168

اس گھر میں جمائما کیسے رہتی تھی؟

یہ ان دنوں کے قصے ہیں جب عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال زیر تعمیر تھا اور وہ دنیا بھر میں فنڈ ریزنگ ڈنر اور کانسرٹ کررہا تھا‘ یہ حقیقت ہے کہ ایسے ڈنر بھی ہوئے جن میں خواتین نے اپنے زیور اتار کر عمران خان کی جانب اچھال دئیے‘ اس مہم میں نہ صرف مشہور راک سنگر مائک جیگر شامل تھا بلکہ نصرت فتح علی خان نے بھی اپنی گائیکی اس کے لئے وقف کردی‘ انہی زمانوں میں دلدار پرویز بھٹی اس کے ایک شو کی میزبانی کرنے کے لئے نیویارک گیا اور دماغ کی رگ پھٹنے سے اس کا انتقال ہوگیا‘ مجھے امید ہے کہ عمران خان‘ دلدار پرویز بھٹی کو وزیراعظم ہونے کے بعد کبھی نہ کبھی یاد کرے گا‘ جب وہ سیاست کے کوچے میں آیا تو نہایت ’’چول‘‘ قسم کے سیاستدانوں نے کہا کہ یہ تو ایک بھک منگا ہے‘ لوگوں سے چندے مانگتا پھرتا تھا‘ اگر پیمانہ یہی ہے تو اس صدی کا سب سے بڑا انسان عبدالستار ایدھی بھی تو بھیک مانگتا تھا‘ اپنے لئے نہیں خلق خدا کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے مانگتا تھا‘ ان دنوں شوکت خانم ہسپتال کے احاطے میں جتنے بھی فنڈ ریزنگ فنکشن ہوتے‘ زبردست نوعیت کے کھانے ہوتے‘ مجھے ان میں مدعو کیا جاتا‘ خان صاحب کے پرائیویٹ سیکرٹری ایک عجیب اتفاق ہے مستنصر نام کے تھے اور وہ کارڈ بھیجنے کے علاوہ فون پر یاد دہانی کرواتے کہ عمران خان نے خصوصی طور پر کہا تھا کہ آپ ضرور شامل ہوں اور میں شامل ہوتا اگرچہ مجھے یقین ہوتا کہ بقیہ سینکڑوں مہمانوں کو فون کرکے خان صاحب کا یہی ’’خصوصی‘‘ پیغام پہنچایا جاتا تھا‘ ان موقعوں پر محض رسمی سلام دعا ہوتی یہاں تک کہ جب پرنسس ڈیانا شوکت خانم کے احاطے میں جلوہ گر ہوئیں تو خان صاحب سے رسمی دعا سلام بھی نہ ہوئی۔

‘عمران خان نے جب سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تو ان دنوں جاپان کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن چینل نے ان کے بارے میں ایک طویل ڈاکومنٹری تیار کی ان کے پاکستانی نمائندے نے مجھ سے رابطہ کیا کہ پاکستان کے صرف چند لوگوں کو انٹرویو کے لئے چنا گیا ہے اور میڈیا اور ادب کے شعبے سے آپ ان کے بارے میں گفتگو کریں گے‘ میں نے کہا کہ حضور میں بالکل تیار ہوں البتہ ایک گزارش ہے میں ایک پروفیشنل میڈیا پرسن ہوں‘ یہ میرا روزگار ہے‘ آپ فرمائیں کہ عمران خان کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے آپ مجھے کتنی ادائیگی کریں گے؟ پاکستانی نمائندے ذرا دنگ رہ گئے‘ کہنے لگے ’’تارڑ صاحب ہمیں درجنوں لوگ فون کررہے ہیں کہ ہم اس ڈاکومنٹری میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں‘ میں نے پھر گزارش کی کہ آپ ان کے انٹرویو کرلیں‘ میں ادائیگی کے بغیر شامل نہیں ہوسکتا‘‘ اس پر موصوف کہنے لگے ’’تارڑ صاحب اس ڈاکومنٹری کو کروڑوں لوگ دیکھیں گے‘ جاپان کے بچے بھی آپ سے واقف ہوجائیں گے‘‘ میں اب قدرے ترش ہوگیا اور کہا ’’بے شک میں جاپان کے طول و عرض میں مشہور جاؤں گا لیکن اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا‘ میں نے تو جاپان جانا ہی نہیں اور جہاں تک مشہوری کا معاملہ ہے تو یقین کیجئے کہ اس سلسلے میں میں پاکستان میں خودکفیل ہوں‘‘‘ قصہ مختصر جاپانی ٹیلی ویژن نے مجھے ادائیگی بہت مناسب کردی۔

یہ انٹرویو اسلام آباد کے ایک لاج میں ہوا‘ بہت مختصر کرتا ہوں جو کچھ میں نے آن ریکارڈ کہا یعنی میری خواہش ہے کہ عمران سیاست کی دلدل میں قدم نہ رکھیں‘ یہاں بہت دغا باز‘ فریبی اور دو نمبر لوگ ہیں‘ ایسے کوے ہیں جن کے درمیان اگر کوئی ست رنگ پرندہ آجائے تو اسے نوچ کھاتے ہیں‘ وہ اگر اپنے آپ کو خلق خدا کی فلاح کے لئے وقف کئے رکھیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا‘ انہی کرکٹ کی عادت ہے اگر مخالف بیٹسمین کو آؤٹ کردیا تو سر جھکا کر پویلین کا رخ کرلے گا لیکن سیاست میں اگر آپ اس کی تینوں وکٹیں اڑا دیں تو وہ پھر بھی کریز پر کھڑا رہے گا اور کہے گا میں تو ناٹ آؤٹ ہوں کر لو جو کرنا ہے‘ تو عمران خان اگر سیاست میں نہ آئیں تو اس ملک کے لئے اور ان کے لئے بہتر ہوگا‘ بعد ازاں مجھ تک خبر پہنچ گئی کہ عمران خان نے میری گفتگو کو پسند نہ کیا لیکن ذرا دیکھئے تو سہی کہ آج کیا ہورہا ہے‘ درجنوں مہمان سیاست دانوں کی تینوں وکٹیں جڑ سے اکھڑ کر فضائے بسیط میں پرواز کررہی ہیں اور وہ کریز پر کھڑے ہیں کہ ہم تو ناٹ آؤٹ ہیں‘ ہم ہرگز پویلین کو واپس نہیں جائیں گے‘ گرینڈ الائنس بنائیں گے‘ میری آخری ملاقات عمران خان کے گھر زمان پارک میں ہوئی‘ انہوں نے مجھے رات کے کھانے کے لئے مدعو کیا‘ مجھے حیرت ہوئی کہ زمان پارک کا یہ گھر بہت ہی سادہ بلکہ کسی حد تک بوسیدہ تھا‘ صوفے پرانے تھے اور پردے بھی اپنا رنگ کھو چکے تھے‘ مجھے اس لئے بھی حیرت ہوئی کہ جمائما ان دنوں اسی گھر میں مقیم تھی‘ تو وہ شاندار شکل والی سنہری چہرے والی ارب پتی خاتون آخر کیسے اس گھر میں رہتی ہے‘ اس دوران عمران خان مجھ سے بہت فرینڈلی نہ ہوئے‘ انہوں نے کچھ سوال کئے اور میں نے حسب توفیق جواب دئیے لیکن میں نے محسوس کیا کہ یہ ایک ایسا شخص ہے جو پاکستان کے لئے فکرمند ہے‘ ڈنر ٹیبل پر آراستہ کوئی پرُتکلف طعام نہ تھا‘ ایک دیسی سادگی تھی۔

میں نے نوٹ کیا کہ عمران خود یونہی خوراک پر چونچیں مار رہے ہیں‘ کھاتے کچھ نہیں اور بہت اصرار کے ساتھ مجھے کھلا رہے ہیں کہ یہ لیجئے یہ بھی چکھئے‘ بہت مدت ہوچکی زمان پارک کی اس شب کو. اور مجھے صرف یہ یاد ہے کہ میں سوچتا تھا کہ آخر جمائماایسے گھر میں کیسے رہتی ہے اور عمران خان کے چہرے پر پاکستان کے لئے ایک فکرمندی تھی‘ اور وہاں میں نہایت آسانی سے دعویٰ کرسکتا تھا کہ عمران خان نے مجھے ذاتی طور پر اپنے گھر ڈنر کے لئے مدعو کیا تو اس نے کہا کہ آپ اس ملک کے مایہ ناز ادیب اور ٹیلی ویژن کی مزید مایہ ناز شخصیت ہیں تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ تحریک انصاف میں شامل ہوکر پاکستان کی تقدیر جگا دیں‘ نہیں ہرگز نہیں‘ اس ڈنر ڈیٹ پر عمران خان نے ملکی صورتحال‘ ثقافت اور ادب کے بارے میں مجھ سے کچھ سوال کئے‘ مجھے قطعی طور پر تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت نہ دی‘ بفرض محال اگر وہ دعوت دیتا تو بھی شاید میں قبول نہ کرتا‘ اگر میں نے سیاسی ہونا ہوتا تو ضیاء الحق کے اٹھ جانے پر‘ پیپلز پارٹی کی جانب سے نیشنل اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے دعوت قبول کرلیتا‘ مجھے ان دنوں صرف ’’خلائی مخلوق‘‘ سے شکایت ہے اس نے یہ کیسی دخل اندازی کی کہ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ‘ شیخوپورہ‘ فیصل آباد وغیرہ سے نون لیگ کثرت سے جیت گئی‘ عمران خان کی کیسی پشت پناہی کی کہ وہ سادہ اکثریت کے لئے دھکے کھاتا پھرتا یہاں تک کہ ایم کیو ایم کے دروازوں پر دستک دیتا‘ خلائی مخلوق مجھے تم سے بہت گلا ہے‘ اگر تم نے بدنامی لینی تھی تو عمران خان کے الیکشن ڈبے میں کم از کم دو سو نشستیں تو ڈال دیتی‘ خلائی مخلوق اگر ہوتی تو ایسا ہوتا‘ الیکشن میں خلائی نہیں خدائی مخلوق تھی جس نے عمران خان کو ووٹ دیا‘ آپ چیک کرلیجئے میرے انگوٹھے پر سیاہی کا ایک نشان ہے اور میں خدائی مخلوق ہوں۔