54

تدریس و سیاست سے مقام شہادت تک

یہ غالباً 1993ء کی بات ہے راقم نے ان دنوں یورپ کے نوآزاد مسلم ملک بوسنیا پر ڈھائی جانے والی قیامت کے حوالہ سے اپنے ٹوٹے پھوٹے خیالات کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیاتھا اور ان دنوں اسکے مسودے پربڑے بڑے رہنماؤں کے تبصر ے حاصل کرنے کاشوق چرایاہواتھا اسی سلسلہ میں مولانا سمیع الحق کیساتھ رابطہ ہوا اوران سے اپنی خواہش بیان کی یہ ان کیساتھ پہلارابطہ تھا مگر انہوں نے کمال محبت وشفقت کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رہائش گاہ آنے کی دعوت دی چنانچہ ایک دوست کو ساتھ لے کر اکوڑہ خٹک پہنچے مولانا سمیع الحق باہر تشریف لائے کتا ب کامسودہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بہت حوصلہ افزائی فرمائی ساتھ ہی اپنے جریدے الحق کیلئے لکھنے کی دعوت بھی دی جو خاکسار کیلئے بڑی سعاد ت کی بات تھی پھر انہوں نے مسودہ لے لیا اورکچھ دنوں بعدان کی طرف سے اپنے خیالات کااظہار ایک جامع تبصرے کی صورت میں سامنے آگیا پہلی ملاقات میں ہی مولانا کی سادگی اور ملنسار ی نے اپنا گروید بناڈالا تھا اس روز جب مولانا سمیع الحق کی شہادت کی خبر سنی تو پچیس سال قبل کاسارامنظر نگاہوں کے سامنے گھوم گیا ویسے مولانا سمیع الحق کی شہاد ت پر انسان کیونکر افسوس کرے کیونکہ اس قدر بلند مقام اوروہ بھی جمعہ کے مبارک دن ملنا ہر کسی کے نصیب میں کہاں ہوتاہے‘۔

مولانا اپنی سیماب صفتی کی وجہ سے کبھی آرام سے نہیں بیٹھے جس کاااندازہ اس امر سے لگایاجاسکتاہے کہ شہادت سے ایک روز قبل چارسد ہ میں ایک کانفرنس سے خطاب کیا پھرشہادت کے روز جب اسلام آباد روانہ ہورہے تھے تو ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا اسلام آباد میں بھی احتجاج میں شریک ہوناتھا مگر راستے بندہونے کی وجہ سے پنڈی اپنی رہائش گاہ چلے گئے جہاں شہادت ان کی منتظر تھی ‘ مولانا سمیع الحق 18دسمبر 1937کو پیدا ہوئے تھے ان کاشمار ملک کے اہم دینی قائدین میں ہوتاہے وہ ان دنوں جے یو آئی س کے علاوہ دفاع پاکستان کونسل کے بھی سربراہ تھے مولانا سمیع الحق تین بار ایوان بالا کے رکن رہے پہلی بار وہ 1985سے 1991ء سے سینٹ کے رکن رہے بعدازاں 1991سے 1997ء تک اور ایم ایم اے کے دور میں 2003ء سے 2009ء تک سینٹ کے رکن رہے تاہم اس بار وہ سینٹ کے الیکشن کیلئے کھڑے تو ہوئے مگر کامیاب نہ ہوسکے مولاناسمیع الحق پولیو ورکرز پرحملوں کے خلاف تھے مولانا سمیع الحق کو بابائے دینی اتحاد کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ دینی بنیاد وں پر اکثر اتحاد انہی کی کوششوں سے بنے 1988ء میں جب اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی )کے نام سے انتخابی اتحاد بنا تو اس میں ان کابھی بھرپورکردارتھا اور انکی جماعت بھی اس کاحصہ بن گئی تھی۔

بے نظیربھٹوکی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے متحدہ علماء کونسل قائم کی بعدازں شریعت بل کے معاملہ پر نوازشریف کیساتھ اختلافات کی وجہ سے آئی جے آئی چھوڑ دی تو دسمبر 1992میں متحدہ دینی محاذ قائم کیا اسی طرح دسمبر 1995میں تحریک تحفظ مدارس دینیہ کی بنا ڈالی اسی طرح اگلے سال فرقہ ورانہ ہم آہنگی کیلئے 1996ء میں ملی یکجہتی کونسل کے قیام میں اہم کرداراداکیا 2001ء میں جب امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیا تو انہوں نے دفاع افغانستان وپاکستان کونسل کے نام سے دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پراکٹھا کیاجس نے پر2002ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے نام سے انتخابی اتحاد کی شکل اختیار کی تاہم 2007ء میں انہوں نے ایم ایم اے سے علیحدگی اختیار کرلی 2013کے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے متحدہ دینی محاذ کو بحال کیا تاہم حالیہ عام انتخابات سے قبل جب دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کو بحال اورفعال کیاگیاتو رابطوں کے باوجود انہوں نے ایم ایم اے میں شمولیت سے انکار کردیاتھا ان کے قتل میں غیر ملکی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کابھی شبہ ظاہر کیاجارہاہے اس حوالہ سے جامع تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ ان کے قتل کے تمام محرکات سامنے لائے جاسکیں ۔