے جس میں ہر علاقے کے حوالے سے واضح ہوکہ مارکیٹ میں گاڑیاں کہاں پارک کی جائیں‘ اس سب کے ساتھ اس وقت بعض مقامات پر وصول ہونے والی پارکنگ فیسوں سے متعلق بھی شہریوں کو آگاہ کیا جائے کہ یہ کس محکمے کی جانب سے ہیں اور ان کی شرح کیا ہے تاکہ جگہ جگہ ہونے والے ان لڑائی جھگڑوں سے بچا جاسکے جو بعض ڈنڈا برداروں کے ساتھ فیس کے معاملے پر شہریوں کے ہوتے رہتے ہیں۔