74

احتساب کا احتساب

تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نیب سے متعلق قانون میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘ اس سلسلے میں حکومتی نمائندوں اور حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان احتسابی عمل کو صاف و شفاف بنانے کیلئے بیورو سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کی پیشکش پر غیرمعمولی مشاورت ہوئی ہے جو اپنی نوعیت کی نہایت ہی اہم پیشرفت ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں حکمران جماعت اور حزب اختلاف کی جماعتوں نواز لیگ و پیپلز پارٹی کے رہنما اگر سرجوڑ کر بیٹھے ہیں تو کیا یہ عوام کے بھلے کیلئے ہے؟ اصولی بات یہ ہے کہ نیب کا قانون اور ادارہ اس لئے قائم نہیں کیا گیا تھا کہ اس پر عملدرآمد کیا جاتا لیکن جب نیب نے غیرسیاسی ترجیحات کے تحت عملدرآمد شروع کیا ہے تو ہر طرف سے چیخ و پکار سنائی دینے لگی ہے‘ نیب سے متعلق حکومت اور حزب اختلاف ایک مؤقف کا اظہار کر رہی ہے اور یہی سب سے زیادہ مشکوک بات ہے‘عجب ہے کہ احتساب کے ادارے کو مزید فعال بنانے کی بجائے احتساب کے احتساب پر قانون ساز متفق ہوئے ہیں اور سیاسی طور پر بظاہر مختلف النظریات ذہن ایک مؤقف پر قائل دکھائی دے رہے ہیں!اس پورے معاملے کو غیرضروری طور پر خفیہ رکھنے سے بھی شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے کیونکہ ذرائع ابلاغ میں یہ اجلاس تو رپورٹ ہوا لیکن اسکے حوالے سے کوئی بھی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جس سے تفصیلات معلوم ہوتیں!کچھ ذرائع کے مطابق حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان اس معاملے پر اب تک 2ملاقاتیں ہو چکی ہیں!

اور حزب اختلاف کا یہ دعویٰ اضافی حیرانگی کا باعث ہے کہ نیب قانون میں اصلاحات لانے کے معاملے پر بات چیت کا آغاز تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ وفاقی وزیروں نے بیوروکریٹس کو نیب سے ڈرے بغیر اپنے فرائض انجام دینے کا کہا ہے اور نیب کی جانب سے سیاستدانوں کے خلاف حالیہ اقدامات کے باعث حکومت کو ملک میں سرمایہ کاری لانے میں مسائل کا سامنا ہے۔ ماضی میں نواز لیگ دور میں بھی بیوروکریٹس کو نیب کے خوف سے کام کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا تھا‘نیب قانون میں ترامیم لانے کیلئے تحریک انصاف سے زیادہ نواز لیگ متمنی ہے‘ جسکے مرکزی صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں پانچ اکتوبر سے نیب کی حراست میں ہیں اور اس کے علاوہ ان پر پنجاب میں 56 کمپنیاں بنانے کے معاملات میں بھی ہوئی مالی و انتظامی بدعنوانیاں اور بے قاعدگیاں زیرتفتیش ہیں‘حکومت نواز لیگ پر جتنی بھی تنقید کرے لیکن شہباز شریف کو نیب سے پناہ دینے میں بھی حکومتی تعاون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں اور یہی وجہ تھی کہ جب نیب قوانین سے متعلق ترامیم کیلئے خاموشی سے اجلاس طلب کیا گیا توحزب اختلاف کی جماعتیں سر کے بل چل کر پہنچ گئیں!تحریک انصاف پہلے ہی اپنے قول و فعل سے نرمی کا عندیہ دے چکی ہے اور سپیکر اسمبلی کی جانب سے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے پر شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی گئی۔

پورا سچ یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان میں بلاامتیاز اور بے رحم احتساب نہیں چاہتی اور بالخصوص سیاستدانوں کے ماضی کا احتساب نہیں ہونا چاہئے‘ ایک ایسا این آر او تشکیل پا رہا ہے‘ جس میں تحریک انصاف اپنا فوکس ماضی کی بجائے مستقبل پر رکھے گی!اگر حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں میں اتفاق یونہی برقرار رہتا ہے تو اگلا مرحلہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا ہوگا‘ جس کیلئے نواز لیگ پہلے ہی اپنی جانب سے نامزدگیاں حکومت کو بھیج چکی ہے ‘2013ء میں بھی اسی قسم کی کوشش نواز لیگ کی جانب سے دیکھنے میں آئی جب اقتدار سنبھالنے کے بعد نیب کو این اے سی سے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تاہم پیپلزپارٹی نے نواز لیگ کا ساتھ نہیں دیا اور اب حیرت انگیز طور پر تحریک انصاف نے ماضی کی غلطیوں پر پشیمان نواز لیگ اور پیپلزپارٹی قیادت کو موقع فراہم کیا ہے اور مدعو کیا ہے کہ وہ غلطی کی اصلاح کر لیں! جسکا درپردہ مقصد اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ نیب کو مزید مضبوط کرنے کی بجائے اس حد تک غیرمؤثر کر دیا جائے کہ اس سے ماضی حال اور مستقبل کے سیاستدانوں اور سرکاری ملازمین کو برائے نام خطرہ بھی باقی نہ رہے۔