100

صرف ایک دورہ کافی نہیں

وزیراعلیٰ محمود خان نے گزشتہ روز صوبے کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال لیڈی ریڈنگ کا دورہ کیا‘ وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور رکن اسمبلی جمشیدالدین کا کا خیل بھی ان کے ہمراہ تھے ‘ اس دورے میں انہوں نے خود مریضوں کی شکایات نوٹ کیں اور ان سے متعلق رپورٹ طلب کی ‘وزیراعلیٰ ہسپتال کے مختلف شعبوں میں گئے اور خدمات کی فراہمی کا جائزہ لیا‘ برسرزمین حقائق کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے محکمہ صحت کو ریفرل سسٹم کے آڈٹ کا حکم بھی دیا وزیراعلیٰ مریضوں کو غیر ضروری طور پر پشاورمنتقل کرنے کی بجائے مقامی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کا کہتے ہیں تاکہ ان کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت اپنے دوسرے دور میں بھی ہیلتھ سیکٹر کو ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہے اس ضمن میں حکومتی اقدامات سے انکاربھی ممکن نہیں صحت انصاف کارڈ جیسے بڑے منصوبے کیساتھ علاج کی سہولیات یقینی بنانے کیلئے وافر فنڈز بھی جاری ہوئے خالی اسامیوں پرتقرریاں بھی ہوئیں اس سب کیساتھ سرکاری علاج گاہوں میں انتظامی امور کے حوالے سے تجربات کا ایک لا متناہی سلسلہ یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتوں میں جاری ہے۔

تاہم غریب مریض جو پرائیویٹ اداروں میں علاج نہیں کراسکتے اب بھی خدمات کی عدم فراہمی اور حاکمانہ رویوں کی شکایت ہی کرتے ہیں اتنے سارے اقدامات کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان کی آمد پر ہسپتالوں کو ہدایت نامے بھی جاری ہوتے ہیں تاکہ ان کے دورے کے وقت سب اچھا ہو ‘ حکومت کے متعدد اقدامات اور وافر فنڈز مریضوں کے لئے صرف اس وجہ سے ثمرآور ثابت نہیں ہو پا رہے کہ ہمارے ہاں چیک اینڈ بیلنس کا کوئی فول پروف نظام ہے نہ ہی ذمہ دار حکام خود اپنے آرام دہ دفتروں سے باہر آ کر صورتحال کا از خود جائزہ لیتے ہیں یہ بات صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں خدمات کے دیگر اداروں میں آن سپاٹ جائزے کی ضرورت موجود ہے ‘ وزیراعلیٰ کا لیڈی ریڈنگ کا دورہ قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس کے فوائد اس قسم کے دوروں کے تسلسل اور جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل درآمد سے جڑے ہیں۔ حکومت کومد نظر رکھنا ہو گا کہ کسی بھی ریاست میں شہری تبدیلی کااحساس میونسپل سروسز ‘ رواں ٹریفک ‘ کنٹرولڈ مارکیٹ اور خدمات کے اداروں میں اچھے رویوں اور بہتر سروسز سے پاتے ہیں انہیں اقتصادی اشاریوں اور میگا پراجیکٹس سے اس وقت تک دلچسپی نہیں ہوتی جب تک وہ ریلیف نہیں پاتے۔

ہاؤسنگ منصوبہ؟

وطن عزیز میں نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کو فائلوں سے نکال کر عملی صورت دینے کی تیاریاں جاری ہیں پنجاب کے دو شہروں میں سنگ بنیاد اگلے ماہ رکھے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے بڑھتی آبادی میں رہائش گاہوں کی ضرورت کا احساس و ادراک قابل اطمینان ہے نئے منصوبے کیساتھ ضرورت قواعد و ضوابط کی پابندی کیساتھ نجی ہاؤسنگ سکیموں کو سپورٹ دینے کی بھی ہے ہمارے ہاں اچھی رہائشی بستیاں سیوریج بجلی‘ گیس اور رابطہ سڑکوں کے نہ ہونے پر ویران پڑی رہتی ہیں جبکہ یہ سہولیات ملنے پر وہاں زمین کی قیمت غریب کی دسترس سے باہر ہر جاتی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سکیموں کو حکومت کی جانب سے سہولیات اس شرط پر دی جائیں کہ زمین کی قیمت عام آدمی کی پہنچ ہی میں رہے رہائش جیسے بڑے مسئلے پر قابوپانے کے لئے نجی شعبے کیساتھ باہمی تعاون بہتر نتائج دے سکتا ہے ۔