170

گندم کی امدادی قیمت 1300 روپے من مقرر

 اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) نے50 ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے، گندم کی امدادی قیمت بڑھا کر1300 روپے فی من کرنے کی بھی منظوری دے دی جبکہ پی ایس اوکو فوری طور پر بیل آوٹ کیلیے60 ارب 50کروڑ فراہم کرنے کی سمری موخرکر دی ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمرکی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں ای سی سی نے 50 ہزار ٹن یوریا فوری طور پر درآمد کرنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ مزید 50 ہزار ٹن جنوری میں درآمد کی جائے گی۔

علاوہ ازیں کھاد کی مقامی پیداوار شروع کرنے کیلیے فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک فرٹیلائزر کو گیس کی فراہمی کی اجازت دے دی ہے، پاکستان اسٹیٹ آئل کو سرکلر ڈیٹ کی مد میں  60 ارب 50 کروڑ کا بیل آؤٹ دینے کی سمری موخر کردی، اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں موجود اسلامی کمرشل بینکوں نے تیل کی درآمد کو فنانس کرنے کی حامی بھری ہے، تقریباً 13 اسلامی بینکوں کا کنسورشیم پی ایس اوکو200 ارب روپے کی فنانسنگ کریگا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسٹیل ملز ملازمین کو ستمبرکی تنخواہوں کی ادائیگی کی بھی منظوری دیدی، اسٹیل ملز ملازمین کی بیواؤں کی اب تک کی رکی ہوئی پنشن ادا کرنے کی بھی منظوری دے دی، بیواؤںکی پنشن کیلیے ایک ارب روپے فراہم کرنے کی منظوری بھی دیدی گئی۔ البتہ ہدایت کی گئی ہے کہ وزارت پیداوار اسٹیل ملزکا مسئلہ مستقل بنیادوں پر کرنے کی تجویز لیکر آئے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اسٹیل ملزکے ملازمین کی آئندہ 3ماہ کی تنخواہ بھی جاری کی جائیگی، اجلاس میں سارک فوڈ بینک میںگندم کا ذخیرہ40 ہزار ٹن سے بڑھا کر 80 ہزار ٹن کرنے کی منظوری دے دی، ای سی سی نے گندم کی سپورٹ قیمت 1300 روپے فی من مقرر کر دی گئی ہے ۔