60

امکانات کی دنیا!

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سمیت اِنسداد بدعنوانی کے اِدارے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں کہ پاکستان سے منی لانڈرنگ کو روکا جائے‘ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اب تک کم سے کم 30ایسے بینک کھاتوں کا سراغ لگایا ہے‘ جن کے ذریعے قریب 10ارب روپے کی لین دین ہوئیں۔ یہ بے نامی اکاؤنٹس بارہ سے پندرہ ہزار ماہانہ پر کام کرنے والے آٹھ گھریلو ملازمین کے نام پر ہیں۔ منی لانڈرنگ میں استعمال ہونے والے مذکورہ اکاؤنٹس خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں بشمول سوات‘ کالام‘ بونیر‘ بشام اور پشاور میں بنائے گئے‘ جن میں ملوث افراد کے شناختی کارڈ سمیت دستیاب معلومات اسٹیٹ بینک کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ اس وقت زیادہ توجہ کا باعث بنا تھا جب چھ جولائی کو ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی سمیت تین دیگر افراد کو منی لانڈرنگ کے الزامات میں حراست لیا تھا۔اس معاملے پر سپرئم کورٹ کی جانب سے نوٹس لیا گیا اور عدالت عظمیٰ نے تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تاہم ایف آئی اے کی جانب سے جہاں ایک طرف اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں وہیں ملک بھر میں فالودہ فروش‘ رکشہ ڈرائیورز اور دیگر افراد کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن سامنے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حال ہی میں ایک رکشہ ڈرائیور کے بینک اکاؤنٹ سے ساڑھے آٹھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی تھی‘ماہرین اقتصادیات کی رائے میں مالیاتی بدنظمی‘ جملہ مسائل کی جڑ ہے۔

حکومتوں کو خرچ کرنا تو پسند ہے مگر وسائل کی بچت اور ترقی جیسا کھٹن کام پسند نہیں اور پاکستان کے دوستوں سے‘ بھیک مانگ کر خوش ہوتے ہیں۔ تین برس کے عرصے میں ہم ہر کسی کے سامنے دست طلب دراز کرچکے ہیں اور ہمارا کشکول دن بہ دن بڑا ہوتا جارہا ہے اور بھکاری کبھی اقوام عالم میں باعزت مقام حاصل نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی وسائل کو منظم کرنے کی کوششیں ڈگمگا رہی ہیں‘ آئی ایم ایف نے کسی نہ کسی کی مدد حاصل کرنے پر ہمیں خبردار کیا کہ اپنے معاملات خود درست کریں‘ اس وقت جب ہم اہداف حاصل نہ کرنے کے عادی ہوچکے تھے اور کہا کہ ہم ملک میں سے ہی محاصل اکھٹا کریں اور دوستوں سے چیک کاٹنے کی امید نہ رکھیں۔ پاکستان کی موجودہ اقتصادی پریشانیوں کے لئے‘ کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟ ناعاقبت اندیش‘ قرض لینے والے‘ کوئی مفروضہ نجات دھندہ اور ہماری غیر ذمہ دار حکومت سب ہی کو برابر الزام دیا جاسکتا ہے‘ موجودہ معاشی بگاڑ ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے تاہم اس سے نکلنے کے امکانات موجود ہیں اور وہ یہ ہیں کہ معاشی نظم و ضبط بہرصورت برقرار رکھا جائے‘ پالیسی سازوں کیلئے ترجیحات واضح ہیں۔ حکومت اگر کم آمدنی رکھنے والے عوام کی بجائے سرمایہ داروں کو ہدف بنائے تو ’ود ہولڈنگ ٹیکس وصولی‘ کے روایتی طریقوں میں بہتری سے کئی ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔

عام آدمی ہر روز اپنی استطاعت سے زیادہ ٹیکس ادا کررہے ہیں‘ جو ود ہولڈنگ ایجنٹ مثلاً ریسٹورنٹ کے مالک سے لیا جاتا ہے لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ ہولڈنگ ایجنٹ کے ذریعے وصول ہونے والا ٹیکس حکومت کے کھاتے میں جمع بھی ہو رہا ہے! ود ہولڈنگ ٹیکس کے طریقے ہیں اصلاح سے ایک اندازے کے مطابق ڈھائی سے تین سو ارب روپے مزید حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ کیا ہمیں اس ذیل میں ٹیکس اصلاحات نہیں کرنی چاہئیں؟ زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا براہ راست ٹیکس سے مستثنیٰ ہونا مبنی بر انصاف اور مساوات نہیں۔ بڑے زمینداروں نے زراعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو براہ راست ٹیکس نیٹ سے الگ کر رکھا ہے تو وقت ہے کہ سرمایہ داروں کو نچوڑا جائے‘ جنہوں نے نہ صرف ٹیکس چوری کی ہے بلکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے اور ساکھ دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ وقت ہے کہ قومی مجرموں سے دو دو ہاتھ کئے جائیں!